پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق

ای میل

محکمہ صحت سندھ کے مطابق 22 سالہ نوجوان ایران سے آیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
محکمہ صحت سندھ کے مطابق 22 سالہ نوجوان ایران سے آیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

کراچی میں 22 سالہ نوجوان میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دوسرے کیس کی بھی تصدیق کردی ہے۔

26 فروری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'دونوں کیسز کا کلینیکل اسٹینڈرڈ پروٹوکولز کے مطابق خیال رکھا جارہا ہے اور دونوں افراد کی حالت مستحکم ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'حالات کنٹرول میں ہیں اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔'

ڈاکٹر ظفر مرزا نے تفتان سے واپس آکر جمعرات کو پریس کانفرنس کرنے کا بھی اعلان کیا۔

قبل ازیں کراچی کے 22 سالہ نوجوان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جو پاکستان میں وائرس سےمتاثرہ پہلا مریض ہے۔

آغا خان ہسپتال سے جاری بیان میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘مریض آئسولیشن وارڑ میں ہے اور بہتر حالت میں ہے’۔

ہسپتال کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے اسٹاف، طلبہ اور دیگر مریضوں کو وائرس کی منتقلی سے بچانے کو یقنی بنانے کے لیے انفیکشن کنٹرول سے متعلق سخت اقدامات کردیے گئے ہیں’۔

بیان میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ‘گھبرانے کی بات نہیں ہے اور تحمل کا مظاہرہ کریں’۔

آغا ہسپتال کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے ماہرین متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں تاکہ کوروناوائرس سے متعلق انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور ہم اپنے ہسپتال میں اور کلینکس میں آنے والے مریضوں کو محفوظ بنانے کے لیے یقینی اقدامات کررہے ہیں، ہسپتال اور کلینکس محفوظ اور کھلے ہوئے ہیں’۔

صوبائی وزیر صحت کی میڈیا کوآرڈینیٹر میران یوسف نےکراچی میں نوجوان کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا 22 سالہ نوجوان ایران سے 20 فروری کو آیا تھا، نوجوان ایران میں ہی وائرس سے متاثر ہوا اور وہاں ان میں علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

میڈیا کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ نوجوان آج نجی ہسپتال میں آیا تھا جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو بھی بلایا گیا اور مریض اور ان کے اہل خانہ کو ہسپتال میں ہی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران: نائب وزیر صحت، رکن پارلیمنٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق

ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے میران یوسف نے کہا کہ 22 سالہ متاثرہ شہری اور ان کے اہل خانہ کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ سفر کرنے والے تمام افراد کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ سفر کے دوران وائرس کسی اور مسافر کو منتقل نہ ہوا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ شہری کو کراچی کے نجی ہسپتال میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا گیا ہے۔

ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے بھی بیان میں نوجوان میں کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'متاثرہ شخص کو فوری طور پر آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'نوجوان کو ایئرپورٹ پر اسکین نہیں کیا گیا تھا، ایئرپورٹ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں جہاں فوری طور پر سرویلنس بڑھانے کی ضرورت تھی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت تمام اقدامات کر رہی ہے، متاثرہ شخص کے ساتھ جہاز میں سفر کرنے والے دیگر افراد کو بھی تلاش کر رہے ہیں جبکہ ایران سے فلائٹس روکنا بھی ضروری قدم ہوگا'۔

بعد ازاں اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں کے آئسولیشن وارٹ میں کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کو داخل کرادیا گیا اور اس کی تصدیق کی گئی۔

این آئی ایچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے متاثرہ شخص کاروباری ہیں اور ایران آتے جاتے رہتے ہیں اور چند دن قبل ہی ایران سے آئے تھے لیکن صحت کی خرابی کے باعث راولپنڈی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ پمز آئے جہاں انہیں آئسولین وارڈ میں رکھا گیا۔

ترجمان پمز کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص سکردو سے اسلام آباد آئے اور انہوں نے ایک ایک ماہ پہلے ایران کا سفر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے اور تشویش کی بات نہیں۔

خیال رہے کہ چین کے بعد پاکستان کے دیگر تینوں ہمسایہ ملک ایران، افغانستان اور بھارت میں پہلے ہی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے تھے لیکن پاکستان محفوظ رہا تھا۔

مزید پڑھیں:چین کے باہر کورونا وائرس کے کیسز تیزی سے سامنے آرہے ہیں، ڈبلیو ایچ او

پاکستان نے ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اپنی سرحد عارضی طور پر بند کردی تھی اور تفتان اور سرحدی علاقے میں انتظامات کیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس گزشتہ برس کے آخر میں چین کے صوبے ہوبے کے دارالحکومت ووہان میں سامنے آیا تھا جس کے بعد جنوری میں مزید کیسز سامنے آگئے تھے اور چین نے سخت اقدامات کیے تھے۔

دنیا کے سب سے بڑے آبادی کے حامل ملک میں شروع ہونے والے اس مہلک وائرس سے مزید 71 ہلاکتیں ہو گئی ہیں جس سے صرف چین میں اس وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 2ہزار 633 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 77 ہزار سے زائد افراد اب تک اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

چین کے بعد سب سے زیادہ 977 کیسز جنوبی کوریا سے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 10 افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں، کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں ایران دوسرے نمبر پر ہے جہاں 19 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم ازکم 2 ہزار 700 ہوچکی ہے اور 81 ہزار سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز اب چین سے باہر زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیدروس ایڈہانوم نے جنیوا میں سفارتکاروں کو بتایا کہ 'گزشتہ روز وائرس کے جتنے نئے کیسز چین کے باہر رپورٹ ہوئے ان کی تعداد پہلی بار چین سے زیادہ تھی۔'

اقوام متحدہ کی ہیلتھ ایجنسی کے مطابق منگل کے روز چین میں کورونا وائرس کے 411 نئے کیس سامنے آئے جبکہ اس سے باہر یہ تعداد 427 رہی۔

دنیا بھر کی حکومتیں اٹلی، ایران اور جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے تیزی سے سامنے آنے والے کیسز کے بعد اس کی روک تھام کی کوششیں کر رہی ہیں۔

ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 19 ہوگئیں

دوسری جانب ایران میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 ہوچکی ہے، جو چین کے بعد سب سے زیادہ اموات ہیں۔

ایران میں اب تک کورونا کے 139 کیسز کی تصدیق کی جاچکی ہے تاہم صدر حسن روحانی ایرانی شہروں کو فوری طور پر قرنطینہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران میں وائرس پر قابو پانے میں ایک سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔

گزشتہ روز ایران کے نائب وزیر صحت اور ایک رکن پارلیمنٹ میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

وزارت صحت کے ترجمان قیانوش جہانپور نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری سفر بالخصوص کورونا سے ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں قُم اور گیلان کے سفر سے گریز کریں۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے سبب ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔

کورونا وائرس سے متعلق مزید اہم خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