زینب الرٹ بل ترمیم کے ساتھ قومی اسمبلی سے بھی منظور

ای میل

زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھا دیا گیا —فائل فوٹو: اے ایف پی
زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھا دیا گیا —فائل فوٹو: اے ایف پی

ایوان بالا (سینیٹ) میں کی گئی ترامیم کے بعد ایوان زیریں (قومی اسمبلی) میں پیش کیے گئے زینب الرٹ بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے زینب الرٹ بل کو منظوری کے لیے پیش کیا۔

اس دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے بل پر ترمیم پیش کی جس پر انہیں اسپیکر نے کہا کہ آپ کی ترمیم تاخیر سے موصول ہوئی ہیں اس لیے انہیں شامل نہیں کرسکتے۔

تاہم خواجہ آصف نے کہا کہ بل کے مقاصد پر کوئی اعتراض نہیں لیکن آپ کو ہر سگنل پر ایسی زینب نظر آئی گیں، جو گاڑی کے شیشے صاف کرتی اور بھیک مانگتی ہیں۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی: زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانے کی ترمیم منظور

انہوں نے کہا کہ بل کی نیت پر مجھے کوئی شک نہیں لیکن یہاں کچھ قانون سازی 'این جی اوز' کے لیے ہورہی ہے، لہٰذا پہلے سڑکوں پر سے بھیک مانگنے والے اور سگنلز پر کھڑے ہونے والے بچوں کو وہاں سے ہٹائیں۔

علاوہ ازیں بل پر جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے مخالفت میں ووٹ دیا اور کہا کہ آپ بچوں سے زیادتی کرنے والے افراد کو بچا رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے رکن نے اس بنیاد پر بل کی مخالفت کی کہ اراکین نے ترامیم جمع کروانے کے لیے وقت نہیں فراہم کیا۔

مولانا اکبر چترالی کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراض پر شیریں مزاری نے کہا کہ ان کی جماعت نے بل میں کوئی تعاون نہیں کیا، ایک سال کے دوران یہ بل پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اور پھر سینیٹ میں گیا لیکن مولانا نے کسی بھی موقع پر کوئی ترمیم نہیں پیش کی اور اب یہ آخر میں شور شرابا کر رہے ہیں۔

شیریں مزاری نے کہا کہ سینیٹ نے اس بل میں کافی اہم ترامیم کیں تھیں۔

تاہم جب اعتراض کے بعد اسپیکر نے بل کی شق وار منظوری لینے کا عمل شروع کیا تو مولانا اکبر چترالی 'نہیں' کے نعرے لگاتے رہے تاہم دیگر اراکین کے اتفاق سے یہ بل کثرت رائے سے منظور ہوگیا۔

اس موقع پر رکن اسمبلی اور وزیر علی محمد خان نے مولانا اکبر چترالی کو کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں تو بل کے پاس ہونے کے بعد بھی ترامیم پیش کرسکتے ہیں۔

بل کی منظوری پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپوزیشن اراکین سمیت تمام اراکین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: زینب الرٹ بل اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود سینیٹ سے منظور

واضح رہے کہ دونوں ایوانوں کی منظوری کے بعد اب یہ صدر کی رضامندی سے پارلیمنٹ کا ایکٹ بن جائے گا۔

یاد رہے کہ یہ بل سب سے پہلے 10 جنوری 2020 کو قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا تھا تاہم اس وقت اس کا دائرہ کار صرف اسلام آباد تک محدود تھا، جس کے بعد یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں آیا تو وہاں اس کے دائرہ کار کو ملک بھر تک بڑھانے کی منظوری دی گئی۔

بعد ازاں یہ بل 4 مارچ 2020 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا جہاں اس بل کی ترامیم کے ساتھ منظوری دی گئی۔

خیال رہے کہ سینیٹ کی جانب سے کی گئی ترامیم میں سب سے بڑی تبدیلی یہ کی گئی تھی کہ اس بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھادیا گیا ہے۔

تاہم آج کے اجلاس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ جب بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس کے اغراض و مقاصد میں اسلام آباد کی حدود کا لفظ ختم نہیں کیا گیا تھا لیکن اس پر اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے آئین کے تحت اس لفظ کو تبدیل کردوں گا۔

زینب الرٹ بل

ریپ اور قتل کا نشانہ بننے والی قصور کی کمسن زینب انصاری کی لاش کے ملنے کے ٹھیک 2 سال بعد رواں برس 10 جنوری کو قومی اسمبلی نے زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ 2019 متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔

مذکورہ بل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے جون 2019 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

منظور کردہ بل کے مطابق 'بچوں کے خلاف جرائم پر عمر قید، کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال سزا دی جاسکے گی جبکہ 10 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا'۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے زینب الرٹ بل کی منظوری دے دی

علاوہ ازیں لاپتہ بچوں کی رپورٹ کے لیے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی اور 18 سال سے کم عمر بچوں کا اغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے اور گمشدگی کی ہنگامی اطلاع کے لیے زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایجنسی بھی قائم کی جائے گی۔

بل میں کہا گیا تھا کہ 'جو افسر بچے کے خلاف جرائم پر دو گھنٹے میں ردعمل نہیں دے گا اسے بھی سزا دی جاسکے گی'۔

بل کی منظوری کے وقت کہا گیا تھا کہ قانون صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لاگو ہوگا تاہم بعد ازاں سینیٹ قائمہ کمیٹی نے اس کا دائرہ کار پورے ملک تک وسیع کرنے کی منظوری دے تھی۔