کورونا کے باعث رمضان میں عبادات کو محدود کیا جاسکتا ہے، آیت اللہ خامنہ ای

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

سپریم لیڈر کے مطابق احتیاط کے پیش نظر لوگ گھروں میں ہی عبادات کریں —فائل فوٹو: اے ایف پی
سپریم لیڈر کے مطابق احتیاط کے پیش نظر لوگ گھروں میں ہی عبادات کریں —فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث مسلمانوں کے لیے مقدس ترین مہینے رمضان المبارک میں بھی مذہبی عبادات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر نے مذکورہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب کہ پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے ایران سمیت تقریبا تمام اسلامی ممالک میں مذہبی عبادات کو محدود کردیا گیا ہے۔

ایران ہی وہ پہلا اسلامی ملک بنا تھا جس نے کورونا وائرس کی وجہ سے نماز جمعہ کے اجتماعات پر بھی عارضی پابندی عائد کی تھی جب کہ کچھ وقت کے لیے مذہبی عبادت گاہوں کو بھی بند کردیا تھا۔

ایران کے بعد عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر و پاکستان نے بھی نماز جمعہ کے اجتماعات پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی تھی جب کہ سعودی عرب نے عمرے کو بھی نامعلوم وقت تک معطل کردیا تھا۔

اسلامی ممالک سمیت مغربی ممالک نے بھی چرجز وغیرہ کو بند کرکے مذہبی عبادات کو محدود کر رکھا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ مزید 2 سے ڈھائی ماہ تک چلے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں کورونا وائرس سے ہر 10 منٹ میں ایک شخص ہلاک

کورونا وائرس میں کمی کے بجائے اس میں مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے 9 اپریل کو اپنے ٹی وی خطاب میں اشارہ دیا تھا کہ وبا کی وجہ سے ماہ مبارک میں اجتماعی عبادات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے 9 اپریل کو قوم سے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ کورونا کی وبا کے باعث رمضان المبارک میں بھی اجتماعی عبادات پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کورونا کی وبا کے باعث لوگ ماہ مبارک میں اجتماعی عبادات سے محروم ہوجائیں گے، اس لیے انہیں گھروں میں آرام سی عبادات کرنی چاہیئیں۔

اپنے خطاب میں اگرچہ انہوں نے واضح طور پر نہیں کہا کہ حکومت رمضا المبارک میں اجتماعی عبادات پر پابندی عائد کرے گی یا نہیں تاہم انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ احتیاط کے پیش نظر ماہ مبارک میں بھی گھروں تک محدود رہیں اور وہیں عبادات سر انجام دیں۔

خیال رہے کہ ایران اسلامی ممالک میں کورونا وائرس سے سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے، جہاں 10 اپریل کی صبح تک وہاں متاثرہ افراد کی تعداد 66 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی 4 ہزار سے بڑھ چکی تھی۔

مصر میں رمضان المبارک کے دوران اجتماعات محدود

ایرانی سپریم لیڈر کے بیان سے قبل مصری حکومت نے بھی ماہ رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات کو محدود رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: سعودی عرب نے عمرے پر عارضی پابندی لگادی

اے پی کے مطابق مصر کے وزارت مذہبی امور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا مزید تیزی سے پھیل رہی ہے، اس لیے ماہ مبارک میں بھی مذہبی اجتماعی عبادات پر پابندی عائد رہے گی۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق مسلمان ماہ رمضان المبارک میں مغرب کے بعد والی تمام عبادات اجتماعی طور پر ادا نہیں کر سکیں گے۔

اگرچہ وزارت مذہبی امور نے واضح طور پر اجتماعی طور پر روزہ افطار کرنے اور نماز تراویح ادا نہ کرنے پر پابندی نہیں لگائی تاہم حکومت کا اشارہ ان ہی عبادات کی جانب تھا۔

مصر میں بھی کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور 10 اپریل کی صبح تک وہاں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1700 تک جا پہنچی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 118 تک جا پہنچی تھی۔

مصر میں عام افراد کے ساتھ ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی کورونا کا شکار ہے اور ایک اہم کینسر ہسپتال کے 20 ڈاکٹرز میں بھی کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