دہشتگردوں کی مالی معاونت: حافظ سعید کے خلاف 2 کیسز کے فیصلے محفوظ

06 فروری 2020

ای میل

حافظ سعید کے خلاف یہ کیسز محکمہ انسداد دہشت کے لاہور اور گوجرانوالہ چیپٹرز نے درج کرائے تھے — فائل فوٹو / اے ایف پی
حافظ سعید کے خلاف یہ کیسز محکمہ انسداد دہشت کے لاہور اور گوجرانوالہ چیپٹرز نے درج کرائے تھے — فائل فوٹو / اے ایف پی

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو کیسز کے فیصلے محفوظ کر لیے۔

اے ٹی سی کے جج ارشد حسین بَھٹہ دونوں کیسز کے محفوظ فیصلے 8 فروری کو سنائیں گے۔

حافظ سعید کے خلاف یہ کیسز پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت (سی ٹی ڈی) کے لاہور اور گوجرانوالہ چیپٹرز نے درج کرائے تھے۔

گوجرانوالہ میں درج کرائے گئے مقدمے کی ابتدائی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت گوجرانوالہ میں ہوئی تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر کیس کو لاہور منتقل کردیا گیا۔

دونوں کیسز کے ٹرائل کے دوران عدالت میں 23 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

یاد رہے کہ1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزام میں جولائی 2019 میں جماعت الدعوۃ کے صف اول کے 13 رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کالعدم قرار

محکمہ انسداد دہشت گردی نے پنجاب کے پانچ شہروں میں مقدمات درج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ الانفال ٹرسٹ، دعوت الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ جیسی فلاحی تنظیموں اور ٹرسٹ سے اکٹھا ہونے والی رقم اور فنڈز کو جماعت الدعوۃ نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی نے ان تنظیموں پر اپریل میں پابندی عائد کردی تھی جہاں تفصیلی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ ان تنظیموں کے جماعت الدعوۃ اور ان کی قیادت سے روابط ہیں۔

اس کے بعد 17 جولائی کو حافظ سعید کو سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں گوجرانوالہ سے گرفتار کیا تھا اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

11 دسمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے 4 ساتھیوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