5 اگست 2019 سے 5 فروری 2020 تک مقبوضہ کشمیر کی آپ بیتی

بھارت نے گزشتہ سال 5 اگست کو تحریک آزادی کی صدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے آئین سے آرٹیکل 370 نکال دیا۔
اپ ڈیٹ 05 فروری 2020 04:25pm

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو تحریک آزادی کی صدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے قانون میں تبدیلی کی اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کے نئے دور کا آغاز کیا، ویسے تو کشمیریوں پر ظلم و ستم برسوں پہلے شروع ہوا تھا اور کشمیر کی تقسیم اور بندر بانٹ اونے پونے داموں کرنے کا آغاز کیا گیا تھا مگر ان سب کے باوجود کشمیریوں کی صدائے حریت بھی برسوں سے ہی گونج رہی ہے۔

کشمیریوں نے جدوجہد آزادی کا آغاز 1931 میں کیا تھا جس کی حمایت علامہ اقبال نے بھی کھلے بندوں کی تھی 13 جولائی 1931 کو سری نگر کی سینٹرل جیل کے باہر مظاہرین پر پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 17 کشمیری شہید ہوئے اور یوں کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

تحریک پاکستان، مسلم لیگ کے بینر تلے چل رہی تھی تو اس موقع پر سری نگر میں کشمیریوں نے آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اس حوالے سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی بھی بنائی گئی جس کے زیر انتظام 14 اگست 1931 کو سیالکوٹ میں جلسہ ہوا، کہتے ہیں اس جلسے میں کم و بیش ایک لاکھ افراد نے شرکت کی تھی اور کشمیریوں کی حریت کی حمایت کا اعلان کیا تھا جبکہ 14 اگست 1931 کا دن یوم کشمیر کے طور پر بھی منایا گیا تھا۔

—فوٹو:ڈان
—فوٹو:ڈان

بھارت کی ماضی کی حکومتوں، چاہے کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے تحت کشمیر کی متنازع حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑا، یہ الگ بات ہے کہ مقبوضہ علاقے میں فوج، پولیس اور دیگر نوعیت کے ظلم و ستم بدستور جاری رہے لیکن کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم نہیں کی گئی مگر 2019 میں نریندر مودی کی حکومت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کی سرکردگی میں اس تار کو بھی چھیڑا دیا اور گزشتہ 5 اگست کو 80 لاکھ سے زائد آبادی کا حامل یہ خطہ متنازع طور پر تقسیم کرکے رکھ دیا گیا، جہاں تعلیمی ادارے مسلسل6 ماہ سے بند ہیں، غذائی اجناس کی صورت حال سے دنیا ناواقف ہے، ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں بلکہ وہاں پر بھارتی فوج کا بسیرا ہے، کسی کو نہیں معلوم لیکن پاکستان سمیت پوری دنیا کو یہ معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اسلحے کے زور پر ظلم و جبر کا نیا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

5 اگست سے آج تک کشمیر میں انسانی حقوق کا چراغ گل ہے اور روشنیوں کے اس خطے میں جبر کی گھنگور گھٹائیں تڑ تڑا رہی ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر اور 5 اگست

بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی اور پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرار داد اکثریت کی بنیاد پر منظور کرلی گئی۔

بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے تاہم اس کا نفاذ گزشتہ سال ہی اکتوبر میں کردیا گیا۔

اگست، کشمیریوں کیلئے جبر کا نیا دور

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت نے جولائی کے آخر میں عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے دعوؤں کے بعد ماہ اگست شروع ہوتے ہی جبر کا بدترین سلسلہ شروع کیا اور مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کردی، ٹرمپ کے انکشاف کے بعد نریندر مودی کو بھارت کے میڈیا میں سخت تنقید کا سامنا تھا اور انہوں نے امریکی صدر کو ثالثی کی پیش کش سے متعلق خبر کو غلط قرار دیا تھا لیکن تنقید اس قدر بڑھ گئی تھی کہ انہیں اپنے دفاع میں مشکل پیش آرہی تھی لیکن اپنے انتخابی منشور پر عمل شروع کرتے ہوئے متنازع اقدامات کیے اور اپنے ملک میں جاری بحث کا رخ ہی بدل دیا لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاوہ بھارت میں بھی بڑے پیمانے پر آرٹیکل 370 کے خاتمے میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی۔

