ای میل

عالمی وبا کے 100 دن، ہم کیا کچھ جان چکے ہیں؟



تحریر: فیصل ظفر

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 31 دسمبر 2019 کو چین میں اسے نمونیا کے کیسز کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان میں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آرہے تھے جو بعد میں نیا نوول کورونا وائرس ثابت ہوا۔

اب اس وبا کو 3 ماہ ہوگئے ہیں اور سائنسسدان تاحال اس نوول کورونا وائرس کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے ہیں۔

مگر وہ اب تک جو کچھ جان چکے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ وائرس جتنا بھی خوفناک ہو مگر بدترین اور دنیا تباہ کرنے والا وائرس نہیں۔

اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 خسرے جتنی متعدی نہیں اور یہ خطرناک ضرور ہے مگر ایبولا کی طرح کسی متاثرہ فرد کو ہلاک نہیں کرسکتی۔

مگر ایک چیز جو اس سارس کوو 2 وائرس کی تباہ کن صلاحیت کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتی ہے وہ اس کا نیاپن یا نوولٹی ہے۔

جب یہ وائرس گزشتہ سال کے اختتام پر (یا جب بھی) کسی میزبان جانور سے چھلانگ لگا کر انسانوں میں آیا تو ہم میں سے کسی کے اندر اس کے خلاف مدافعت نہیں تھی۔

اور یہ وہ ایک وجہ ہے جو اس نئے کورونا وائرس کو دوسروں سے الگ اور فی الحال دنیا بھر کے لیے تباہ کن ثابت کررہی ہے۔

چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے پراسرار نمونیا جیسے تنفس کے مرض کے کیسز دسمبر کے آخر میں رپورٹ ہوئے تھے اور دن گزرنے کے ساتھ یہ بہت تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔

درحقیقت 3 ماہ سے بھی کم وقت میں یہ وائرس 7 لاکھ افراد کو متاثر اور 34 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈائون کی وجہ سے معمولات زندگی تھم چکے ہیں، عالمی معیشت اس جھٹکے سے سنبھل نہیں سکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ گھروں میں قید اربوں افراد کے اعصاب بھی ٹوٹنے کے قریب ہیں۔

یہ وائرس آخر اتنا خطرناک کیوں؟

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرسز اس دنیا کے لیے نئے نہیں بلکہ اکثر ان سے سانس کی نالی کے امراض سامنے آتے ہیں جو موسمی نزلہ زکام سے لے کر جان لیوا بیماریوں جیسے سارس اور مرس جیسی وبائوں پر مشتمل ہیں۔

مگر سارس کوو 2 پہلا کورونا وائرس ہے جسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے اور وجہ حیران کن نہیں کیونکہ یہ بالکل نیا وائرس تھا جو انسانوں میں نمودار ہوا اور ہم اس کے سامنے بے بس ہوگئے۔

بیشتر متعدی امراض جو دنیا میں موجود ہیں، کو کسی حد تک رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ لوگوں میں ان کے حوالے سے کسی حد تک مدافعت موجود ہوتی ہے مگر کورونا وائرس اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو گراتا چلاجارہا ہے۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ جب یہ وائرس لوگوں کو بیمار کرتا ہے تو یہ بیماری فوری نظر نہیں آتی۔

مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ اوسطاً 5 دن کا ہے اور اس سے قبل ہی متاثرہ افراد دیگر صحت مند لوگوں کو بھی اس وائرس کا شکار بناسکتے ہیں۔

یعنی اس وائرس کو اسٹیلتھ ٹرانسمیشن میں مہارت حاصل ہے اور اس کے نتیجے میں یہ بہت تیزی سے پھیلتا چلاجارہا ہے۔

دیگر وائرسز سے موازنہ

فوٹو بشکریہ NIAID-RML
فوٹو بشکریہ NIAID-RML

چین میں سائنسدانوں نے اس وائرس کے پھیلنے کے چند دنوں کے بعد ہی اس کے ڈی این اے اسٹرکچر کا سیکونس تیار کردیا تھا اور 2002 کے سارس کورونا وائرس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسے سارس کوو 2 کا نام دیا گیا ہے۔

سارس وائرس سے ہر 10 میں سے ایک مریض ہلاک ہوجاتا تھا مگر اس کے شکار افراد وائرس کو اس وقت تک آگے منتقل نہیں کرتے تھے جب تک وہ بیمار نہیں ہوجاتے اور اس وقت تک بیشتر مریض ہسپتال پہنچ چکے ہوتے تھے۔

