کشمیر گروپ کی سربراہ برطانوی رکن پارلیمان کو بھارت سے واپس بھیج دیا گیا

اپ ڈیٹ فروری 18 2020

ای میل

ڈیبی ابراہم 2011 سے برطانوی رکن پارلیمنٹ ہیں—فوٹو:اے پی
ڈیبی ابراہم 2011 سے برطانوی رکن پارلیمنٹ ہیں—فوٹو:اے پی

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہم کو بھارتی حکام نے دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمان ڈیبی ابراہم مقبوضہ کشمیر سے متعلق پارلیمانی گروپ کی سربراہ ہیں لیکن ان کے ساتھ ہرپریت اپل کا کہنا تھا کہ انہیں ان کی جانب سے پیش کیے گئے بھارتی ویزے کو منسوخ کردیا گیا تھا اور بھارت میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔

ڈیبی ابراہم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہیں کہا گیا کہ ان کے ویزے کو مسترد کردیا گیا ہے جو گزشہ برس اکتوبر میں جاری کیا گیا تھا اور اکتوبر 2020 تک کارآمد تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دیگر مسافروں کی طرح میں نے بھی امیگریشن ڈیسک پر ای ویزا سمیت میرے دستاویزات رکھ دیے، میری تصویر لی گئی جس کے بعد عہدیدار نے اپنی اسکرین پر نظر دوڑائی اور اپنا سر ہلانا شروع کردیا’۔

برطانوی قانون ساز کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا ویزا مسترد ہو گیا ہے اور میرا پاسپورٹ لے کر 10 منٹ کے لیے غائب ہوگیا’۔

امیگریشن عہدیدار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘جب وہ واپس آئے تو وہ بہت ترش اور جارحانہ موڈ میں تھے اور چلاتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ آجاؤ، جس پر میں نے کہا کہ میرے ساتھ اس طرح بات نہ کریں اور پھر ڈی پورٹی سیل کے نشان زدہ حصے میں لے گئے اور مجھے بیٹھنے کو کہا لیکن میں نے انکار کیا’۔

ڈیبی ابراہم کا کہنا تھا کہ ‘مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں یا مجھے کہا لے کر جارہے ہیں اس لیے میں چاہتی تھی کہ لوگ مجھے دیکھیں’۔

مزید پڑھیں:مودی کی غلطی سے کشمیریوں کو آزاد ہونے کا تاریخی موقع مل گیا، وزیراعظم

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب عہدیدار غائب ہوا تو اپنے بہنوئی کے کزن سے رابطہ کیا جو برطانوی ہائی کمیشن سے رابطے میں تھے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا ہورہا ہے۔

بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘امیگریشن کے کئی عہدیدار میرے پاس آئے جس کے بعد میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ویزے کو منسوخ کیوں کیا گیا ہے جبکہ میں پہنچتے ہی ویزا حاصل کر سکتی ہوں لیکن ایسا لگا کہ کسی کو معلوم نہیں’۔

بھارتی امیگریشن عہدیداروں کی لاعلمی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہاں تک کہ انچارج نظر آنے والے عہدیدار کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے اور جو کچھ ہوا اس کے لیے معذرت خوا ہوں’۔

ڈیبی ابراہم نے مزید کہا کہ اب میں ڈی پورٹ ہونے کے لیے انتظار کر رہی ہوں تاہم اگر بھارتی حکومت اپنا ارادہ تبدیل کرے تو الگ بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ان تمام حقائق کو سامنے لانے کو تیار ہوں کہ میرے ساتھ ایک کریمنل کے طور پر رویہ اپنایا گیا اور مجھے امید ہے کہ وہ میرے خاندان اور دوستوں کو دورے کی اجازت دیں گے’۔

یہ بھی پڑھیں:5 اگست 2019 سے 5 فروری 2020 تک مقبوضہ کشمیر کی آپ بیتی

دوسری جانب بھارت کے ایک حکومتی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈیبی ابراہم کو بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ان کا ویزا درست نہیں تھا اور ‘انہیں پہلے ہی معلومات دیگر ذریعے سے ملی تھی’۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں موجود بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانوی رکن پارلیمنٹ کو آگاہ کردیا گیا تھا کہ ان کا ویزا منسوخ کردیا گیا ہے اور وہ جاننے کے باوجود دہلی پہنچ گئی تھیں۔

خیال رہے کہ ڈیبی ابراہم 2011 سے برطانوی پارلیمنٹ کی رکن ہیں اور بھارت کے دو روزہ ذاتی دورے پر آئی تھیں جس کے بعد آزاد جموں و کشمیر کا تین روزہ دورہ ہوگا۔

برطانیہ واپسی کے لیے انتظار کرنے والی ڈیبی ابراہم نے 'اے پی' کو بتایا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے لیے کوششوں کے سلسلے میں لندن میں قائم بھارتی ہائی کمیشن سے اکتوبر سے رابطے میں تھیں لیکن کامیاب نہ ہو پائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کے دورے کی اجازت مل گئی تھی اور رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد جانے کا ارادہ تھا۔

نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کے عہدیداروں کے ایک مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے اسی سے منسلک کیا گیا تھا’۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ‘وہ پاکستان کے دورے کے حوالے سے بھی آگاہ تھے اور اس معاملے میں نظر آرہا ہے کہ سیاست کھیلی جارہی ہے’۔

خیال رہے کہ ڈیبی ابراہم گزشتہ اگست میں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے بدترین اقدامات اور خاص کر خطے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی سخت ناقد رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا

بھارت کی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے ترمیم کی منظوری کے فوری بعد انہوں نے بھارتی ہائی کمیشن کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘اس قدم سے کشمیر کے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے’۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت گزشتہ 6 ماہ کے دوران غیر ملکی سفارت کاروں کو مقبوضہ وادی کا دورہ کرا چکی ہے اور گزشتہ ہفتے 20 غیر ملکی سفارت کار مقبوضہ کشمیر کے دورے پر تھے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ برس اگست میں لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اور سفری پابندیاں تاحال جاری ہیں اور میڈیا سمیت شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