بھارتی حکومت نے 5 اگست کے اقدام سے دو روز قبل دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے تمام غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کو جموں و کشمیر چھوڑنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی 10 ہزار اضافی فوج بھی وادی میں بھیج دی جبکہ مزید 25 ہزار نفری کو بھی طلب کیا گیا، بھارتی حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی سیاحوں نے بھی مقبوضہ وادی سے واپسی شروع کی، دہشت گرد حملے کے خطرات کی وارننگ جاری کرنے پر وادی میں موجود ہزاروں سیاح اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا اور واپسی کے لیے قطاریں لگ گئیں، ہزاروں سیاحوں نے سری نگر ایئرپورٹ کا رخ کیا جن میں سے اکثریت کے پاس ٹکٹ بھی نہیں تھے۔

آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیا سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے بل پیش کیا اور کہا کہ صدر نے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کو ختم کرکے وہاں کانسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 خصوصی آرٹیکل نافذ کردیا گیا، جس کے تحت اب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں پر بھارتی قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی، اپوزیشن کی جانب سے امیت شاہ کے خطاب کے دوران شدید احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر پر قانون سازی اور آرٹیکل 370

26 اکتوبر 1947 کو مہاراجا ہری سنگھ اور بھارت کی حکومت کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس میں یہ طے پایا تھا کہ کشمیر کو آئینی طور پر خصوصی حیثیت دی جائے گی، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے 17 اکتوبر 1949 کو آرٹیکل 370 نافذ کردیا گیا حالانکہ اس وقت بھارت کا وفاقی آئین ابھی تیاری کے مراحل میں تھا جو بعد ازاں 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا اور اسی کی مناسبت سے بھارت میں ہر سال 26 جنوری کو ری پبلک ڈے منایا جاتا ہے۔

بھارت کے آئین میں کشمیر کے حوالے سے دو بنیادی آرٹیکل شامل تھے جن میں آرٹیکل ون کہتا ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کی ایک ریاست ہے اور دوسرا آرٹیکل 370 تھا جس کی حیثیت عارضی قرار دی گئی تھی لیکن وہ مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا، بعد ازاں 14 مئی 1954 کو ایک صدارتی آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کو دی کانسٹی ٹیوشن ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر 35 اے کا نام دیا گیا اور بھارتی آئین میں شامل کردیا گیا، اس وقت بھارت کے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد تھے۔

آرٹیکل 35 اے کے تحت جموں و کشمیر کو بھارت کی دیگر ریاستوں کے شہریوں کو کشمیر میں مستقل شہریت سے محروم کردیا گیا اور اسی کے تحت واضح کیا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری کون ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے 17 نومبر 1956 کو جموں و کشمیر کا آئین نافذ کیا تھا اور آرٹیکل 35 اے کو اس کا حصہ بنایا گیا، جموں و کشمیر کا آئین بھی ریاست کو بھارت کا حصہ قرار دیتا ہے، بھارتی حکومت نے 1990 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ لاگو کیا تاہم نمائندہ جماعتوں کے بائیکاٹ کے باوجود ریاستی انتخابات ہوتے رہے اور بھارت نواز جماعتیں انتہائی کم ٹرن آؤٹ کے باوجود انتخابات جیتنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کرتی رہیں۔

نریندر مودی 2014 میں بھارت کے وزیراعظم منتخب ہوئے بعد ازاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتخابات کے بعد بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے اتحاد کرکے مقبوضہ ریاست میں حکومت بنائی لیکن اختلافات کے باعث 2018 میں یہ اتحاد منطقی انجام کو پہنچا۔

جون 2018 کو بی جے پی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گورنر راج نافذ کیا جس کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے آئین کے آرٹیکل 92 میں وضاحت کی گئی تھی کہ ریاست میں کوئی آئینی ستون ٹھیک کام نہیں کررہا ہو تو گورنر راج نافذ ہوگا اور 2018 میں اسی کا سہارا لیا گیا لیکن دسمبر 2018 میں گورنر راج کو صدارتی راج سے تبدیل کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔

