پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کے ایس ای 100 انڈیکس 2100 سے زائد پوائنٹس کم

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

پاکستان اسٹاک اسیکچینج—فائل فوٹو: رائٹرز
پاکستان اسٹاک اسیکچینج—فائل فوٹو: رائٹرز

کورونا وائرس کے باعث مختلف صوبوں اور علاقوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے اعلان اور آرمی کو طلب کیے جانے کے ایک روز بعد ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار ایک سو پوائنٹس کم ہوگیا۔

منگل کو کاروباری دن کا آغاز معمول کے مقابلے میں 2 گھنٹے بعد 11.30 بجے ہوا اور شروع میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار 826 پوائںٹس گرکیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 928 پوائنٹس گرکیا جس کے بعد کاروبار کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس—اسکرین شاٹ
کے ایس ای 100 انڈیکس—اسکرین شاٹ

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: مزید نئے کیسز سے ملک میں متاثرین کی تعداد 887 ہوگئی

واضح رہے کہ یہ 3 ہفتوں میں 7ویں مرتبہ ہے کہ کاروبار کو شدید مندی کے باعث روکنا پڑا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے 3 مرتبہ جبکہ اس سے قبل گزرنے والے ہفتے میں بھی 3 مرتبہ کاروبار کو روکنا پڑا تھا۔

بعد ازاں مارکیٹ کا آغاز ہوا تو بھی مندی کا یہ رجحان جاری رہا جو کاروبار کے اختتام تک دیکھنے میں آیا۔

جب کاروبار بند ہوا تو کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 102 پوائنٹس کم ہوکر 28 ہزار 564 پوائنٹس پر آگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 7 فیصد سے زائد (ایک ہزار 10 پوائنٹس) کم ہوکر 12 ہزار 527 پوائنٹس پر آگیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ایک رپورٹ میں پچھلے ہفتے کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ گزرنے والا ہفتہ اسٹاک مارکیٹ کے لیے ڈراؤنا خواب تھا جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 5 ہزار 393 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی اور تاریخ کی سب سے شدید مندی کو ظاہر کیا۔

کے ایس ای 30 انڈیکس—اسکرین شاٹ
کے ایس ای 30 انڈیکس—اسکرین شاٹ

گزشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے دوران 15 فیصد کمی آئی جو دسمبر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد شرح کے لحاظ سے سب سے بڑی کمی تھی۔

پاکستانی مارکیٹ تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے متاثر ہورہی جہاں کیسز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا وہیں سرمایہ کار بھی مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال کر محفوظ جگہ منتقل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں 2008 کے بعد سب سے برا ہفتہ ریکارڈ

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سرمایہ کار انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں لاک ڈاؤن اور اہم شہروں میں دفاتر بند ہونے سے صنعتی و معاشی اثرات مرتب ہونے سے متعلق تشویش تھی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے جہاں عالمی اسٹاک مارکیٹ پر اثرات پڑے وہیں پاکستان میں بھی اس عالمی وبا کے آنے کےبعد سے مارکیٹ بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔

گزشتہ 3 ہفتوں میں مارکیٹ میں تقریباً ہر روز ہی مندی نظر آئی اور اب ملک کے مختلف صوبوں خاص طور پر سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کے اثرات مارکیٹ پر پڑتے نظر آرہے ہیں۔