گیس کمپنیوں کو قیمتوں میں کمی، ریونیو ہدف کم کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2020

ای میل

ہدایات میں اثاثوں پر فرسودگی کی شرح ایک فیصد کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا — 
 تصویر: شٹر اسٹاک
ہدایات میں اثاثوں پر فرسودگی کی شرح ایک فیصد کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا — تصویر: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے حکومت نے گیس کی 2 کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائیریکٹرز اور منیجنگ ڈائریکٹرز کو باضابطہ طور پر صارفین کو کم قیمتوں کے ذریعے ریلیف پہنچانے کے لیے ریونیو کے بڑے حصے کو چھوڑنے کی ہدایت کردی۔

ایک مراسلے میں پیٹرولیم ڈویژن نے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے چیئرپرسنز کو صارفین کے لیے قیمتوں میں ریونیو ضروریات کو کم کرنے کے لیے اپنے بورڈز سے منظوری لینے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مراسلے میں کمپنیوں کو اپنے اَن اکاؤنٹڈ فار گیس (یو ایف جی) کے بینچ مارک اوگرا کے منظور شدہ 6.3 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کرنے کی ہدیات کردی جس سے گیس کمپنیوں کے ریونیو میں ایک سال میں 10 ارب روپے کی کمی آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گیس کمپنیوں نے موسم سرما میں 55 ارب روپے کی سبسڈی کا بل تیار کرلیا

مزید یہ کہ گیس کمپنیوں سے ریٹ آف ریٹرن اوگرا کے منظور شدہ 17 اور 17.5 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا بھی کہا گیا جس سے ان کے ریونیو میں ایک سال کے عرصے میں 5 ارب روپے کی کمی آئے گی۔

اس کے علاوہ دی گئی ہدایات میں اثاثوں پر فرسودگی کی شرح ایک فیصد گھٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا جس سے پڑنے والے مالی اثرات 5 ارب روپے کے برابر ہوں گے۔

سب سے اہم یہ کہ دونوں گیس کمپنیوں کو مزید 5 ارب روپے کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے مجموعی ترسیلی اور تقسیمی لاگت کو کم کر کے معقول بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔

سیکریٹری پیٹرولیم اسد حیات الدین کا تحریر کردہ مراسلہ دونوں کمپنیوں کے بورڈز اور انتظامیہ کو بھجوادیا گیا جس میں کہا گیا کہ ’گیس کے صارفین کو ریلیف پہنچانے کے لیے قیمتوں میں کمی کے متعدد آپشنز‘ کا جائزہ لے کر ان عوامل کی نشاندہی کی گئی۔

مزید پڑھیں: گیس کی کم از کم قیمت میں 39 فیصد تک کا اضافہ

مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعظم آفس کی تجویز پر ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل اور اوگرا کے ساتھ ابتدائی مشاورتی اجلاس کیا گیا جس میں چاروں معاملات اور کمپنیوں کے مطلوبہ اقدام پر غور کیا گیا۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ ریگولیٹر نے مذکورہ مشاورتی اجلاس میں واضح طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مطالبات ملک کے موجودہ قوانین کے تحت زیر غور نہیں لائے جاسکتے کیوں کہ ٹیرف میں تمام بینچ مارک ریگولیٹری طریقہ کار کے ذریعے مقرر کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ریگولٹری میکانزم کے تحت اس طرح کے مطالبات اجلاسوں اور مراسلوں پر پورے نہیں کیے جاسکتے کیوں کہ شدید صورتحال میں پالیسی رہنمائی ریگولیٹر کے لیے اس وقت قابلِ قبول ہوتی ہے جب وفاقی کابینہ اس کی باقاعدہ منظوری دے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی، گیس کی قیمتوں میں کمی کیلئے وزیراعظم کی 'غیرمعمولی حل' تلاش کرنے کی ہدایت

ہر حال میں وزیراعظم دفتر کی جانب سے مجوزہ بینچ مارکس دونوں گیس کمپنیوں کو خسارے میں چلنے والے ادارے میں تبدیل کردیں گے کیوں کہ وہ اس وقت بہت کم منافع پر کام کررہی ہیں۔

اس ضمن میں باخبر ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ریگولیٹری بینچ مارکس میں کمی کی تجاویز وزیراعظم کے انسپیکشن کمیشن اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے کنسلٹنٹس کی جانب سے گیس فراہمی کے سلسلے میں بھاری نقصانات پر تحفظات کا اظہار کرنے سے شروع ہوئی۔

اس سلسلے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں گیس کمپنیوں کے بینچ مارک میں کمی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا؟ تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