بھارت میں 2019 کے عام انتخابات کے دوران نریندر مودی اور بی جے پی نے اپنے منشور میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ وہ کامیابی حاصل کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے قانون سازی کرکے اس کو بھارت کا باقاعدہ حصہ بنائے گی جبکہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کردیا جائے گا۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

آرٹیکل 370 کے اہم نکات یہ ہیں:-

1) جموں و کشمیر کو بھارت کا آئینی حصہ قرار دیا گیا۔

2) جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے اور کشمیری اپنے لیے قوانین خود بنائیں گے اور ریاست پر بھارتی قوانین لاگو نہیں ہوں گے۔

3) جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت عارضی ہے۔

4) آرٹیکل 370 میں اس کی منسوخی کا بھی طریقہ کار وضع کیا گیا اور کہا گیا تھا کہ صدر چاہے تو ایک حکم جاری کرکے اس کو ختم کرسکتا ہے مگر اس کے لیے انہیں جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی سے اجازت لینا ہوگی۔

جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی 1957 میں بھی ختم ہوگئی تھی اور انتخابات کے نتیجے میں جو اسبملی سامنے آئی اس کو قانون ساز کہا گیا تھا اور بھارتی حکام اس آرٹیکل کے خاتمے میں اس شق کو رکاوٹ قرار دے رہے تھے اور کہا جاتا تھا کہ اس شق کی موجودگی میں آرٹیکل کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

آرٹیکل 35 اے

اس خصوصی قانون کے خاتمے کے بعد اب بھارت بھر کے رہائشی مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید کر مقبوضہ وادی میں مستقل طور پر رہائش اختیار کر سکیں گے۔

کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ اب بڑی تعداد میں ہندو مقبوضہ کشمیر کا رخ کریں گے اور یہاں رہائش اختیار کریں گے جس کے نتیجے میں مسلم اکثریتی خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں آئیں گی اور مقبوضہ کشمیر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل ہو جائے گا۔

کشمیری سیاسی قیادت کی گرفتاری

بھارتی حکومت نے حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ احتجاج کے خوف سے بھارت نواز سیاسی رہنماؤں اور سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو بھی نظر بند کردیا گیا۔

عمر عبداللہ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ مجھے رات کے دوسرے پہر سے گھر پر نظر بند کردیا گیا ہے‘۔

جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اطلاعات ہیں کہ انٹرنیٹ سروس سمیت موبائل سروس کو معطل کیا جارہا ہے کرفیو کے احکامات بھی جاری ہورہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ’خدا جانتا ہے کہ اگلا دن کیسا ہوگا، یہ ایک طویل رات ثابت ہورہی ہے‘۔

قابض بھارتی انتظامیہ نے پوری وادی میں فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی جبکہ سری نگر میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔

ایڈووکیٹ ایم ایل شرما کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم، وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے، وہاں اضافی فوج تعینات کرنے اور انٹرنیٹ و فون سروس معطل کرنے پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا صارفین نے خصوصی مہم ریڈ فار کشمیر کا آغاز کیا۔

سوشل میڈیا پر بھی خصوصی مہم کا آغاز کیا گیا اور صارفین ہیش ٹیگ 'ریڈ فار کشمیر' (RedForKashmir#) کے ساتھ ٹوئٹس اور اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

صارفین، اس ٹرینڈ کے ساتھ نہ صرف ٹوئٹ اور سرخ تصویر شیئر کرتے رہے بلکہ پروفائل تصاویر بھی اس سے تبدیل کیا۔

کشمیر میں شدید احتجاج اور جھڑپیں

مقبوضہ کشمیر میں جوان، بزرگ اور خواتین سمیت ہر عمر کے افراد نے بھارتی احکامات ماننے سے انکار کیا اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے اور کرفیو کی دھجیاں اڑائیں لیکن مسلح فوج نے اندھادھند فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا اور 7 اگست کو کم از کم 6 کشمیری شہید ہوئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔

سخت کرفیو اور بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی جیسے اقدامات کے باوجود سری نگر، پلواما، بارامولا اور وادی کے دیگر حصوں میں کشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے خلاف احتجاج کیا۔

اگست

ستمبر

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر

وزیراعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں اٹھایا اور عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے ظلم کی انتہا کردی ہے اور جب کرفیو اٹھایا جائے گا تو کشمیری احتجاج کریں گے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ 'اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، اسی کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں'۔

