کورونا وائرس: مقبوضہ کشمیر کے ڈاکٹرز مواصلاتی بندش پر آن لائن ٹریننگ سے محروم

اپ ڈیٹ 31 مارچ 2020

ای میل

26 مارچ کو مقبوضہ کشمیر میں پہلی ہلاکت سامنے آگئی تھی— فوٹو: اے ایف پی
26 مارچ کو مقبوضہ کشمیر میں پہلی ہلاکت سامنے آگئی تھی— فوٹو: اے ایف پی

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش کے بعد سیکڑوں ڈاکٹرز بھارتی وزیر صحت کی درخواست پر کورونا وائرس سے متعلق آن لائن سیشن کا حصہ نہ بن سکے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر صحت نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کو وینٹیلیٹرز اور کورونا وائرس سے متعلق اہم طبی معلومات فراہم کرنے کے لیے آن لائن ٹریننگ سیشن میں مدعو کیا تھا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

خیال رہے کہ گزشتہ برس اگست میں نئی دہلی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی جس کے بعد سے وادی میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکا، اسے دنیا کی سب سے طویل مواصلاتی بندش قرار دیا جاچکا ہے جہاں لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سہیل نائک نے کہا کہ ہم لوگوں کو ویڈیوز کے ذریعہ تعلیم دینا چاہتے ہیں جو 2 جی کی رفتار سے ممکن نہیں ہے، ہم تیز رفتار انٹرنیٹ کی عدم موجودگی کے باعث بے بس ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے عہدیداروں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پیغام پھیلانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی رفتار ’ناکافی‘ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں آل پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے بتایا کہ 6 لاکھ 50 بچوں کے لیے آن لائن کلاس کی تیاری کی گئی لیکن سست انٹرنیٹ کی وجہ سے کلاسز کا انعقاد نہیں ہوسکا۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں پر تشویش ہے، پاکستان

انہوں نے کہا کہ ہم انٹرنیٹ کی وجہ سے طلبہ سے رابطہ قائم کرنے سے قاصر ہیں، 2 جی کے ذریعے تدریسی مواد ڈاؤن لوڈ نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھنے میں ناکام ہوں کہ وہ (بھارت) تیز رفتار انٹرنیٹ کو بحال کیوں نہیں کررہے ہیں؟ پہلے ان کے پاس امن و امان کی پریشانیوں کا بہانہ تھا لیکن اب کرفیو اور کورونا وائرس کا خدشہ ہے اور کوئی بھی سامنے آنے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔

بھارت کا وفاقی وزارت داخلہ، جو مقبوضہ کشمیر میں پالیسی کے ذمہ دار ہیں، کی ترجمان وسودھا گپتا نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ 26 مارچ کو مقبوضہ کشمیر میں پہلی ہلاکت سامنے آگئی تھی۔

دوسری جانب پاکستان متعدد مرتبہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش کے نتیجے میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرچکا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کا سلامتی کونسل کو خط، مقبوضہ کشمیر کے سنگین حالات سے آگاہ کردیا

پاکستان نے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی ایمرجنسی کی صورت حال کے باوجود مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کردیا۔

گزشتہ روز دفترخارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ'مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے کئی کیسز کی تصدیق کے باوجود خطے میں عائد پابندیوں پر پاکستان کو گہری تشویش ہے'۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ 'ہزاروں کشمیری نوجوان، سول سوسائٹی کے اراکین، صحافی اور سیاسی قیادت بدستور بھارتی جیلوں میں قید ہیں جن میں کئی افراد کو خاندانوں سے دور نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا ہے'۔