لاہور ہائیکورٹ: حافظ سعید کا مقدمہ گوجرانوالہ سے لاہور منتقل کرنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2019

ای میل

سرکاری وکیل نے کیس گوجرانوالہ سے لاہور منتقل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا—فائل فوٹو: اے پی
سرکاری وکیل نے کیس گوجرانوالہ سے لاہور منتقل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا—فائل فوٹو: اے پی

لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا کیس گوجرانوالہ سے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

صوبائی دارالحکومت کے ہائی کورٹ کے جسٹس سردار شمیم احمد نے حافظ سعید کی جانب سے دائر کردہ کیس منتقلی کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انہیں لاہور جیل میں قید رکھا ہوا ہے لیکن ہر پیشی پر گوجرانوالہ کی عدالت میں لایا جاتا ہے، سیکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر ان کا گوجرانوالہ کی عدالت میں پیش ہونا مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حافظ سعید گوجرانوالہ سے گرفتار، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

عدالت میں دائر درخواست میں حافظ سعید نے موقف اختیار کیا کہ اگر انہیں لاہور میں قید رکھا گیا ہے تو کیس کی سماعت بھی لاہور منتقل کردی جائے۔

اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ انہیں کیس گوجرانوالہ سے لاہور منتقل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں چنانچہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیس منتقلی کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔

خیال رہے کہ جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کو 17 جولائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری سے قبل جولائی کے آغاز میں حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمٰن مکی سمیت 13 رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کے 2 درجن سے زائد مقدمات درج کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: حافظ سعید کی گرفتاری پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا

ان مقدمات میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جماعت الدعوۃ اپنے فلاحی ادارے الانفال ٹرسٹ، دعوۃ ارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ کے ذریعے جمع ہونے والا فنڈ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہا۔

ان تمام فلاحی اداروں کی تحقیقات کے بعد کالعدم جماعت الدعوۃ سے تعلق کا علم ہونے پر رواں برس اپریل میں ان اداروں اور ان کی اعلیٰ قیادت پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔

دوسری جانب حافظ سعید، اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ عالمی دہشت گردوں فہرست میں بھی شامل ہیں اور امریکا کے محکمہ خزانہ نے بھی انہیں خصوصی نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جبکہ 2012 سے ان کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حافظ سعید کو بینک اکاؤنٹس کے استعمال کی اجازت دینا قانونی عمل ہے، امریکا

پابندی فہرست میں ہونے کے باعث ان کے تمام بینک اکاؤنٹس منجد کردیے گئے تھے تاہم گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی پابندی کمیٹی نے پاکستان کو اجازت دی تھی کہ وہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو اپنے ذاتی اخراجات کے لیے اپنا بینک اکاؤنٹ استعمال کرنے دیں۔