کورونا وائرس کی پہلی ویکسین کے انسانوں پر ابتدائی نتائج سامنے آگئے

18 مئ 2020

ای میل

— اے ایف پی فوٹو
— اے ایف پی فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے انسانی آزمائش کے مرحلے میں داخل ہونے والی سب سے پہلی ویکسین کے ابتدائی نتائج متاثر کن رہے ہیں۔

امریکی کمپنی موڈرینا نے مارچ میں سب سے پہلے کورونا وائرس کے حوالے سے تجرباتی ویکسین ایم آر این اے 1273 کی آزمائش انسانوں پر شروع کی تھی اور اب لگ بھگ 2 ماہ بعد اس کے ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں۔

پہلے مرحلے میں چند افراد کو اس ویکسین کا استعمال کرایا گیا تھا اور اب کمپنی نے بتایا کہ ان لوگوں میں ایسا مدافعتی ردعمل پیدا ہوا ہے جو ان مریضوں میں دیکھا گیا جو کووڈ 19 سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

کمپنی کے چیف میڈیکل آفیسر ٹائی زیکس نے بتایا 'اس عارضی فیز 1 ڈیٹا کے نتائج ابتدائی ہیں مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن افراد کو ویکسین استعمال کرائی گئی ان میں وائرس سے لڑنے میں مدد دینے والا مدافعتی ردعمل پیدا ہوگیا'۔

انہوں نے مزید کہا 'اس ڈیٹا سے ہمارے یقین مزید پختہ ہوگیا کہ ایم آر این اے 1273 مین کووڈ 19 کوو روکنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس صلاحیت نئے ٹرائلز میں مزید بہتر کیا جائے گا'۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے اور مریضوں کو اس کے استعمال سے جلد پر سرخی یا سوجن کا سامنا نہیں ہوتا۔

موڈرینا کے سی ای او اسٹیفن بیناکل نے ایک کانفرنس کال میں بتایا کہ ابتدائی نتائج سے اعتماد ملتا ہے کہ یہ ویکسین وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرسکے گی۔

کمپنی کے مطابق انسانوں کے علاوہ چوہوں پر اس ویکسین کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا تھا کہ یہ وائرس کو پھیپھڑوں میں اپنی نقول بنانے سے روکتی ہے۔

امریکی حکومت لگ بھگ 50 کروڑ ڈالرز اس ویکسین کی تیاری پر خرچ کررہی ہے اور اسے یہ کمپنی نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشز ڈیزیز کی شراکت سے تیار کررہی ہے جس کی سربراہی ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کررہے ہیں۔

ٹرائل کے پہلے مرحلے میں 18 سے 55 سال کے افراد کو ویکسین کے 3 مختلف ڈوز دیئے گئے تھے، جس کے مکمل نتائج فی الحال جاری نہیں کی گئے۔

اس ویکسین کے دوسرے مرحلے کے ٹرائل کی منظوری رواں ماہ یو ایس فوڈ اینڈ ایڈمنسٹریشن نے دی تھی اور اس پر آئندہ چند ہفتوں میں کام شروع ہوجائے گا۔

دوسرے مرحلے میں محققین اس کی افادیت اور مضر اثرات کو 600 افراد پر دیکھیں گے۔

تیسرے مرحلے کا ٹرائل سب سے بڑا اور اہم ترین ہوگا جس میں ویکسین کی افادیت کو ثابت کرنے پر کام ہوگا اور اس کا آغاز جولائی میں ہوگا۔

کمپنی کے سی ای او کے مطابق تحقیقی ٹیم کی توجہ جلد از جلد تیسرے مرحلے کو جولائی میں شروع کرنے پر مرکوز ہے۔

پہلے مرحلے کے جزوی نتائج کے بعد کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ زیادہ مقدار والے ڈوز پر تحقیق نہیں کررہی کیونکہ کم مقدار بھی مثبت اثرات کا باعث بن رہی ہے۔

تیسرے مرحلے کے لیے لاکھوں افراد کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ تعین کیا جاسکے کہ یہ ویکسین موثر ہے یا نہیں اور اس سے کسی قسم کا نقصان تو نہیں ہوتا۔

تیسرے مرحلے کے بعد 'ایف ڈی اے' کی جانب سے اس ویکسین کے استعمال کی منظوری کا فیصلہ ہوگا اور یہ منظوری اسی صورت میں دی جائے گی اگر یہ محفوظ اور موثر ثابت ہوئی جبکہ اس کے فوائد خطرات سے زیادہ ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ کم قدار سے زیادہ افراد کو وائرس سے تحفظ مل سکے گا۔

خیال رہے کہ عام طور پر ایک ویکسین کی تیاری میں کئی برس لگتے ہیں مگر کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کی رفتار کے باعث ویکسین کی تیاری بھی بہت تیزی سے ہورہی ہے۔

چین، برطانیہ اور جرمنی میں بھی ویکسینز کے انسانی ٹرائلز جاری ہیں اور چین کا کہنا ہے کہ وہ 5 ویکسینز کو انسانوں پر آزمائے گا۔

مگر ویکسین کی تیاری میں اس کا موثر اور محفوظ ہونا ہی چیلنج نہیں بلکہ اربوں ڈوز کی فراہمی بھی اہم ترین مرحلہ ہوگا۔

متعدد کمپنیاں بشمول موڈرینا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ تمام کلینیکل ٹرائلز مکمل ہونے سے قبل ہی ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کردیں گی۔

موڈرینا نے اس مقصد کے لیے ایک بڑی دوا ساز کمپنی لونزا کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا تھا تاکہ ایک سال میں ایک ارب ڈوز تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکے۔

واضح رہے کہ اس ویکسین میں ایک نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا ہے جو اب تک کسی اور منظور شدہ ویکسین میں استعمال نہیں ہوئی۔

بیشتر روایتی ویکسینز میں وائرس کے ناکارہ یا کمزور ورژن کو استعمال کرکے جسمانی مدافعتی نظام کو اس کے خلاف لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے، مگر اس نئی ویکسین میں ایک مالیکیول میسنجر آر این اے کو استعمال کیا گیا ہے جو خلیات کو خود وائرل پروٹین بنانے کی ہدایت کرتا ہے۔

ایم آر این اے خلیات کو کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین بنانے کی ہدایت دیتا ہے، جو یہ وائرس انسانی خلیات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اس کے پیچھے یہ خیال ہے کہ اس سے مدافعتی نظام کو اسپائیک پروٹین کو شناخت کرکے اس کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے میں مدد مل سکے گی۔

اس ٹیکنالوجی کو ویکسین کی تیاری کے لیے تیز طریقہ کار قرار دیا جارہا ہے اور روایتی ویکسینز کے مقابلے میں زیادہ مستحکم بھی کہا جارہا ہے۔