اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں مزید ڈیڑھ فیصد کمی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ مارچ 24 2020

ای میل

اجلاس میں ملکی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے حاصل ہونے والی نئی معلومات پر بھی غور کیا گیا، اسٹیٹ بینک — فائل فوٹو
اجلاس میں ملکی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے حاصل ہونے والی نئی معلومات پر بھی غور کیا گیا، اسٹیٹ بینک — فائل فوٹو

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں مزید 150 بیسز پوائنٹس کم کرکے اسے 11 فیصد پر لانے کا فیصلہ کرلیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں مرکزی بینک نے کہا کہ 'مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث انتہائی غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے کہ یہ کس طرح پاکستان اور عالمی معیشت کو متاثر کرے گا۔'

بیان میں کہا گیا کہ 'گزشتہ اجلاس میں ملکی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے حاصل ہونے والی نئی معلومات پر بھی غور کیا گیا جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں شرح نمو اور مہنگائی کے آؤٹ لُک کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں مزید کمی کی جائے۔'

واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل ہی اسٹیٹ بینک نے ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے شرح سود 75 بیسز پوائنٹس کمی کے ساتھ ساڑھے 12 فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک نے معاشی اور کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا بھی اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

مرکزی بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘زری پالیسی کمیٹی نے اجلاس میں پالیسی ریٹ 75 بیسز پوائنٹس کم کرکے 12.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں حالیہ سست روی، قیمتوں کی توقعات میں کمی، عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں کمی اور کورونا وائرس کے باعث بیرونی اور ملکی طلب میں سست رفتار سے مہنگائی میں بہتری کا عکاس ہے’۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘مہنگائی کے حوالے سے توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کی 11 تا 12 فیصد کی پیش گوئی کے اندر رہے گی اور وسط مدتی ہدف میں 5 سے 7 فیصد کی حد میں آجائے گی’۔