کورونا وائرس: اقوام متحدہ کے 2 ارب ڈالر کے امدادی منصوبے کا آغاز

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

عالمی سطح پر اقدامات اور یکجہتی انتہائی اہم قرار دی گئی ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
عالمی سطح پر اقدامات اور یکجہتی انتہائی اہم قرار دی گئی ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

کورونا وائرس سے پوری انسانیت کو خطرہ لاحق ہے جس کے تناظر میں اقوام متحدہ نے دنیا کے غریب ترین اور انتہائی کمزور لوگوں کی مدد کے لیے ایک انسانی ہمدردی کا منصوبہ شروع کردیا جس میں 2 ارب ڈالر عطیہ کیلئے اپیل کی گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے کہا کہ ’کورونا وائرس پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے (لہٰذا) پوری انسانیت کو ایک ساتھ اس کا مقابلہ کرنا چاہیے‘۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے مدافعتی نظام مضبوط بنانے والی غذائیں

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اقدامات اور یکجہتی انتہائی اہم ہے کیونکہ ممالک کے انفرادی ردعمل کافی نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جس میں سے 13 ہزار افراد یورپ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کا منصوبہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں وائرس سے لڑنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور انتہائی کمزور لوگوں خاص طور پر خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور یا دائمی بیماری میں مبتلا افراد کی ضروریات کو حل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مکمل مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے تو اس سے بہت ساری جانیں بچ جائیں گی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ متعلقہ این جی اوز کے ذریعے طبی ساز وسامان اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کی فراہمی ممکن ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ایک فٹبال میچ جس نے اطالوی شہر کو کورونا وائرس کا مرکز بنادیا

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا یہ منصوبہ 9 ماہ یعنی اپریل سے دسمبر پر مشتمل ہے، عطیہ سے مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر سے زائد رقم جمع کی جائے گی اور عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام بھی اس سلسلے میں اپیل کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا تدارک نہیں کیا گیا تو دیگر امراض جیسے ہیضہ اور خسرہ کی وبا پھوٹ سکتی ہیں اس لیے کمزور ممالک کے لیے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

80 صفحات پر مشتمل کتابچے میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کا یہ منصوبہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ذریعہ عمل میں لایا جائے گا۔

مزیدپڑھیں: ملک میں نئے کیسز کے ساتھ کورونا متاثرین کی تعداد 1078 ہوگئی

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ اس رقم کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جائے گا جبکہ کچھ ممالک کی صحیح ضروریات کے بارے میں معلومات ابھی بھی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے متعلقہ حکام پرزوردیا کہ دنیا کے غریب ترین ممالک کو فوری طور پر قرض سے نجات فراہم کی جائے کیونکہ وہ تیزی سے پھیلتے ہوئے وائرس کے سنگین نتائج سے دوچار ہیں۔

مشترکہ بیان میں دونوں اداروں نے باضابطہ قرض دہندگان سے مطالبہ کیا کہ اگر درخواست کی جائے تو بین الاقوامی ترقی ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کے رکن ممالک سے قرضوں کی ادائیگیوں کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ اور دنیا کے دوتہائی افراد انتہائی غربت میں زندگی گزارنے والی اقوام کو وبائی امراض کا سامنا ہے۔