چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف اپیل پر سماعت، بینچ کے رکن پر اعتراض

اپ ڈیٹ مئ 07 2020

ای میل

لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی—فوٹو: عدالت عالیہ ویب سائٹ
لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی—فوٹو: عدالت عالیہ ویب سائٹ

لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی (چوہدری برادران) کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے اختیارات اور اپنے خلاف تین انکوائریز پر دائر درخواست میں بینچ کے رکن پر اعتراض اٹھا دیا گیا۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کی عدالت عالیہ میں تحریک انصاف کے اتحادی مسلم لیگ (ق) کی قیادت کی جانب سے چیئرمین نیب کے اختیارات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

اس دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی خود عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

بعد ازاں عدالت عالیہ میں جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو اس دوران بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اس کیس کی فائل ابھی موصول ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: چوہدری برادران نے چیئرمین نیب کے اختیارات کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا

سماعت کے دوران روسٹرم پر موجود لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر طاہر نصراللہ وڑائچ نے چوہدری برادران کا کیس سنے والے بینچ پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ جسٹس فاروق حیدر چوہدری برادران کے کیسز کی پیروی کرتے رہے ہیں لہٰذا یہ بینچ چوہدری برادران کا کیس نہ سنے۔

جس پر جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ انہوں نے کیس کی فائل ابھی پڑھی نہیں ہے بہتر ہے اس کیس کو پیر کے لیے رکھ لیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے چوہدری برادران کے کیس پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز چوہدری برادران نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے اختیارات کے غلط استعمال اور اپنے خلاف 20 سالہ پرانی 3 تحقیقات کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں اپنے وکیل امجد پرویز کے توسط سے دائر کی گئیں 3 ایک جیسی درخواستوں میں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے مؤقف اپنایا تھا کہ سال 2000 میں مذکورہ بیورو کے چیئرمین نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال، آمدن سے زائد اثاثے سے متعلق انکوائریز کی منظوری دی۔

تحریک انصاف کے اتحادیوں کی جانب سے دائر اس درخواست میں اعتراض اٹھایا گیا کہ نیب کا قیام، اس کی ساکھ، برابری اور اس کا 'سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال' نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور دانشوروں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے بھی بیورو کے اقدامات اور جس طریقے سے متعدد معاملات میں اس کے عہدیدار کام کرتے ہیں اس کا نوٹس لیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں کے مطابق سال 2017 اور 2018 میں جب ان کے حریف اقتدار میں تھے تب نیب کے ریجنل بورڈ اور تفتیشی افسران کی جانب سے تینوں انکوائریز کو بند کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تاہم چیئرمین نیب نے 2019 میں ہمارے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملے کی 19 سال بعد دوبارہ منظوری دے دی۔

چوہدری برادران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ تحقیقات کی اجازت کا حکم دینے لیے احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 18 (سی) شرائط میں رائے قائم کرنے کے لیے اس وقت کے چیئرمین نیب کے پاس ثبوت یا مواد یا ایک ٹکڑا تک نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کے اختیارات کو محدود کرنے والا آرڈیننس غیرمؤثر ہوگیا

ساتھ ہی انہوں نے نیب کی جانب سے بیک وقت آرڈیننس اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات سے متعلق نیب کے دائرہ اختیار پر بھی سوال کیا۔

انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ این اے او 1999 کے تحت منی لانڈرنگ کے الزامات پر انکوائری کے لیے نیب کے پاس کوئی اختیار نہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق یہ تحقیقات کرنے کا پورا عمل آرڈیننس کی لازمی دفعات کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا کی کہ نیب کے اٹھائے گئے اقدامات غیرقانونی ہیں لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت ان انکوائریز کی منظوری کو کالعدم قرار دے اور چیئرمین نیب کی جانب سے دیے گئے احکامات کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

یاد رہے کہ چوہدری برادران کے خلاف 4 جنوری 2000 کو تفتیش شروع کی گئی تھی جبکہ جولائی 2015 میں نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں زیر التوا 179 مقدمات پیش کیے تھے جن میں ایک یہ مقدمہ بھی تھا۔

اس کے علاوہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین پر 2000 میں 28 پلاٹس کی غیر قانونی خریداری پر اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین نیب میجر جنرل (ر) عثمان نے انکوائری کی منظوری دی تھی۔

تاہم کئی سال التوا کا شکار رہنے کے بعد 2017 میں دوبارہ انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت میں رپورٹ جمع کروائی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کے خلاف کوئی بھی دستاویزی یا زبانی شواہد نہیں ملے۔

اس کے بعد لاہور کی احتساب عدالت نے دونوں کے خلاف نیب انکوائری بند کرنے کی منظوری دی تھی۔