گندم کی قلت کی پیشگی اطلاعات کے باوجود حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

فصل کے تخمینے کے حوالے رپورٹس میں اکثر خامیاں پائی جاتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
فصل کے تخمینے کے حوالے رپورٹس میں اکثر خامیاں پائی جاتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: گندم کی فصل کے حجم کا غیر معتبر تخمینے اور مناسب فیصلے کرنے میں تاخیر ملک میں حالیہ گندم بحران کی وجہ قرار دی گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بحران نے گزشتہ برس مئی میں سر اٹھانا شروع کردیا تھا اور اس وقت انتظامیہ کو گندم کی کمی کے امکان سے خبردار کیا گیا تھا لیکن حکومت نے غیر ضروری اقدامات اٹھائے مثلاً گندم کی برآمدات پر پابندی عائد کردی۔

تاہم کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے گندم کی برآمدات پر پابندی کا فیصلہ بھی وزارت تحفظ خوراک کی جانب سے متعدد مرتبہ یاد دہانی کروانے کے بعد بالکل آخر میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں ملک میں گندم کا بحران: معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

علاوہ ازیں متعلقہ محکمے کے عہدیداران سے پسِ پردہ ہونے والی گفتگو میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ فصل سے متعلق تخمینے کے حوالے سے رپورٹس میں اکثر خامیاں پائی جاتی ہیں جو ماضی میں بھی بحران کا سبب بن چکی ہیں۔

مثال کے طور پر سال 2008-2007 میں غلط اندازہ لگایا گیا کہ ملک میں گندم کی اچھی فصل ہوگی جس کے بعد گندم کی ایک بڑی مقدار کم قیمت پر برآمد کردی گئی تھی۔

اسی طرح 2014 میں بھی فصل کے حوالے سے غلط تخمینہ لگایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس سال مئی اور اگست میں گندم کی خریداری اور برآمدات کے حوالے سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں آٹے کا شدید بحران، ارباب اختیار ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے لگے

موجودہ طریقہ کار کے تحت صوبوں میں فصل کی رپورٹ دینے والے نظام وفاقی حکومت کو فصل کی پیداوار اور تخمینے کے اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہیں، اس بارے میں وزارت تحفظ خوراک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’اس بات سے قطع نظر کہ یہ نظام کتنا معتبر ہے، ہمیں اسی پر انحصار کرنا پڑتا ہے'۔

عہدیدار کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس فصل کی نگرانی اور پیداوار کا اندازہ لگانے کا کوئی اور طریقہ نہیں جبکہ گندم برآمد کرنے کا فیصلہ بھی صوبائی حکومتوں کا تھا۔

گزشتہ برس 17 اپریل کو رپورٹ کیا گیا تھا کہ ملک میں 2 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار ٹن گندم موجود ہے جس میں گزشتہ برس کی بچی ہوئی گندم بھی شامل ہے لیکن مئی میں ایک یکسر مختلف صورتحال پیش کی گئی جس سے پریشانی کا آغاز ہوا۔

اس پر وزارت تحفظ خوراک کی جانب سے ردِ عمل جون میں 3 مرتبہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو سمری بھیجنے کی صورت میں سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: گندم برآمد کر کے اب درآمد کرنا ایک سوالیہ نشان ہے، علی زیدی

پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق پابندی کے باوجود جولائی سے دسمبر کے درمیان 48 ہزار 83 میٹرک ٹن گندم برآمد کی گئی۔

عہدیدار کے مطابق ہم اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ پابندی کے باوجود گندم کس طرح برآمد کی گئی تاہم ہوسکتا ہے کہ بیورو کی رپورٹ میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔

خیال رہے کہ ملک میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران گندم کی پیداوار 21 ملین سے 25 ملین ٹن رہی ہے جس میں 72 فیصد گندم پاکستانیوں کے روز مرہ استعمال میں آتی ہے اور ہر پاکستانی ایک سال میں تقریباً 124 کلو آٹا استعمال کرتا ہے جو دنیا کی بلند ترین شرح میں سے ایک ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 50 فیصد گندم ان دیہاتوں میں ہی استعمال ہوجاتی ہے جہاں پیدا ہوتی ہے اور یہ منڈیوں تک نہیں پہنچتی اور عموماً مکمل پیداوار میں سے 25 فیصد پیداوار سرکاری ادارے مخصوص قیمت پر خریدتے ہیں۔

مزید پڑھیں: گندم کا بحران: عوام کا 'مذاق اڑانے' پر اپوزیشن کا حکومت سے معافی کا مطالبہ

بقیہ 25 فیصد پیداوار نجی شعبہ خریدتا ہے جبکہ زیادہ حکومت ہی گندم کی خریدو فروخت کے نظام کو کنٹرول کرتی ہے۔

پاکستان میں اکتوبر سے لے کر دسمبر تک گندم کاشت کی جاتی ہے اور اپریل اور مئی میں فصل کاٹی جاتی ہے تاہم فروری اور مارچ میں پانی کی دستیابی اور موسمی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فصل کی پیداوار کا تخمینہ لگا لیا جاتا ہے۔