سمندری حدود کی خلاف ورزی، پی ایم ایس اے نے 4 بھارتی کشتیاں تحویل میں لے لیں

15 فروری 2020

ای میل

س شبہ کو مسترد نہیں کرسکتے کہ یہ افراد جعلی کسی خفیہ آپریشن میں ملوث ہوسکتے ہیں، کمانڈر فاروق — فائل فوٹو:فشر فوک فارم
س شبہ کو مسترد نہیں کرسکتے کہ یہ افراد جعلی کسی خفیہ آپریشن میں ملوث ہوسکتے ہیں، کمانڈر فاروق — فائل فوٹو:فشر فوک فارم

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے پاکستانی پانیوں میں ماہی گیروں کی 4 کشتیوں کو سر کریک کے نزدیک 10 سے 15 ناٹیکل میل کی مسافت پر حراست میں لے لیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے انچارج کمانڈر فاروق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کشتیوں میں موجود 23 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو بظاہر ماہی گیر لگ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس شبہ کو مسترد نہیں کرسکتے کہ یہ افراد جعلی کسی خفیہ آپریشن میں ملوث ہوسکتے ہیں، یہ قومی سلامتی کے لیے خدشہ ہوگا'۔

مزید پڑھیں: 'را' کیلئے کام کرنیوالے 2 پاکستانی ماہی گیر گرفتار

پی ایم ایس اے ہیڈ کوارٹرز میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کموڈور جاوید احمد قریشی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

کمانڈر فاروق کا کہنا تھا کہ پی ایم ایس اے کی دو تیز رفتار کشتیوں کو اس آپریشن کے لیے استعمال کیا گیا اور انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے کئی تدابیر کی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن پاک-بھارت سرحد پر بھارتی کشتیوں کی موجودگی کی معلومات اور ان کے پاکستان میں داخل ہونے کے خدشات پر کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ سرحد کے نزدیک پیٹرولنگ کے عمل کو ایجنسی کے بحری جہازوں اور تیز رفتار کشتیوں کے ساتھ ساتھ طیاروں کے زریعے بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کڑی نگرانی رکھی جاسکے اور کسی بھی مشکوک کشتی کی موجودگی کا معلوم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: 'بھارت نے 26 پاکستانی ماہی گیر گرفتار کرلیے'

گزشتہ 2 روز میں مشکوک سرگرمیوں کی اطلاعات پر پی ایم ایس اے نے علاقے کی کڑی نگرانی کی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کمانڈر فاروق کا کہنا تھا کہ متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تحقیقات کی جائیں گی تاکہ گرفتار بھارتیوں کی اصل شناخت اور پاکستانی پانی میں آنے کے ان کے ارادوں کے بارے میں معلوم کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تحقیقات کے بعد اگر یہ بے گناہ ثابت ہوئے تو انہیں دیگر قانونی چارہ جوئی کے لیے ڈاکس پولیس کے حوالے کردیا جائے گا'۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ بھارتی ماہی گیر پاکستان کے انڈس ڈیلٹا خطے میں اعلیٰ معیار کی مچھلیوں کی موجودگی کی وجہ سے اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے اکثر پاکستانی پانی میں داخل ہوجاتے ہیں۔