سعودی حکومت کی پاکستان سے حج معاہدے نہ کرنے کی درخواست

ای میل

اس سلسلے میں ہونے والی نئی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا جائے گا، محمد صالح بن طاہر بنتن — فائل فوٹو / اے ایف پی
اس سلسلے میں ہونے والی نئی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا جائے گا، محمد صالح بن طاہر بنتن — فائل فوٹو / اے ایف پی

سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان سے رواں سال کے حج معاہدے نہ کرنے کی درخواست کردی۔

سعودی وزیر حج و عمرہ محمد صالح بن طاہر بنتن کی جانب سے وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے وسیع پیمانے پر پھیلنے اور مقامی و عالمی سطح پر وائرس کی روک تھام کے لیے صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں کی سفارشات کے مطابق اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسجد حرام اور مسجد نبویؐ کے لیے آنے والوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی خاطر حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔

خط میں وزیر مذہبی امور سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بنیاد پر اپنے دفتر امور حجاج کو ہدایات دیں کہ وہ اس سال 1441 ہجری کے نئے معاہدے اس وقت تک نہ کریں جب تک کورونا وائرس کی سمت کا تعین نہ ہوجائے۔

خط میں سعودی وزیر حج و عمرہ نے کہا کہ میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ سعودی حکومت اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نتائج اور نئی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور احتیاطی تدابیر کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جبکہ اس سلسلے میں ہونے والی نئی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے باعث حج منسوخی کا فیصلہ نہیں کیا گیا، سعودی سفیر

سعودی وزیر کا مراسلہ موصول ہونے کے بعد وزارت مذہبی امور نے حج پر کام روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے سوشل میڈیا پر حج روکنے کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حج انتظامات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم سعودی وزارت حج و عمرہ سے مسلسل رابطے میں ہیں، سعودی عرب نے حج انتظامات روکنے سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سعودی وزارت حج نے ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں کا حتمی معاہدہ فی الحال مؤخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے سعودی عرب میں پہلی موت کی تصدیق

پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے بھی کہا تھا کہ سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس حج منسوخ کرنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ 'اگر حج کی منسوخی کا کوئی فیصلہ ہوا تو اس فیصلے سے عازمین حج کو بروقت ذمہ داری سے آگاہ کیا جائے گا'۔