کورونا وائرس: امریکی سینیٹ سے 20کھرب ڈالر کا امدادی پیکج منظور

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2020

ای میل

کورونا وائرس کے سبب ہنگامی صورتحال کے پیش نظر  20کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری دی گئی— فوٹو: رائٹرز
کورونا وائرس کے سبب ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 20کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری دی گئی— فوٹو: رائٹرز

امریکا کی سینیٹ نے کورونا وائرس کے سبب ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 20 کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق کئی دن سے جاری بحث و مباحثے کے بعد ایک عرصے سے منقسم سینیٹ نے متفقہ طور پر امدادی پیکج کو منظور کر لیا جہاں اس بل کے حق میں 96 اور اس کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: اٹلی میں 7ہزار ہلاکتیں، عالمی سطح پر 22ہزار سے زائد اموات

اس بل کو جمعہ کو ایوان نمائندگان کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

20 کھرب ڈالر کی اس خطیر رقم کو بیروزگار ہونے والے افراد اور وائرس سے متاثر ہونے والے صنعتی شعبے کے ساتھ ساتھ جنگی بنیادوں پر طبی آلات کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی یہ بل ان کی میز پر پہنچے گا، وہ فوری طور پر اس پر دستخط کر کے قانون کی شکل دے دیں گے۔

کانگریس کی جانب سے منظور امریکی تاریخ کے سب سے بڑے امدادی پیکج کے تحت 500 ارب ڈالر سے وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صنعتی شعبے کی مدد کی جائے گی جبکہ 3 ہزار ڈالر فی کس امریکا کے لاکھوں خاندانوں میں امداد کے طور پر تقسیم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان میں ایک ماہ کے دوران متاثرین کی تعداد 1190 تک جاپہنچی

اس کے علاوہ چھوٹے کاروباروں کو قرض کے لیے 350 ارب ڈالر، بیروزگاروں کی مدد کے لیے 250 ارب ڈالر اور ہسپتال سمیت نظام صحت کے لیے 100 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

سینیٹ کے رہنماؤں نے اس بیماری کے سبب درپیش چیلنجز کو سمجھتے ہوئے متفقہ طور پر بل کی منظوری دی جہاں ڈیموکریٹک سینیٹ کے اقلیتی رکن چک شومر نے اس بیماری کو عجیب اور خطرناک قرار دیا۔

اس پیکج کا مقصد وائرس کے سبب معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی کم کرنا ہے جہاں امریکا میں اب تک وائرس سے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 60 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ امریکا دنیا میں اس وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے اور اس وقت صرف اٹلی اور اسپین میں امریکا سے زیادہ متاثرہ مریض ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: بھارت میں غریبوں کیلئے 22.6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان

سینئر سینیٹرز اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھیوں نے کہا کہ پانچ دن تک جاری رہنے والی مشاورت کے بعد وہ اس بل پر متفق ہو گئے۔

چند ریپبلیکن سینیٹرز کا اعتراض تھا کہ کچھ بیروزگار افراد کو اتنا معاوضہ دیا جا رہا ہے جتنا وہ نوکری کر کے بھی نہیں کما پاتے البتہ بل میں اس حوالے سے ترمیم کی ان کی کوشش ناکام رہی۔

اس بل کو جمعہ کو امریکی ایوان نمائندگان سے منظور کیے جانے کا امکان ہے لیکن ووٹنگ کے دوران ہوائی اور الاسکا کے نمائندوں کی شرکت کا امکان نہیں کیونکہ ان دونوں ریاستوں میں لاک ڈاؤن ہے یا پھر کچھ نمائندوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے امید ظاہر کی کہ یہ بل جلد منظور ہو جائے گا اور موجودہ بحران میں ضرورت پڑنے پر کانگریس مزید قانون سازی کر سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پوپ فرانسس کے قریب رہنے والا پادری کورونا کا شکار

نیویارک کے گورنر اینڈریو کوامو نے اس بل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بل میں ان کی ریاست کے لیے مختص 3.8 ارب ڈالر ناکافی ہیں کیونکہ وہ معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے سبب ٹیکس ریونیو کا احاطہ نہیں کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ امریکا میں نیویارک کی ریاست وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جہاں ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے نصف نیویارک میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

نینسی پلوسی نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہا کانگریس مزید کرنا چاہتی تھی لیکن ہمارے پاس اس بل کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: کچھ ممالک کے لوگ ماسک پہن رہے ہیں اور کچھ میں نہیں، ایسا کیوں؟

ادھر لندن میں امریکا کے سفیر نے چین پر الزام عائد کیا کہ اس نے وائرس کے حوالے سے معلومات چھپا کر پوری دنیا کو خطرے میں ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر چین نے صحیح وقت پر درست اقدامات کیے ہوتے تو وہ ناصرف خود کو بلکہ دنیا کی ایک بڑی آبادی کو اس تباہ کن بیماری سے بچا سکتے تھے۔