خوراک، دوا ساز کمپینوں کے سوا تمام صنعتی زونز بند

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

فیکٹری مالکان یومیہ اجرت کے ملازمین کو اشیائے ضروریات کی فراہمی کے لیے کام کررہے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
فیکٹری مالکان یومیہ اجرت کے ملازمین کو اشیائے ضروریات کی فراہمی کے لیے کام کررہے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی

سندھ حکومت نے 15 روز کے لاک ڈاؤن کے دوران ادویات ساز اور تیار خوراک بنانے والی کمپنیوں کو اپنے افعال جاری رکھنے کی اجازت دی ہے جبکہ دیگر صنعتی یونٹس کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صنعتی نمائندوں نے بتایا کہ دوا ساز اور خوراک کے علاوہ مینوفیکچررز بھی صنعتی پیداوار زیرو ہونے کے باوجود وزارت داخلہ کی جانب سے ملازمین اور مزدوروں کو نوکری سے نہ نکالنے کے احکامات پر عمل کررہے ہیں۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چاولہ نے کہا کہ 4 ہزار یونٹس کے فیکٹری مالکان اپنے ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ یومیہ اجرت کے ملازمین کو خوراک اور دیگر اشیائے ضروریات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں جو شہر میں صنعتوں کی بندش کے باعث آمدن کھو دینے کے خطرے کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے11 کھرب 60 ارب روپے کا ریلیف پیکج تیار کرلیا

سلیمان چاولہ کا کہنا تھا کہ ’غیر پیداواری دنوں میں ہم کسی ایک بھی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالیں گے اور ملازمین کو یکم اپریل سے قبل تنخواہیں فراہم کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔

اس ضمن میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ وہ اس صنعتی علاقے میں یومیہ اجرت کے ملازمین کی تعداد نہیں بتاسکتے جہاں ان کے اندازے مطابق 10 سے 15 لاکھ افراد ساڑھے 4 ہزار صنعتی یونٹس میں کام کر کے اپنے اہلِ خانہ کے لیے روزگار کماتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورتحال میں نہ تو ہم کسی ملازم کو نکال رہے ہیں اور نہ ہی ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کررہے ہیں‘۔

اس کے علاوہ یکم اپریل سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی کے ساتھ ورکرز کو خوراک فراہم کرنے کے انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا کورونا وائرس کے پیش نظر معاشی ریلیف پیکیج کا اعلان

ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ عابد نے کہا کہ ’صنعتی علاقے میں موجود 2 ہزار یونٹس میں کام کرنے والے کسی ملازم کو نوکری سے نکالنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے‘۔

ان نے کہنا تھا کہ ’کئی ملازمین اندرونِ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں جو مارچ کی ایڈوانس تنخواہوں کے ساتھ پہلے ہی اپنے گھروں کو جاچکے ہیں جبکہ کئی فیکٹریوں میں ورکرز کو اشیائے خورونوش مثلاً آٹا، چاول، دالیں، چائے اور چینی بھی فراہم کی گئی ہے۔

دوسری جانب نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر نسیم اختر نے کہا کہ ’ہم اپنے ملازمین، عملے کے اراکین اور مزدوروں کو اس بات کی یقین دہانی کروائیں گے کہ امتحان کی اس گھڑی میں تنخواہوں میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کو اشیائے خورو نوش پر ٹیکسز کم کرنے کیلئے سمری پیش کرنے کی ہدایت

انہوں نے مزید بتایا کہ ایسوسی ایشن کے ویلفیئر کلینک میں رجسٹرڈ 24 ہزار غریبوں کو 10 لاکھ روپے کی اشیائے خور و نوش فراہم کی جارہی ہیں۔

مزید یہ کہ یومیہ اجرت کے ملازمین کو آئندہ 15 روز کے اشیائے ضروریات فراہم کرنے کے بھی انتظامات کیے جارہے ہیں۔