جام کمال اور عبدالقدوس بزنجو کے مابین معاملہ حل کرلیا، چیئرمین سینیٹ

ای میل

صادق سنجرانی نے کہا کہ اب بلوچستان اسمبلی اور حکومت کے درمیان کوئی مسلہ نہیں ہے — فائل فوٹو / ڈان آرکائیوز
صادق سنجرانی نے کہا کہ اب بلوچستان اسمبلی اور حکومت کے درمیان کوئی مسلہ نہیں ہے — فائل فوٹو / ڈان آرکائیوز

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور اسپیکر عبدالقدوس کے درمیان معاملے کو بات چیت سے حل کر لیا گیا ہے۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبد القدوس بزنجو نے اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وزیر دفاع پرویز خٹک سے ملاقات کی۔

مزیدپڑھیں: بلوچستان حکومت میں اختلافات،اسپیکر کی وزیر اعلیٰ کےخلاف تحریک استحقاق

اس موقع پر صادق سنجرانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال ہماری جماعت کے سربراہ ہیں اور وہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'اب بلوچستان اسمبلی اور حکومت کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے'۔

صادق سنجرانی نے کہا کہ 'ہم جام کمال کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور وہ ہی وزیر اعلی رہیں گے'۔

علاوہ ازیں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن کی طرف سے تھی جبکہ موجودہ معاملہ پارٹی کے اندر اختلاف رائے کی بنیاد پر ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا تمام اتحادیوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'حکومت بنانے میں کوئی مشکلات نہیں'

اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے تمام اتحادی جماعتوں سے رابطوں کے لیے کمیٹی قائم کی ہے جو اتحادی قائدین سے رابطے کر رہی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جو بھی بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد لائے گا ہم اس کا سامنا کریں گے۔

پرویز خٹک نے بتایا کہ 'پنجاب اور بلوچستان کے مسائل حل ہو گئے جبکہ خیبرپختونخوا کا مسئلہ بھی حل کر لیا گیا'۔

علاوہ ازیں اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ تحفظات سننے پر قومی اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اورپرویز خٹک کے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

مزیدپڑھیں: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو تبدیل کریں گے، اسپیکر صوبائی اسمبلی

عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ 'بڑوں کا کام ہوتا یے تحفظات کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ معاملے کو سنا گیا'۔

واضح رہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرائی تھی۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے تحریک استحقاق میں موقف اختیار کیا تھا کہ وزیر اعلی بلوچستان نے مقامی اخبار میں میرے خلاف بیان دیا اور کہا کہ میں جذباتی شخص ہوں اور جذبات میں آکر باتیں کرجاتا ہوں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے جام کمال کے خلاف اپنے الزامات کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ 'حکومت کا پہہ جام ہے، 8ماہ پہلے کہہ چکا ہوں کام نہیں ہو رہا، جام کمال میرے لیے محترم ہیں لیکن کام نہیں ہو رہا۔'