نیب سربراہ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ریفرنس پر دستخط کردیے

مئ 15 2020

ای میل

تفتیشی افسر کے مطابق نیب ہیڈکوارٹرز سے نیب سربراہ کی دستخط شدہ کاپی موصول ہوگئی ہے ۔  فائل فوٹو:ڈان
تفتیشی افسر کے مطابق نیب ہیڈکوارٹرز سے نیب سربراہ کی دستخط شدہ کاپی موصول ہوگئی ہے ۔ فائل فوٹو:ڈان

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے 2015 میں پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے اشتراک سے نجی بلڈرز کے ذریعہ مبینہ طور پر شروع کیے جانے والے منصوبے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے 18 ارب روپے کے فراڈ کی تحقیقات سے متعلق ریفرنس پر دستخط کردیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالتوں کے انتظامی جج ڈاکٹر شیر بانو کریم کے سامنے سماعت کے دوران مبینہ فراڈ سے متعلق پیش رفت رپورٹ میں تفتیشی افسر نے اس بات کا انکشاف کیا۔

واضح رہے کہ میکسم پراپرٹیز کے ملزمان تنویر احمد اور بلال تنویر کو 2015 میں پی اے ایف کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے تحت شروع کی جانے والی فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر عوام کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گزشتہ سماعت پر جج نے ریفرنس دائر کرنے کے لیے نیب کو مزید وقت دیا تھا۔

مزید پڑھیں: فضائیہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے نیب کو 24 مئی تک کی مہلت

اس وقت سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے انکشاف کیا تھا کہ فریقین (پی اے ایف اور میکسم پراپرٹیز) کسی تصفیہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ الاٹیز کو رقم کی واپسی کی جاسکے۔

جمعرات کے روز جب یہ معاملہ انتظامی جج کے سامنے آیا تو تفتیشی افسر پرویز ابڑو نے خصوصی سرکاری وکیل شہباز سہوترا کے ذریعہ پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ نیب کے چیئرمین نے موجودہ انکوائری کے سلسلے میں ریفرنس پر دستخط کردیے ہیں اور اس کی اصل کاپی نیب ہیڈ کوارٹر سے موصول ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ معاملہ ہاؤسنگ منصوبے کے نام پر عوام کو دھوکہ دینے سے متعلق ہے جس میں 5 ہزار 700 الاٹیز سے 18.2 ارب روپے وصول کیے گئے۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ اس معاملے میں بڑی تعداد میں ریکارڈ بھی شامل ہے جس میں متاثرین کے دعوؤں، بکنگ/قسطوں کی رسیدیں، بینک اکاؤنٹ کے بیانات، انجینئرنگ کا تخمینہ، آرکیٹیکچرل منصوبے، ڈیزائن سمیت متعدد نظر ثانی شدہ ماسٹر پلانز، اشتہاری مواد، رجسٹرڈ ہزاروں ممبران اور دیگر متفرق دستاویزات سے متعلق بھاری ادائیگی کا ریکارڈ شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہر ملزم کے لیے الگ الگ ریکارڈ کے سیٹ کی فوٹو کاپی کی جارہی ہے اور یہ عمل میں پورے ملک میں موجودہ کورونا وائرس کی صورتحال کی وجہ سے متاثر ہوا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران بازار بند تھے۔

پراسیکیوٹر شہباز سہوترا نے بتایا کہ ریفرنس کے دستاویزات کی فوٹو کاپیوں کے عمل کو جلد سے جلد مکمل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ عدالت میں ریفرنس دائر کیا جاسکے۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ تفتیشی افسر کو 14 روز کا وقت دیں تاکہ وہ متعلقہ دستاویزات کے ساتھ ریفرنس دائر کرسکیں۔

درخواست کی اجازت دیتے ہوئے جج نے تفتیشی افسر کو 15 مئی تک ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت دی اور سماعت ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ پیشرفت رپورٹ میں تفتیشی افسر نے بتایا تھا کہ دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر متاثرہ افراد سے زیادہ سے زیادہ رقوم نکالنے کے ارادے سے پی اے ایف کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا اور اس منصوبے کے مقام کو چھپا کر رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہاؤسنگ اسکیم: پاک فضائیہ کی نیب کو 5700 متاثرین کی شکایات کے ازالے کی پیشکش

اس میں بتایا گیا تھا کہ پی اے ایف نے متاثرہ لوگوں کو رقم کی واپسی کے لیے نیب کو پہلے ہی درخواست جمع کروائی ہے اور وہ مزید تمام ذمہ داریوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمان سے تفتیش کے دوران یہ بات ریکارڈ پر آچکی ہے کہ انہوں نے سرچارج کی مد میں غیر قانونی طور پر عوام سے 3 کروڑ 90 لاکھ روپے، پروسیسنگ فیس کے طور پر 7 کروڑ 70 لاکھ روپے، اپارٹمنٹس پر 9 ارب روپے، بنگلوں پر 5 ارب روپے سے متعلق مزید حقائق وصول کیے تاہم اس فراڈ کی اصل رقم معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اراضی کے فراڈ کے سلسلے میں تفتیشی افسر نے کہا کہ مزید شواہد ریکارڈ پر آچکے ہیں کہ سندھ حکومت نے 2014 میں پہلے ہی 1894 کے سیکشن 4 کے تحت کے IV واٹر سپلائی منصوبے کے لیے اراضی کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔

تاہم آئی او نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے ملزمان نے اس حقیقت کو چھپا لیا اور پی اے ایف کو دوسرے ساتھیوں کی ملی بھگت سے 2015 میں کے 4 منصوبے کی زمین پر اپنی رہائشی اسکیم بنانے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

آئی او نے مزید کہا کہ اس بدعنوانی کے عزائم اس حقیقت سے ظاہر تھے کہ انہوں نے پہلے ہی کسی سرکاری منصوبے کے لیے مختص کی گئی زمین کے لیے لوگوں سے رقم اکٹھی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی رقم کی بازیابی اور فائدہ اٹھانے والوں کی تلاش کے لیے 170 افراد/کمپنیاں، جنہیں ادائیگی کی گئی تھی، کا سراغ لگایا جائے گا۔