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ 'میں خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں ہے، یہ خوف اور پریشانی ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں یہی بتانے کے لیے میں یہاں اقوام متحدہ میں ہوں کیونکہ صرف آپ ہیں جو کشمیر کے عوام کو ان کے حق خود ارادیت کی ضمانت دے سکتے ہیں جس کے لیے وہ مشکلات کا شکار ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہی موقع ہے عمل کا، پہلا قدم یہ ہے کہ بھارت کرفیو کو ہٹادے جو 52 روز سے نافذ ہے، یہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور خاص کر ان 13 ہزار نوجوانوں کو جنہیں اٹھایا گیا ہے اور ان کے والدین کو ان کی خبر نہیں ہے، عالمی برادری کشمیر کو ہر صورت حق خود ارادیت دلائے'۔

اکتوبر

31 اکتوبر کو بھارت نے آرٹیکل 370 کو باقاعدہ ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا جبکہ ایک متنازع نقشہ بھی جاری کیا جس میں پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو شامل کیا گیا تھا جس پر بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت نے جموں و کشمیر اور لداخ کو جغرافیائی طور پر الگ کیا جو براہ راست بھارت کی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہوں گی، جموں و کشمیر کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 22 لاکھ جبکہ بدھ مت کے اکثریتی علاقے لداخ 3 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

—فائل/فوٹو:اے بی سی نیوز
—فائل/فوٹو:اے بی سی نیوز

نئے قانون کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی نئی وفاقی اکائی کی ایک منتخب قانون ساز اسمبلی ہوگی، جس کی مدت 5 برس ہوگی، اس کی سربراہی بھارت کی جانب سے مقرر کیے گئے لیفٹیننٹ گورنر کریں گے لیکن زیادہ اختیارات نئی دہلی کے پاس موجود ہوں گے۔

لداخ وفاقی حکومت کے براہ راست زیر انتظام ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی اور اسے ایک لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے چلایا جائے گا، لداخ کا علاقہ ثقافتی، مذہبی اور قومیت کے لحاظ سے مقبوضہ کشمیر سے مختلف ہے، کارگل سمیت لداخ کے 2 اضلاع کو پہلے ہی 'ہل کونسل' کے ذریعے چلایا جارہا تھا، جس کے تحت ان علاقوں کو ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر سے زیادہ خود مختاری حاصل تھی۔

وفاقی اکائیوں میں تقسیم ہونے کے بعد بھارتی لوک سبھا میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے 5 نمائندے ہوں گے جبکہ لداخ کا ایک نمائندہ نئی دہلی میں موجود پارلیمنٹ میں ہوگا، متنازع قانون کے نفاذ کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم ہوگیا اور ریاست میں بھارتی آئین نافذ کردیا گیا جبکہ سرکاری عمارتوں سے کشمیر کے پرچم کو بھی اتار دیا گیا اسی کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مقرر کی گئی سول انتظامیہ نے چارج سنبھال لیا اور جی سی مرمو کو سول ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا گیا۔

بھارتی حکومت نے ریڈیو کشمیر سری نگر کا نام بھی تبدیل کردیا جو 1947 میں تقسیم سے چلا آرہا تھا اور اب اس کا نیا نام آل انڈیا ریڈیو سری نگر رکھا گیا۔

چین نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اکائی میں تبدیل کے گئے جموں و کشمیر اور لداخ میں کچھ حصہ چین کا بھی شامل ہے، بھارت یکطرفہ طور پر مقامی قانون اور انتظامی معاملات کو تبدیل کر کے چینی خودمختاری اور مفاد کو چیلنج کررہا ہے، یہ اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا کہ متعلقہ علاقہ چین کے ماتحت ہے اور اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

نومبر

انسانی حقوق کے عالمی دن پر کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
انسانی حقوق کے عالمی دن پر کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

بھارت کی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے 4 مقامی رہنماؤں کو وادی کے دورے سے قبل نظر بند کردیا، جموں و کشمیر کانگریس کے چیف ترجمان رویندر شرما نے بتایا تھا کہ 'جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر اور سابق وزیر غلام احمد میر، قانون ساز اسمبلی کے سابق اسپیکر تارا چند، سابق وزیر رمن بھلہ اور پی وائی سی کے صدر اُدے بھانو چِھب کو آج صبح گھر میں نظربند کیا گیا'۔