اس وائرس پر بہت جلد قابو پالیا گیا تھا تو اس کے حوالے سے حالیہ برسوں میں سائنسدانوں کی جانب سے زیادہ تحقیق پر توجہ نہیں دی گئی۔

اور اب یہ نئی شکل میں زیادہ متعدی اور طاقتور ہوکر واپس لوٹ آیا ہے جبکہ اس کی روک تھام کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین پر کام تو ہورہا ہے مگر دستیابی کا امکان ایک سال سے پہلے ممکن نظر نہیں آتا۔

کیسے خود کو بڑھاتا ہے؟

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

اس نئے کورونا وائرس کا حجم ہماری آنکھوں کی ایک پلک کے ایک ہزار ویں حصے سے بھی کم ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک کانٹے دار پروٹین شیل ہی ہے جو انسانی جسم سے باہر مردہ یا زومبی کی طرح ہوتا ہے مگر ایک بار انسانی سانس کی نالی میں چلاجائے تو یہ ہمارے خلیات پر قبضہ کرکے اپنی جیسے لاکھوں کروڑوں وائرس تیار کردیتا ہے۔

درحقیقت کورونا وائرس کے کام کرنے کا طریقہ ایسا ہے جو ذہن کو دنگ کردیتا ہے، یہ انسانوں میں داخل ہوتا ہے اور جب تک کسی متاثرہ فرد میں علامات ظاہر ہوں، یہ جسم میں ہر جگہ اپنی نقل پھیلا چکا ہوتا ہے اور کسی اور ہدف (انسان) کی جانب بڑھ جاتا ہے۔

یعنی ایک مریض صحت مند انسان تک اس کو منتقل کردیتا ہے ، جس میں کھانسی یا چھینک کے دوران منہ سے خارج ہونے والے ننھے ذرات کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے طبی ماہرین لوگوں پر سماجی فاصلے کے لیے زور دے رہے ہیں جو وائرس کے ری پروڈکشن نمبر آر یر یا آر ناٹ کے خلاف سادہ اور موثر طریقہ ہے۔

آر ناٹ کسی وائرس کے پھیلائو کا اظہار کرتا ہے جیسے چین میں وبا کے ابتدائی دور میں اس کا نمبر 2.38 تھا مگر 23 جنوری کو چین کی جانب سے سفری پابندیوں سمیت کروڑوں افراد کو لاک ڈائون کرنے کے بعد سماجی تعلقات میں نمایاں کمی آئی۔

اور اب چین میں آر ناٹ کا نمبر 1 سے بھی نیچے گرچکا ہے۔

انسانی جسم سے باہر یہ وائرس سورج کی روشنی اور ہوا میں نمی کے نتیجے میں بے جان یا خشک ہوجاتا ہے مگر ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مخصوص ماحول میں اس وائرس کے کچھ ذرات میٹل یا پلاسٹک پر 3 دن تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

تو ویکسین یا ادویات کی دستیابی تک بہترین توقع اس کے پھیلائو کی چین کو توڑنا ہی ہے اور وہ سماجی فاصلے سے ہی ممکن ہے، جس سے اس کے پھیلائو کی رفتار کو سست کیا جاسکتا ہے۔

وائرس کیسے کام کرتا ہے؟

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک بار انسانی جسم کے خلیات میں داخل ہونے کے بعد ایک وائرس چند گھنٹوں میں اپنی 10 ہزار نقول تیار کرسکتا ہے اور چند دن میں متاثرہ فرد کے خون کے ہر ذرے میں لاکھوں کروڑوں وائرل ذرات موجود ہوسکتے ہیں۔

اس حملے کے نتیجے میں جسم کا مدافعتی نظام سخت ردعمل کے طور پر دفاعی کیمیکلز کا اخراج کرتا ہے، جس سے جسمانی درجہ حرارت بڑھتا ہے یعنی بخار ہوتا ہے جبکہ جراثیم کھانے والے خون کے سفید خلیات متاثرہ حصے میں حملہ آور ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ خود کو بیمار محسوس کرنے لگتے ہیں۔

شاید آپ کو معلوم نہ ہو مگر بیکٹریا کے مقابلے میں وائرس میں اپنی خلیاتی مشینری تو ہوتی نہیں، تو یہ ہمارے جسم کا ہی حصہ بن جاتے ہیں، ان کے پروٹین ہمارے پروٹینز ہوتے ہیں، ان کی کمزوری ہماری کمزوری ہوتی ہے، وہ ادویات جو ان کو نقصان پہنچاسکتی ہیں وہ ہمیں بھی نقصان پہنچاسکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اینٹی وائرل ادویات مخصوص اہداف کے لیے تیار ہوتی ہیں اور وہ ایسے پروٹینز کو ہدف بناتی ہیں جو وائرس ہماری خلیاتی مشینری استعمال کرکے بناتا ہے۔

