بی آئی ایس پی سے نکالے گئے افراد کو نوٹسز بھیجے جائیں، قائمہ کمیٹی

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

کمیٹی اجلاس میں پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو اسکالر شپس میں ترجیح دینے کی بھی ہدایت کی گئی—تصویر: اے پی پی
کمیٹی اجلاس میں پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو اسکالر شپس میں ترجیح دینے کی بھی ہدایت کی گئی—تصویر: اے پی پی

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے مستفید ہونے والے افراد میں سے 8 لاکھ افراد کو خارج کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ شفاف کارروائی کے لیے اظہارِ وجوہ کے نوٹس بھیجے جائیں۔

پسماندہ علاقوں کے مسائل پر قائم سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی نے ایک اجلاس میں بی آئی ایس پی کو ان سرکاری ملازمین کے نام فراہم کرنے کی ہدایت کی جو براہ راست یا بلاواسطہ گزشتہ کئی برسوں سے یہ وظیفہ حاصل کررہے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی سربراہی نے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کی۔

اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ احساس پروگرام کی چھتری تلے متعدد فلاحی پروگرام مثلاً قومی سماجی معاشی رجسٹری، غیر مشروط رقم منتقلی، مشروط رقم منتقلی، غذائیت پروگرام اور بی آئی ایس پی گریجویٹنگ پروگرام چل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار افراد کا نام نکالنے کا فیصلہ

دوران اجلاس 8 لاکھ 20 ہزار 165 افراد کے بی آئی ایس پی سے اخراج کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ فیصلہ ان کی پروفائلنگ کرنے کے بعد کیا گیا جس میں وہ مطلوبہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ جلد قومی سروے کروایا جائے گا جس میں غریب افراد کی نشاندہی کے لیے غربت اسکورڈ کارڈ کے طریقے پر عمل کیا جائے گا جبکہ ملک بھر میں بی آئی ایس پی دفاتر میں خالی آسامیوں پر جلد از جلد 2 ہزار 67 افراد کو تعینات کیا جائے گا۔

مذکورہ بریفنگ پر پارلیمانی کمیٹی کا موقف تھا کہ بی آئی ایس پی کو مستفید ہونے والے افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے اور اس سلسلے میں چھوٹے کاروبار کے لیے معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔

ساتھ ہی بی آئی ایس پی کو پسماندہ علاقوں پر توجہ مرکوز کرنے اور مستفید ہونے والے افراد کو تناسب کی بنیاد پر فنڈز دینے کے بجائے ان علاقوں کے افراد کی مدد میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

مزید پڑھیں: بی آئی ایس پی سے ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین کے مستفید ہونے کا انکشاف

کمیٹی اجلاس میں پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو اسکالر شپس میں ترجیح دینے کی بھی ہدایت کی گئی اور بی آئی ایس پی سے جعلی کالز کرنے والوں کا معاملہ اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا گیا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات اور مجرمانہ کارروائی کے لیے یہ معاملہ وفاقی تحقیقات ادارے کو بھجوانے کا کہا گیا۔

بعدازاں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ماضی میں بی آئی ایس پی پروگرام میں افراد کے اندراج میں کچھ غلطیاں یا کوتاہیاں ہوئی ہوں گی تاہم فہرست سے کسی کو اس طرح نہیں نکالا جانا چاہیے کہ اسے اپنی صفائی دینے کا موقع ہی نہ دیا جائے؟

ان کا کہنا تھا کہ 'کچھ افراد نے حج کر رکھا ہے لیکن میں ذاتی طور پر ایسے افراد کو جانتا ہوں جو حج کے لیے غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کے شوہر تبلیغ کے لیے بھی بیرونِ ملک سفر کرسکتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے 4 سرکاری افسران برطرف

سینیٹر کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی نے کمیٹی کو بتایا کہ اُس نے وظیفہ حاصل کرنے والے متعدد ملازمین کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کردیے ہیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ میں تجویز دیتا ہوں کہ ان تمام افراد کو بھی نوٹسز جاری کیے جائیں جنہیں اس پروگرام سے خارج کیا گیا۔