گندم کی خریداری میں کمی آٹے کے بحران کی وجہ بنی، رپورٹ

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق دیگر عوامل بھی گندم کے بحران کی وجہ بنے—فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق دیگر عوامل بھی گندم کے بحران کی وجہ بنے—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: ملک میں آٹے کے بحران اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی قیمتوں کی انکوائری کرنے والی کمیٹی نے کہا ہے کہ خریداری کی خراب صورتحال کے نتیجے میں دسمبر اور جنوری میں بحران شدت اختیار کرگیا۔

کمیٹی نے کہا کہ سرکاری خریداری کے طے شدہ ہدف کے مقابلے میں 35 فیصد (25 لاکھ ٹن) کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ میں گندم کی خریداری صفر رہی جبکہ اس کا ہدف 10 لاکھ ٹن تھا اسی طرح پنجاب نے 33 لاکھ 15 ہزار ٹن گندم خریدی جبکہ اس کی ضرورت و ہدف 40 لاکھ ٹن تھا۔

مزید پڑھیں: چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

وفاقی کوششوں کو پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) نے یقینی بنایا اور گندم کے 11 لاکھ ٹن کے مطلوبہ ہدف کے مقابلے میں 6 لاکھ 79 ہزار ٹن گندم خریدی گئی۔

رپورٹ کے مطابق دیگر عوامل بھی گندم کے بحران کی وجہ بنے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی 22 جنوری کو تشکیل پائی تھی جس میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اس کے کنوینر تھے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاسکو مجموعی ضرورت کی 40 فیصد گندم کی خریداری نہیں کرسکی اور وزارت خوراک اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو مئی اور جون 2019 میں بتاتی رہی کہ پاسکو نے مقررہ ہدف کو پورا کرلیا۔

صرف یہی نہیں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ (ایم این ایس ایف اینڈ آر) جو پاسکو کی نگرانی کرتی ہے، نے حکومت کو یہ سفارش بھی کی کہ گندم کے ذخیرے کی صورتحال مناسب ہے اور برآمدات کی اجازت دی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: آٹے کا بحران پیدا کرنے میں 204 فلور ملز ملوث ہیں، محکمہ خوراک

پچھلے سال کے مقابلے میں کم اسٹاک، رواں سال میں کم فصل کی پیداوار اور خریداری کی ناقص کوششوں کی وجہ سے متعلقہ وزارت صورتحال کو سمجھنے میں ناکام رہی اور وفاقی حکومت کو سفارشات معمول کے مطابق پیش کرتی تھی جو گمراہ کن تھیں۔

رپورٹ میں اس وقت کے ایم این ایف ایس اینڈ آر کے سیکریٹری ہاشم پوپلزئی اور پاسکو کے سابق ایم ڈی محمد خان کھچی کو تمام بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

رپورٹ میں پنجاب سے متعلق بتایا گیا کہ محکمہ خوراک میں زیادہ ٹرن اوور کی وجہ سے مزید خریداری کی کوششوں کو انتہائی محدود کردیا گیا جس میں ایک سال کے دوران 4 سیکریٹریز اور تمام ضلعی فوڈ کنٹرولرز کو 3 مرتبہ ادھر سے ادھر (تبادلے) کیا گیا۔

انکوائری کے مطابق اس کے نتیجے میں خریداری کی کوشش 20 دن تاخیر سے شروع ہوئی اور محکمہ خوراک ’فلور ملز پر قابو پانے میں ناکام رہا جس نے منافع بخش مہم کو تقویت بخشی کیونکہ انہوں نے محسوس کیا تھا کہ حکومت کی گندم کی طلب اور رسد کے لیے تیاری نہیں ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق گندم کی چوری میں اضافہ ہوا اور نجی اور سرکاری سطح پر بغیر کسی حساب کتاب کے گندم کی اسٹاک ہونے لگی اور حکومت گندم کی فراہمی پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھی۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں آٹے کا شدید بحران، ارباب اختیار ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے لگے

رپورٹ میں سابق سیکریٹری برائے حکومت پنجاب نسیم صادق اور سابق ڈائریکٹر فوڈ ڈاکٹر ظفر اقبال کو ان سنگین کوتاہیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کا بھی حوالہ دیا گیا جنہوں نے محکمہ خوراک میں دیرینہ مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئی اصلاحاتی ایجنڈا وضع نہیں کیا۔

سندھ میں جہاں گندم کا بحران درحقیقت باقی ملک میں پھیلنے سے پہلے ہی شروع ہوا تھا اس ضمن میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبائی حکام اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کرسکی کہ انہوں نے خریداری کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟

رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت سندھ نے 8 لاکھ ٹن گندم کے ذخیرے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ’بڑے پیمانے پر چوری‘ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جب اگست 2019 کے شروع میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوا تو محکمہ خوراک سندھ مارکیٹ میں مداخلت کرنے میں ناکام رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گندم کی خریداری نہ کرنے کے فیصلے کی ذمہ داری انفرادی طور پر طے نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ ’کابینہ نے فیصلہ نہیں لیا تھا‘۔


یہ رپورٹ 5 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی