رپورٹ میں کچھ نہیں ہے،عمران خان سے تعلقات پہلے جیسے نہیں، جہانگیر ترین

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2020

ای میل

میرے متعلق لوگ بہت غلط باتیں پھیلاتے ہیں، جہانگیر ترین — فائل فوٹو
میرے متعلق لوگ بہت غلط باتیں پھیلاتے ہیں، جہانگیر ترین — فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ چینی کے بحران سے متعلق رپورٹ میں ایک ٹیبل کے علاوہ کچھ نہیں جبکہ ان کے وزیر اعظم عمران خان سے تعلقات پہلے جیسے نہیں ہے۔

نجی چینل 'سماء نیوز' کے پروگرام 'ندیم ملک لائیو' میں گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ 'میں پاکستان کی 20 فیصد چینی ضرور بناتا ہوں لیکن اس کے پیچھے30 سال کی محنت ہے، ای سی سی کا اکتوبر 2018 کا اجلاس اسد عمر کی زیر صدارت ہوا جس میں 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دی گئی، اسد عمر سے چینی کی برآمد پر کوئی بات نہیں کی، میرا شوگر مارکیٹ میں 20 فیصد شیئر اور 6 ملیں ضرور ہیں لیکن 74 اور ملیں بھی ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'چینی کا کوئی بحران نہیں تھا، سیزن کے آغاز میں 10 لاکھ ٹن کا اسٹاک صرف پنجاب میں موجود تھا جبکہ ڈھائی تین لاکھ کے ذخائر دوسرے صوبوں میں تھے، برآمد کرنے سے پاکستان میں چینی کا بحران نہیں آیا۔'

چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'رپورٹ تیار کرنے والوں کو مارکیٹ کے حوالے سے کچھ علم نہیں ہے، اس رپورٹ میں ایک ٹیبل کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، حکومت پالیسی بناتی ہے جس پر عمل کرکے مل مالکان سبسڈی حاصل کرتے ہیں جبکہ سبسڈی منافع نہیں ہوتی۔'

جہانگیر ترین نے کہا کہ 'یہ ابتدائی رپورٹ ہے جس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں چینی کی برآمد پر سبسڈی دی گئی، میں نے جو کُل سبسڈی لی وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ڈھائی ارب تھی اور اپنی پارٹی کی حکومت میں 56 کروڑ ہے، میں نے 5 سالوں میں 23 ارب روپے ٹیکس دیا ہے اس حساب سے یہ سبسڈی کچھ نہیں ہے۔'

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ میں رد و بدل، خسرو بختیار اور حماد اظہر کے قلمدان تبدیل

انہوں نے کہا کہ 'وزارت صنعت نے خود لاگت کا حساب لگایا اور بتایا کہ اگر گنے کی قیمت 180 روپے من ہوگی تو ٹیکس کے بعد چینی کی پیداواری قیمت 63 روپے فی کلو ہوگی، پہلے میرے علاوہ دیگر شوگر ملز مالکان نے 120 روپے فی من میں گنا خریدا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے متعلق لوگ بہت غلط باتیں پھیلاتے ہیں، مییں خود اپنی ضرورت کا صرف 8 فیصد گنا کاشت کرتا ہوں، باقی 92 فیصد خریدتا ہوں۔'

پارٹی میں مخالفت سے متعلق جہانگیر ترین نے کہا کہ '2013 کے انتخابات میں بُری طرح شکست کے بعد میں نے عمران خان سے بات کی اور پنجاب کے ڈیٹا کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ ہم نے غلط امیدواروں کو کھڑا کیا، پنجاب میں سیاسی خاندان ہے اور اگر ان کو امیدوار نہیں بنایا گیا تو آپ وزیر اعظم نہیں بنیں گے، اس معاملے پر پارٹی میں میری مخالفت شروع ہوئی اور سیاسی لوگوں کو الیکشن لڑوانے پر پارٹی میں لوگ مجھ سے ناراض ہوئے۔'

انہوں نے کہا کہ 'اسد عمر سے خزانہ کی وزارت میری وجہ سے واپس نہیں لی گئی، عمران خان جس طرح کے فیصلے چاہتے تھے اسد عمر وہ فیصلے نہیں کر رہے تھے، کابینہ میں کون ہوگا کون نہیں یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے، میں ابھی بھی اُن کے ساتھ کھڑا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔'

پی ٹی آئی رہنما نے انکشاف کیا کہ 'عمران خان سے جیسے تعلقات پہلے تھے اب ویسے نہیں ہیں، ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے میرے 6 ماہ قبل بیوروکریسی کے معاملے پر اختلافات شروع ہوگئے تھے، تاہم عمران خان سے تعلقات جلد بہتر ہوجائیں گے۔'

پارٹی میں اندرونی اختلافات سے متعلق انہوں نے کہا کہ 'اصل مسئلہ عملدرآمد کا ہے، نہ جانے کیوں پارٹی میں اتحاد اور یکجہتی نہیں ہے، ضروری ہے کہ ہم مل کر اور انفرادی کے بجائے ٹیم کے لیے کھیلیں۔'

یہ بھی پڑھیں: چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'جب عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنایا تو ان کی مدد کرنا میرا فرض تھا، جب وہ کوئی مدد یا مشورہ مانگتے تھے میں دیتا تھا انہیں وزیر اعلیٰ بنانا عمران خان کا ذاتی فیصلہ تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے ہمارے کسی فرد کو حراست میں یا ریکارڈ قبضے میں نہیں لیا ہے، کمپنی کے چیف فنانشل افسر اور دیگر چند لوگوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا گیا تھا، ہماری ہر چیز دستاویز کی صورت میں موجود ہے۔'

آٹے کے بحران کے حوالے سے جہانگیر ترین نے کہا کہ 'یہ بحران سندھ حکومت کی بدانتظامی کا نتیجہ تھا، گندم کا ذخیرہ اب بھی موجود ہے۔'

شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم اور تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ و ڈی جی ایف آئی اے واجد کو چینی کی قیمت بڑھنے کی دھمکی سے متعلق انہوں نے کہا کہ 'کسی نے کوئی دھمکی نہیں دی ہے، ایسوسی ایشن نے شاید کسی اجلاس میں یہ کہا تھا کہ اگر حکومت انہیں ہراساں کرے گی اور سپلائی لائن چوک ہوگی تو بحران جنم لے گا۔'

چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ

واضح رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ 4 اپریل کو عوام کے سامنے پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کہ چونکہ انہوں نے عوام سے رپورٹ منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا اس لیے اب یہ وقت ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے۔

دستاویز کے مطابق سال 17-2016 اور 18-2017 میں چینی کی پیداوار مقامی کھپت سے زیادہ تھی اس لیے اسے برآمد کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 52 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ سال 17-2016 میں ملک میں چینی کی پیداوار 70 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی اور سال 18-2017 میں یہ پیداوار 66 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن تھی۔

مزید پڑھیں: سندھ نے پنجاب کیلئے گندم کی منتقلی روک دی

تاہم انکوائرہ کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کو 2 طرح سے فائدہ ہوا، پہلا انہوں نے سبسڈی حاصل کی دوسرا یہ کہ انہوں نے مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہونے سے فائدہ اٹھایا جو دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔

ملک میں چینی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں 2018 میں چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں پنجاب کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کو بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

کس نے کتنا فائدہ اٹھایا

کمیٹی کی رپورٹ میں چینی کی برآمد اور قیمت میں اضافے سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی سامنے لائے گئے ہیں جس کے مطابق اس کا سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو (جہانگیر خان ترین) کو ہوا اور اس نے مجموعی سبسڈی کا 22 فیصد یعنی 56 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سب سے زیادہ فائدہ آر وائی کے گروپ کو ہوا جس کے مالک مخدوم خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان ہیں اور انہوں نے 18 فیصد یعنی 45 کروڑ 20 روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں: گندم کی خریداری میں کمی آٹے کے بحران کی وجہ بنی، رپورٹ

اس گروپ کے مالکان میں چوہدری منیر اور مونس الہٰی بھی شامل ہیں جبکہ اس کے بعد تیسرے نمبر پر زیادہ فائدہ المُعیز گروپ کے شمیم احمد خان کو 16 فیصد یعنی 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی صورت میں ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمیم احمد خان کی ملکیت میں موجود کمپنیوں نے گزشتہ برس چینی کی مجموعی پیداوار کا 29.60 فیصد حصہ برآمد کیا اور 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

رپوورٹ کے مطابق اومنی گروپ جس کی 8 شوگر ملز ہیں اس نے گزشتہ برس برآمداتی سبسڈی کی مد میں 90 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیے، خیال رہے کہ اومنی گروپ کو پی پی پی رہنماؤں کی طرح منی لانڈرنگ کیس کا بھی سامنا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس اہم پہلو کو بھی اٹھایا ہے کہ برآمدی پالیسی اور سبسڈی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے سیاسی لوگ ہیں جن کا فیصلہ سازی میں براہ راست کردار ہے، حیران کن طور پر اس فیصلے اور منافع کمانے کی وجہ سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا اور اس کی قیمت بڑھی۔