وائرس بہت تیزی سے ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے علاج بہت زیادہ لمبے عرصے تک کارآمد نہیں ہوتے بلکہ بار بار نئی ادویات تیار کرنا پڑتی ہیں، جیسے ایچ آئی او انفیکشن کے علاج کے لیے ایسا ہوتا ہے۔

مگر اس نئے کورونا وائرس کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ اس میں ارتقائی تبدیلی کی رفتار دیگر وائرسز جیسے فلو وائرس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

یہ وائرس اپنی موجودہ حالت میں مستحکم ہے اور آگے پھیلنے پر بھی اس سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین طویل المعیاد بنیادوں پر موثر ثابت ہوگی۔

واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے مالیکیولر جینیٹیسٹ پیٹر تھلین نے بتایا کہ نئے کورونا وائرس کے ایک ہزار نمونوں کے ایک تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ چین کے شہر ووہان میں پھیلنے والے وائرس اور امریکا میں شکار افراد میں موجود وائرس میں صرف 4 سے 10 جینیاتی تضاد دیکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وائرس میں تبدیلی کی شرح کو دیکھ کر عندیہ ملتا ہے کہ اس کے خلاف تیار ہونے والی ایک ویکسین ہی کافی رہے گی، اور فلو ویکسین کی طرح ہر سال نئی ویکسین تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

جسم کے اندر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

سنگین کیسز میں یہ وائرس جسم پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے اور صرف پھیپھڑے ہی متاثر نہیں ہوتے۔

دیگر کورونا وائرسز بشمول سارس، مرس اور عام موسمی نزلہ زکام کی طرح کووڈ 19 بھی نظام تنفس کی بیماری ہے، تو پھیپھڑے ہی عموماً سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ ابتدائی علامات جیسے بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل، وائرس کے شکار ہونے کے 2 سے 14 دن کے اندر نظر آنے لگتی ہیں۔

مارچ کے وسط میں ہاکنگ کانگ میں طبی ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں اور کچھ افراد کو تیز چلنے پر سانس پھولنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔

ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ ہاسپٹل اتھارٹی نے یہ نتیجہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے ابتدائی مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد نکالا۔

ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ 12 میں سے 2 سے تین مریضوں کے پھیپھڑوں کی گنجائش میں تبدیلیاں آئیں۔

ہسپتال کے انفیکشیز ڈیزیز سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اوئن تسانگ تک ین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا 'ان افراد کا سانس کچھ تیز چلنے پر پھول جاتا ہے، جبکہ مرض سے مکمل نجات کے بعد کچھ مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں 20 سے 30 فیصد کمی آسکتی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرض کے طویل المعیاد اثرات کا تعین کرنا ابھی تو قبل از وقت ہے مگر 9 مریضوں کے پھیپھڑوں کے اسکین میں شیشے پر غبار جیسا پیٹرن دریافت ہوا، جس سے عضو کو نقصان پہنچنے کا عندیہ ملتا ہے۔

دل اور خون کی شریانیں

واشنگٹن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر لورا ای ایوانز کے مطابق یہ وائرس دل اور خون کی شریانوں پر بھی ممکنہ طور پر اثرانداز ہوسکتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوسکتی ہے، ٹشوز کو خون کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے یا بلڈ پریشر کم ہوسکتا ہے، مگر تاحال ابھی تک یہ عندیہ نہیں ملا کہ یہ وائرس براہ راست دل کو نقصان پہنچاتا ہے۔

کچھ افراد میں اس کی شدت زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

80 فیصد مریضوں میں کووڈ 19 کی شدت معتدل یا بہت کم ہوتی ہے مگر 20 فیصد میں علامات کی شدت بہت زیادہ یا سنگین ہوسکتی ہے۔

مگر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

بظاہر اس کی وجہ ہرانسان کا مدافعتی نظام ہے جس کی طاقت یا کمزوری اس مرض کی شدت پر اثرانداز ہوسکتا ہے جبکہ کچھ جینیاتی عناصر بھی ہوسکتے ہیں، مگر فی الحال اس بارے میں کچھ یقین سے کہنا مشکل ہے۔

مگر سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس عمل کو سمجھنے سے لوگوں میں اس کی شدت کو بڑھنے سے روکنے کے ذرائع کے حصول میں مدد مل سکے گی۔

جسمانی ردعمل

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

مارچ میں جرنل نیچر میڈیسین میں شائع تحقیق میں دریافت کیا کہ جسم کے اندر 4 مدافعتی خلیات اس نئے نوول کورونا وائرس کے خلاف متحرک ہوتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ مریض کا جسم اس وائرس پر اسی طرح حملہ آور ہوتا ہے جیسے فلو کے خلاف ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں چین کے شہر ووہان سے تعلق رکھنے والی 47 سالہ خاتون کو شامل کیا گیا تھا جس میں کووڈ 19 کی معتدل علامات کی تصدیق ہوئی تھی۔

یہ خاتون ووہان سے آسٹریلیا گئی تھی اور 11 دن بعد میلبورن کے ایک ہسپتال میں مرض کی تشخیص ہوئی حالانکہ اس کا بظاہر کسی پہلے سے متاثر فرد سے رابطہ بھی نہیں ہوا تھا۔

مریضہ کے خون کے نمونوں کو علاج سے قبل اور بعد میں لینے پر تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ اس کا جسم وائرس کے خلاف مختلف طریقوں سے حملہ آور ہوا حالانکہ جسم کو اس سے قبل وائرس کا سامنا کبھی نہیں ہوا تھا۔

میلبورن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر کیتھرین کیڈزیرسکا نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ان کی ٹیم نے مریضہ کا جائزہ ہر وقت کیا اور مدافعتی ردعمل کے بارے میں جاننے میں کامیاب رہے۔

علامات غائب ہونے سے 3 دن قبل سائنسدانوں نے مخصوص مدافعتی خلیات کو مریضہ کے خون میں دریافت کیا جو عام طورپر فلو کے مریضوں میں بھی نظر آتے ہیں۔

علامات

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ 19 کی سب سے عام علامات میں بخار، تھکاوٹ اور خشک کھانسی شامل ہیں، کچھ مریضوں کو شاید تکلیف، خارش، ناک بند ہونے، ناک بہنے، گلے میں سوجن یا ہیضہ کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

حال ہی میں طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں سونگھنے یا چکھنے کی حس ختم ہوجانا بھی اس بیماری کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے افراد میں، جن میں دیگر علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

کیا کوئی مریض دوبارہ اس کا شکار ہوسکتا ہے؟

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

بیجنگ کے چائنا جاپان فرینڈشپ ہاسپٹل کے نمونیا کی روک تھام اور علاج کے شعبے کے ڈائریکٹر لی جن گیان کا کہنا ہے کہ جو اس وائرس کا شکار ہوتے ہیں، ان میں ایک حفاظتی اینٹی باڈی پیدا ہوتی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ تحفظ کب تک برقرار رہ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا 'تاہم کچھ مخصوص افراد میں یہ اینٹی باڈی بہت زیادہ وقت تک موجود نہیں رہتی، بیشتر مریض جو صحت یاب ہوجاتے ہیں، ان میں دوبارہ بیماری کا امکان ہوسکتا ہے'۔

پین گلوبل میڈیسین کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اسٹیفن گلیوکمین کے مطابق بظاہر یہ امکان زیادہ ہے کہ کووڈ 19 کے نتیجے میں بیشتر افراد میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے، جیسا دیگر کورونا وائرسز میں دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے کہا 'کورونا وائرسز نئے نہیں، بلکہ طویل عرصے سے موجود ہیں اور انسانوں کے علاوہ متعدد جاندار اس کا شکار ہوتے ہیں، تو ہم عمومی طور پر کورونا وائرسز کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہیں، یعنی کہا جاسکتا ہے کہ کسی مخصوص کورونا وائرس سے بیمار ہونے پر آپ کے اندر قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے، اگرچہ اس نئے کورونا وائرس کے حوالے سے زیادہ ڈیٹا نہیں، مگر مدافعت پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہے'۔

اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ صحت یاب ہوجاتے ہیں ان میں دوبارہ وائرس کی منتقلی امکان زیادہ نہیں ہوتا، مگر یہ بھی ناممکن نہیں کہ اس مرض کا دوبارہ سامنا ہوجائے، خصوصاً اگر قوت مدافعت کمزور ہو۔

خود کو کیسے بچائیں؟

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اس وائرس سے بچنا بہت آسان ہے، درحقیقت جیسے نزلہ زکام یا فلو سے بچنے کے لیے جو احتیاطی تدابیر کی جاتی ہیں وہ اس نئے کورونا وائرس سے بھی بچا سکتی ہیں۔