دسمبر

پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر یومِ سیاہ منانے کی کال دی تھی اور یومِ سیاہ کے موقع پر بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کے لیے مقبوضہ وادی میں مکمل شٹر ڈاؤن کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے جاری بیان میں سید علی گیلانی نے کہا تھا کہ ’بھارتی حکمرانوں کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل میں موثر اور فعال کردارد ادا کرنے سے متعلق عالمی برادری کی ذمہ داری میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے'۔

بھارت نے 95 ہزار 471 کشمیریوں کو قتل کیا، رپورٹ

علاوہ ازیں سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی دن پر کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارت نے 1989 سے لے کر 10 دسمبر 2019 تک مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 95 ہزار 4 سو 71 معصوم کشمیریوں کو قتل کیا جن میں 7 ہزار ایک سو 35 کشمیری دورانِ حراست شہید ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے قتل کے مذکورہ واقعات کے نتیجے میں 22 ہزار 9 سو 10 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 7 ہزار 7 سو 80 بچے یتیم ہوئے جبکہ اسی عرصے میں بھارتی فورسز نے 11 ہزار ایک سو 75 خواتین کی بے حرمتی اور ایک لاکھ 94 ہزار 4 سو 51 املاک کو تباہ کیا۔

— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ پارٹی کے بہت سے دیگر رہنماؤں پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، جے کے پی سی سی کے صدر غلام احمد میر نے بتایا تھا کہ 'ہم نے گزشتہ روز انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ پارٹی کے وفد کو ادھم پور، بٹوٹے، رامبن اور پھر اننت ناگ اور سری نگر لے کر جائیں گے اور پارٹی کارکنوں سے ملاقات کرکے نچلی سطح سے پارٹی کی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے'۔

سابق وزیر غلام احمد میر نے دعویٰ کیا تھا کہ انتظامیہ نے اس کی اجازت دے دی تھی، 'تاہم آج صبح مجھے اور میرے سینئر ساتھیوں رمن بھلا اور تارا چند کو نظر بند کردیا گیا'۔

واضح رہے کہ کانگریس رہنماؤں کی نظر بندی کا واقعہ ایسے وقت پر سامنے آیا تھا جب گزشتہ روز ہی بھارتی حکومت نے سری نگر میں نظر بند 5 سیاستدانوں کو رہا کیا تھا۔

کشمیر میں 2019 کی مجموعی شہادتیں

کشمیر میڈیا سروس کی تفصیلات کے مطابق 2019 میں بھارت کی قابض فوج نے پُرتشدد کارروائیوں میں 210 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 3 خواتین اور 9 بچے بھی شامل ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 14 خواتین بیوہ اور 29 بچے یتیم ہوئے جبکہ 64 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 827 افراد پیلٹ گنز سے زخمی ہوئے جن میں سے 162 بینائی کھو بیٹھے، قابض فوج کی فائرنگ، پیلٹ گنز اور شیلنگ سے 2 ہزار 417 کشمیری زخمی ہوئے۔

بھارتی فوج نے حریت رہنماؤں،کارکنوں اور عام شہریوں سمیت 13 ہزار کشمیریوں کو گرفتار بھی کیا۔

جنوری 2020

بعد ازاں اسی روز مقبوضہ جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی زیر حراست سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کو نظر بند کردیا گیا تھا جبکہ قابض بھارتی فوج کی کارروائی میں 3 نوجوان شہید ہوگئے تھے۔

اسی روز کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کے دوران 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں نافذ کرفیو کے تحت نقل و حرکت اور مواصلاتی پابندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ انٹرنیٹ کی آزادی بنیادی حق ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو این ایس سی کا اجلاس بند کمرے میں ہوا تھا تاہم چینی سفیر زینگ جون نے اپنے چیمبر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اجلاس میں سلامتی کونسل نے مقبوضہ وادی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کو نظر بند کردیا گیا تھا — فائل فوٹو: بی بی سی
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کو نظر بند کردیا گیا تھا — فائل فوٹو: بی بی سی

