این آئی سی وی ڈی کے سیکیورٹی سربراہ پر ہراسانی کا الزام ثابت، برطرفی کا حکم

اپ ڈیٹ 15 فروری 2020

ای میل

تفصیلی تحقیقات کے دوران ان افراد پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے تھے—تصویر: فیس بک
تفصیلی تحقیقات کے دوران ان افراد پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے تھے—تصویر: فیس بک

کراچی: سندھ محتسب نے خواتین ساتھیوں کو ہراساں کرنے پر قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے سیکیورٹی سربراہ اور ان کے ماتحت 2 ملازمین کی برطرفی کا حکم دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ تفصیلی تحقیقات کے دوران ان افراد پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے تھے۔

اس بارے میں ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ میں اور اپنی طرز کا پہلا فیصلہ ہے کہ جس میں سندھ محتسب برائے پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن (جنسی ہراسانی کے خلاف خواتین کے تحفظ) نے ہراساں کرنے کے الزام پر سرکاری ملازمین کے خلاف فیصلہ سنایا۔

اس موقع پر ان کے دفتر میں ریٹائرڈ فوجی افسر سمیت تینوں ملزمان اور شکایت کرنے والی دونوں خواتین موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: خصوصی رپورٹ: پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہوں پر کیسے ہراساں کیا جاتا ہے

واضح رہے کہ نوکریوں سے برطرف کرنے کے حکم کے ساتھ سینئر افسر پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ ان کے دونوں ماتحتین ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کریں گے۔

تفصیلی بیان میں کہا گیا کہ ’سندھ محتسب برائے پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ ہراسمنٹ نے این آئی سی وی ڈی کے موجودہ سیکیورٹی سربراہ، گریڈ 18 کے سینئر سرکاری افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالطیف ڈار کے ساتھ ان کے 2 اتحادیوں اور سیکیورٹی سپروائزرز جاوید حسین مرزا ظفر محمود کو کام کی جگہ پر دو خواتین ماتحت ملازمین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے، ذہنی اذیت دینے اور ان معاندانہ ماحول پیدا کرنے کے الزام پر سزا سنا کر تاریخ رقم کردی‘۔

اس سلسلے میں لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالطیف ڈار، جاوید حسین اور مرزا ظفر محمود کو کام کی جگہ خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے قانون کی دفعہ 4 کے تحت سزا سنائی گئی جنہیں فوری طور پر عہدے سے برطرف کرنے اور شکایت گزاروں کو بالترتیب ڈیڑھ لاکھ اور ایک ایک لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ نے 2009 میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق قانون منظور کیا تھا جس پر 2010 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے دستخط کیے تھے۔

جولائی 2012 میں سندھ حکومت نے ریٹائرڈ ڈسٹرک اور سیشن ججز کو صوبائی محتسبین تعینات کیا تھا اور یوں سندھ خواتین کو کام کی جگہوں پر جنسی ہراساں کیے جانے کے خلاف شکایت کے لیے ایک قانونی فورم فراہم کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’جنسی ہراسانی‘ کیا ہے اور پاکستانی قانون اس حوالے سے کیا کہتا ہے؟

اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ صوبائی محتسب نے کام کی جگہ پر ہراساں کرنے پر سرکاری ملازمین کو مجرم ٹھہرانے کا اپنا حکم فوری عملدرآمد کے لیے این آئی سی وی ڈی بھجوایا اور ادارے کو ایک ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

ذرائع نے بتایا کہ این آئی سی وی ڈی کی 2 خواتین کی شکایت پر ادارہ جاتی انکوائری میں تینوں ملزمان پر الزام ثابت ہونے کے باوجود ادارہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہا تھا جس پر شکایت گزاروں نے ایک سال بعد صوبائی محتسب سے رجوع کیا تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج

دوسری جانب ایک قانونی فورم کی جانب سے حکم جاری ہونے کے باوجود صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے کیوں کہ ملزمان میں سے ایک نے ہراسانی کا الزام ثابت ہونے کے باوجود ایک مرتبہ پھر ضابطہ اخلاق کی خلاف وزی کی کوشش کی۔

اس بارے میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’ صدر پولیس اسٹیشن کو این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی محتسب سے سزا یافتہ سیکیورٹی سربراہ کے خلاف جمعرات کی رات درخواست موصول ہوئی تھی‘۔

یہ بھی پڑھیں: بہت ہوا، اب ہراسمنٹ پر بات ہوگی!

انہوں نے بتایا کہ ’ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست میں کہا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وہ عہدیدار دفتر سے تمام سرکاری دستاویزات، لیپ ٹاپ اور دیگر اشیا لے کر چلے گئے، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ وہ اپنے خلاف فیصلے کے بعد آدھی رات کو دفتر آئے اور تمام سرکاری ساز و سامان لے کر چلے گئے‘۔

عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ پولیس ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے قبل کچھ رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے مراحل میں ہے۔