ترکی ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے، بھارت

15 فروری 2020

ای میل

ترک صدر نے کہا تھا کہ ترکی بھارت مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا—فوٹو: اےایف پی
ترک صدر نے کہا تھا کہ ترکی بھارت مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا—فوٹو: اےایف پی

بھارت نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان دے کر بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ترک صدر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا کہ 'بھارت جموں و کشمیر سے متعلق تمام حوالہ جات کو مسترد کرتا ہے اور وہ بھارت کا اٹوٹ اور لازمی حصہ ہے'۔

مزیدپڑھیں: کشمیریوں پر مظالم کےخلاف ترک صدر کا مذمتی بیان لائق تحسین ہے، وزیراعظم

رویش کمار نے مزید کہا کہ 'ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور حقائق کی صحیح تفہیم پیدا کریں، جس میں پاکستان سے بھارت اور خطے کو دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والے سنگین خطرات بھی شامل ہیں'۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے دو روزہ پاکستان کے دورے پر پہلی کشمیری جنگ کے دوران غیر ملکی قبضے کے خلاف ترک عوام کی جدوجہد کے ساتھ 'کشمیری عوام کی جدوجہد' کا موازنہ کیا تھا۔

گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ سو سال پہلے ترکی میں ہوا تھا اسے آج مقبوضہ کشمیر میں دہرایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'ترکی بھارت مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خراب صورتحال پر انتہائی تشویش اور عوام کے ساتھ یکجہتی

رجب طیب ادوان نے کہا تھا کہ 'آج مسئلہ کشمیر ہمارے اتنا ہی قریب ہے جتنا آپ [پاکستانیوں] کے ہے'۔

ترک صدر نے کشمیریوں کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'مسئلہ کشمیر تنازع یا جبر کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے، اس طرح کا حل تمام فریقوں کے مفادات کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ترکی کشمیر کے حل میں انصاف، امن اور بات چیت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے دو وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس اقدام سے خطے میں ترقی ہوگی۔

بھارتی قابض فوج بدستور انسانی حقوق کی پامالی میں مصروف ہے جہاں نوجوانوں اور بزرگوں سمیت خواتین و بچوں پر بھی تشدد جاری ہے اور انہیں گھروں پر محصور کردیا گیا ہے۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فورسز نے 12 گھنٹے میں 2 کشمیری نوجوان شہید کردیے

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں اور طلبہ مسلسل 99ویں روز بھی اسکولوں، کالجوں اور جامعات نہیں جاسکیں جبکہ ان کے امتحانات کی تیاریوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

امریکا سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بھی بھارت کو صورت حال معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 1989 سے متعدد مسلح گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔

اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