کراچی میں پی ایس ایل میچز کیلئے پارکنگ اور ٹریفک پلان جاری

اپ ڈیٹ 19 فروری 2020

ای میل

پی ایس ایل میچز کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
پی ایس ایل میچز کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی کی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 کے میچز کے لیے ٹریفک پلان جاری کردیا۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل 5 کا آغاز 20 فروری (جمعرات) سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم سے ہوگا۔

اسی سلسلے میں شہری انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے ٹریفک پلان جاری کیا تاکہ اسٹیڈیم آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سپر لیگ کیلئے 10لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم کا اعلان

ڈان اخبار میں سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ میں انتظامیہ کے جاری اعلامیے کے حوالے سے بتایا گیا کہ میچ دیکھنے کے لیے نیشنل اسٹیڈیم کراچی آنے والے تماشائیوں کو اپنا اصلی ٹکٹ اور ساتھ ہی اصلی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) دکھانا ہوگا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ تماشائیوں کو مخصوص مقامات پر پارکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس کے تحت اسٹیڈیم آنے والے اردو یونیورسٹی گراؤنڈ، ملینیم مال کے قریب غریب نواز فٹ بال اسٹیڈیم، ایکسپو سینٹر اور اسٹیڈیم روڈ پر آغا خان ہسپتال کے بالمقابل رانا لیاقت گلز کالج میں گاڑیاں پارک کرسکیں گے۔

اسی طرح سہراب گوٹ سے نیپا، لیاقت آباد نمبر 10 سے حسن اسکوائر، پیپلز چورنگی سے یونیورسٹی روڈ کی طرف ہیوی ٹریفک کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ شاہراہ فیصل سے اسٹیڈیم کی طرف ٹریفک کو آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ان تمام گاڑیوں کو نیپا، عسکری 4 (ملینیم)، ڈرگ روڈ سے شاہراہ فیصل یا ملینیم، نیپا سے صفورہ یا نیپا سے گلشن چورنگی، سہراب گوٹھ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں 350 فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے

علاوہ ازیں یونیورسٹی روڈ سے داخل ہونے والی گاڑیوں کو نیوٹاؤن چورنگی کے موڑ سے اسٹیڈیم روڈ جانے کی اجازت نہیں ہوگی، ایسے تمام ٹریفک کو جیل روڈ، شہید ملت یا سیدھا پیپلز چورنگی کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

تاہم آغا خان ہسپتال، لیاقت نیشنل ہسپتال سے آنے والے ٹریفک کو نیو ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے آنے کی اجازت ہوگی۔

اسی طرح جو لوگ میچ دیکھنے کے لیے آنا چاہیں گے انہیں اس طرف سے ٹکٹس دیکھنے کے بعد آنے دیا جائے گا جبکہ ٹریفک پولیس ان کی مدد کے لیے موجود ہوگی۔