چینی سفیر سے جب مسئلہ کشمیر کے بارے میں چین کے موقف کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری پوزیشن بالکل واضح ہے‘، چین کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ سمجھتا ہے اور واشگاف الفاظ میں اسلام آباد کے اس مطالبے کی حمایت کرتا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے لیے حقِ خود ارادیت دیا جائے۔

اسی روز مقبوضہ جموں کے ضلع ڈوڈا میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کے دوران ایک نوجوان کو شہید کردیا تھا۔

وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے کہا تھا کہ 'پیلٹ گن غیر مہلک ہتھیار ہے جو اب بہت شاذ و نادر ہی استعمال ہوتی ہے'۔

واضح رہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کچھ سالوں سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز کے ایسے کارتوس استعمال کیے جا رہے ہیں جس میں ایک وقت میں 300 سے 600 چھرے بھرے جاسکتے ہیں۔

2014 میں 20 ایسے لوگوں پر تحقیق کی گئی تھی جن کی آنکھیں کشمیر میں پیلٹ چھروں کی وجہ سے زخمی ہوئی تھیں، اس تحقیق کے مطابق ان افراد میں سے 33 فیصد دوبارہ اپنی آنکھوں کی بینائی حاصل نہیں کر پائے تھے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بیان میں کہا تھا کہ جنرل پبن راوت نے کشمیوں بچوں میں انتہا پسندی کے رجحان کے خاتمے کے لیے انہیں کیمپوں میں بھیجنے کی جو بات کی ہے یہ انتہا پسندانہ ذہنیت اور سوچ کے دیوالیہ پن کا عکاس ہے جو بھارت کے ریاستی اداروں میں سرایت کرجانے کا ثبوت بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا جہاں بھارتی فوج انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اب تک 13 ہزار سے زائد نوجوانوں کو اغوا کیا جاچکا ہے، اس صورتحال میں جنرل بپن راوت کا کشمیری بچوں کو کیمپوں میں بھیجنے کا بیان 'قابل نفرت' ہے۔

بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ

یاد رہے کہ نومبر 1949 میں بھارت کا آئین تیار کیا گیا تھا جبکہ 26 جنوری 1950 کو یہ نافذ العمل ہوا تھا، اس سے قبل بھارت میں انگریز کا بنایا ہوا 1935 کا قانون نافذ تھا، اس دن کو دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

26 جنوری 2020 کو مقبوضہ کشمیر، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارت کے 71 ویں یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔

یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی— فائل فوٹو: اے ایف پی
یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی— فائل فوٹو: اے ایف پی

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، میر واعظ عمر فاروق کی زیر قیادت حریت فورم سمیت دیگر حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے دی تھی۔

مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالیں، اس روز مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی مفلوج ہوگئے، فوجی اہلکار دن بھر گلیوں اور شاہراہوں پر گشت کرتے رہے جبکہ اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں اچانک چھاپہ مار کارروائیاں بھی کیں۔

خیال رہے کہ بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر ایک جانب بھارت میں فوجی پریڈوں اور عسکری قوت کا مظاہرہ کیا گیا تو وہیں دوسری جانب دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔

بھارت حقیقی جمہوری ملک نہیں، سید علی گیلانی

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی یوم جمہوریہ کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت حقیقی جمہوری ملک نہیں کیونکہ وہ پچھلے 72 برس سے کشمیریوں کی فوجی طاقت کے ذریعے آواز کچل رہا ہے۔

علاوہ ازیں حریت رہنماؤں، انجینئر ہلال احمد واراور محمد شفیع نے کہا تھا کہ کوئی قانون مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج کی موجودگی کا جواز پیش نہیں کرسکتا۔

اسی روز ضلع کولگام میں بھارتی فورسز کی کارروائی کے دوران ایک کشمیری نوجوان شہید ہوگیا تھا۔

قرارداد پر ووٹنگ ملتوی ہونے کو اکثر اراکین کی جانب سے تنقید کرتے ہوئے بھارت کی سفارتی لابی کے دباؤ کی صورت میں یورپی یونین کے ’ہتھیار ڈالنے اور ڈھیر ہوجانے‘ کی اہم مثال قرار دیا گیا تھا۔

فروری 2020