روس بمقابلہ سعودی عرب تیل کی قیمتوں پر کیا اثر ڈال سکتا ہے؟

مارچ 10 2020

ای میل

روس اور سعودی عرب کے درمیان معاشی رسہ کشی شروع ہوگئی ہے—فائل/فوٹو:سعودی وزارت خارجہ
روس اور سعودی عرب کے درمیان معاشی رسہ کشی شروع ہوگئی ہے—فائل/فوٹو:سعودی وزارت خارجہ

تیل پیدا کرنے والے دنیا کے دو بڑے ممالک روس اور سعودی عرب کے درمیان اعصاب کا مقابلہ شروع ہوگیا ہے جہاں دونوں ممالک نے قیمت کی جنگ میں بڑے مالی فیصلے کرلیے ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے خام تیل کی قیمت میں کمی کردی ہے جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی آئی ہے جبکہ تیل کی پیداوار میں اضافے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے دونوں ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر 500 ارب ڈالر ہیں اور اپنے حوصلوں کے حوالے سے خطرناک بیانات دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 30 فیصد تک کم ہوگئی

روس نے تازہ بیان میں کہا کہ وہ تیل کی قیمت کو 6 سال سے 10 سال کے لیے فی بیرل 25 ڈالر سے 30 ڈالر تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

خبرایجنسی کے مطابق قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بھی فی بیرل تیل کی قیمت 30 ڈالر تک برقرار رکھنے کی پوزیشن پر ہے لیکن سرمایے میں اضافے کے لیے خام تیل کی برآمد میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے لیے یہ مقابلہ بے سود ہے جس سے ان کی اپنی معیشت کو بڑا نقصان پہنچے گا کیونکہ اس کے لیے انہیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔

سعودی ولی عہد کا عزم

اس معاملے سے جڑے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے روس کی جانب سے اوپیک کی پیش کش رد کیے جانے کے بعد تیل برآمد کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ریاست کو تیل کی پیداوار میں اضافے کے لیے مثبت اشارہ دے دیا ہے۔

ٹیلیمر کے حسنین ملک کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو اپنے قومی بجٹ کو متوازن رکھنے کے لیے تقریباً فی بیرل 80 ڈالر تک کرنا پڑتا ہے جو روس کے مقابلے میں دوگنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس کا پھیلاؤ، تیل کی قیمتوں میں کمی سے ایشیائی مارکیٹیں کریش کرگئیں

خیال رہے کہ سعودی عرب کے زرمبادلہ ذخائر 500 ارب ڈالر ہیں اور جی ڈی پی کا تناسب 25 فیصد ہے جس کے باعث قرض حاصل کرنے کے لیے معیشت میں کافی گنجائش موجود ہے۔

—فوٹو:اے پی
—فوٹو:اے پی

سعودی عرب نے تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 2016 سے اب تک قرض کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک بڑھادیا ہے۔

حکومت اور تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو نے انٹرنیشنل بانڈ جاری کردیا جبکہ سعودی ریال کی قدر بھی ڈالر کے مقابلے میں نیچے آگئی۔

تیل کی قیمتوں میں کمی سے سعودی حکومت کو پہلے سے جاری منصوبوں میں مزید اخراجات کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو ولی عہد کے معیشت کو جدید بنانے کی جانب کوششوں کا حصہ ہیں۔

ابوظہبی کمرشل بینک کے چیف اکنامسٹ مونیکا ملک کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل کی کم سطح پر آنے سے سعودی عرب کی جی ڈی پی کا خسارہ رواں برس دوگنا ہوجائے گا جو ریاض کے بجٹ خسارے کے اپنے تخمینے 6اعشاریہ 4 فیصد سے زیادہ ہے۔

روس کے ذخائر

روس نے صدر ویلادیمیرپیوٹن کے دور میں اپنے ذخائر کو 570 ارب ڈالر تک پہنچادیا ہے اور روس کی کرنسی بھی بدلتے حالات کے تحت آزادانہ طریقے سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنالیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق روس 2014 کے مقابلے میں اس وقت معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ اس وقت یوکرین سے تنازع کے باعث مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں یا 2008 کی عالمی کساد بازاری کے اثرات سے مالی بحران کا سامنا تھا۔

مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج: 2 ہزار 302 پوائنٹس کی تاریخی کمی کے بعد ریکوری

روس کے وزیر خزانہ اینٹن سیلونوف نے گزشتہ ہفتے قومی ذخائر کے حوالے سے کہا تھا کہ ‘کئی لوگ ہماری پالیسی پر تنقید کرتے ہیں کہ ذخائر اتنے ہیں کہ وزارت خزانہ سونے کے اوپر بیٹھی ہوئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لیکن اب حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور ہم نے جتنے اخراجات کیے ہیں اس کو برداشت کرنا ہوگا جس سے ذخائر پر اثر پڑے گا’۔

روس کے 570 ارب ڈالر کے قومی ذخائر میں نیشنل ویلتھ فنڈ بھی شامل ہے جو 150 اعشاریہ ایک ارب ڈالر یا روس کی جی ڈی پی کا 9.2 فیصد ہے۔

وزارت خزانہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تیل کی قیمت میں کمی سے سرمایے پر پڑنے والے اثرات کو برابر کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر فنڈ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

روس کے مرکزی بینک نے بیان میں کہا کہ غیرملکی کرنسی کی خریداری پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کی جائے گی، تاکہ ربل پر پڑنے والے دباؤ کو کسی صورت کم کیا جائے۔

تازہ صورت حال کے باعث روسی کرنسی ربل کی قدر میں کمی آئی ہے جو انٹربینک مارکیٹ میں 2016 کے سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ لندن میں روس کی تیل کمپنیوں روزنیفٹ اور لیوکوآئل کے حصص بھی بالترتیب 24.4 فیصد اور 18.5 فیصد گر گئے ہیں۔