کورونا وائرس: اشیائے خورونوش کی برآمد روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

ای میل

—فائل/فوٹو: سپریم کورٹ
—فائل/فوٹو: سپریم کورٹ

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر سبزی اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی برآمد روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

سپریم کورٹ میں درخواست آرٹیکل 184 (3) کے تحت ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ہے جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کورونا وائرس سے دنیا کے کئی ممالک نے لاک ڈاؤن کرکے بیرون رابطوں کو منقطع کردیا ہے اور اپنے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جاری لاک ڈاون اور سبزیوں اور اشائے خور ونوش کی برآمد کے باعث ان کی دستیابی مشکل اور مہنگے داموں ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم عمران خان کا کورونا وائرس کے پیشِ نظر ریلیف پیکج کا اعلان

ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا اس کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہے کہ لوگوں کا مدافعتی نظام کو بہتر بنایا جائے اور علاج کے لیے اس وقت بہترین خوراک سبزیاں اور پھل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں سبزیاں اور پھلوں کی برآمد کے باعث کینو 250 سے 300 روپے درجن فروخت کیا جارہا ہے جبکہ غریب کے لیے اتنا مہنگا پھل خریدنا ناممکن ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کینو میں 'وٹامن سی' پایا جاتا ہے جو کورونا وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے، اس لیے عدالت کینو اور سبزیوں کی برآمدات پر پابندی کا حکم جاری کرے۔

عدالت سے استدعا کرتے ہوئے درخواست گزار نے کہا کہ سبزیوں اور پھلوں کی وافر اور سستے داموں فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی جائے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبہ جات کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس: پنجاب، سندھ، گلگت میں مزید کیسز، ملک میں 916 متاثرین ہوگئے

وزیر اعظم نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ آج ہمیں کورونا سے نہیں ہے بلکہ کورونا سے خوف میں آ کے غلط فیصلے کرنے سے ہے کیونکہ ہم بھی جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے اثرات مرتب ہوتے اور ہمیں اپنے ملک کے حالات دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم جو فیصلہ کریں گے کہیں اس کے اثرات معاشرے میں کورونا سے زیادہ تباہی تو نہیں مچا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچنا ہے کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اگر ہمارے معاشی حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو کرفیو لگانا آسان ہوتا۔

وزیراعظم نے ریلیف پیکج کے حوالے سے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 15 روپے کی فوری کمی کی گئی ہے، بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں ادا کیے جاسکتے ہیں، طبی سامان کے لیے 50 ارب روپے وقف کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کھانے پینے کی اشیا پر بھی ٹیکس کم کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور ایکسپورٹ کئ شعبے کو فوری بنیاد پر 100 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈ فراہم کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی صنعت اور زرعی شعبے کے لیے بھی 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ان کے لیے کم سود پر قرضے بھی دیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ معاشرے کے انتہائی غریب طبقے کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں جس کے تحت ہر غریب خاندان کو 4 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ تعداد 916 تک پہنچ چکی ہے۔

پنجاب میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں مجموعی اموات کی تعداد 7 جبکہ پنجاب میں مزید 16 کیسز، سندھ میں مزید 13 کیسز اور گلگت بلتستان میں مزید 9 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 916 ہوچکی ہے۔