1۔ سب سے بنیادی چیز تو ہاتھوں کی اچھی صفائی ہے جس کے لیے پہلے صاف پانی سے ہاتھوں کو گیلا کریں اور پھر صابن لگائیں، صابن کے جھاگ کو ہتھیلی اور ہاتھ کے پچھے حصے ، انگلیوں کے درمیان اور ناخنوں کی اوپری سطح تک پہنچا کر کم از کم 20 سیکنڈ تک رگڑیں اور پھر دھولیں۔

2۔ نزلہ، زکام اور کھانسی بہت عام بیماریاں ہیں اور کورونا وائرس کی چند عام علامات میں بھی شامل ہیں، چھینک یا کھانسی کے دوران منہ سے ایسے ننھے ذرات کا اخراج ہوتا ہے جو بیمار فرد سے وائرس کو دوسروں تک پہنچا سکتا ہے، اب وہ کورونا ہو یا نزلہ زکام کا۔ تو بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ اور ناک کو ہاتھوں یا کہنی سے کور کرلیں، اور پھر ان کو دھو لیں۔ اگر ٹشو استعمال کرتے ہیں تو اسے فوری پھینک دیں۔

3، اگر کوئی فرد کھانستا یا چھینکتا ہوا نظر آئے تو اس سے کم از کم ایک میٹر دور رہیں، کیونکہ جب کوئی کھانستا یا چھینکتا ہے تو منہ سے ایسے ننھے سیال ذرات کا اخراج ہوتا ہے جو وائرس سے بھرے ہوتے سکتے ہیں، اگر آپ بہت قریب ہوں، تو یہ ذرات سانس لینے سے یہ وائرس جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔

4۔ صحت مند افراد کے لیے کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے فیس ماسکس کا استعمال بہت زیادہ ہورہا ہے جو بیمار فرد کے منہ سے خارج ہونے والے ننھے ذرات کو بلاک کرنے میں کچھ تحفظ فراہم کرسکتا ہے، مگر ہوا میں موجود ننھے ذرات کو بلاک نہیں کرپاتا جو ماسک کے میٹریل سے گزر سکتے ہیں۔ ماسک سے آنکھوں سے بھی تحفظ نہیں ملتا اور ایسے شواہد موجود ہیں کہ کچھ وائرسز کسی فرد کو آنکھوں کے ذریعے بھی متاثر کرسکتے ہیں, تاہم اگر آپ کو کھانسی، نزلہ وغیرہ کا سامنا ہو تو فیس ماسک کا استعمال آپ کے ارگرد افراد کو تحفظ دینے میں مدد ضرور دے سکتا ہے۔

5، ہر ممکن کوشش کریں کہ آنکھوں، ناک اور منہ کو ہاتھوں سے چھونے سے گریز کریں، اگر مجبوری ہو تو ٹشو کے ذریعے یہ کام کرکے اسے پھینک دیں یا ہاتھ دھونے کے بعد ایسا کریں۔

6، اکثر زیراستعمال رہنے والی اشیا اور ان کی سطح کو روزانہ اچھی طرح صاف کریں تاکہ ان پر وائرس نہ رہ سکے، کیونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ مخصوص ماحول میں کورونا وائرس اشیا کی سطح پر 9 دن تک موجود رہ سکتا ہے۔

7۔ اگر بیمار ہیں اور کسی وجہ سے یقین ہو کہ یہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے تو جلد از جلد طبی امداد کے لیے رجوع کریں اور خود ہسپتال جانے کی بجائے کوشش کریں کہ طبی مدد کو گھر میں طلب کریں تاکہ ہسپتال جانے تک کا سفر کسی اور کو اس وائرس سے متاثر نہ کرسکے۔

8۔ سماجی فاصلے یعنی خود کو گھروں تک محدود رکھنا اس وائرس سے آپ کو تو بچاتا ہی ہے دیگر کو بھی تحفظ ملتا ہے۔

کیسز اور اموات کی تعداد

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

پاکستان میں اس وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا اور اس کے بعد 8 اپریل کی سہ پہر تک اس سے 4 ہزار194 افراد متاثر جبکہ 60 جاں بحق ہوگئے۔

یہ بات غور طلب ہے کہ پاکستان میں 15 مارچ تک محض 53 افراد اس وبا کا شکار ہوئے تھے۔

مگر اس کے بعد کیسز کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ اپریل میں اب تک روزانہ ہی بہت زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں، تاہم 467 افراد نے اس بیماری کو شکست دینے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

دنیا بھر میں اس وائرس کے نتیجے میں 8 اپریل کی سہ پہر تک 14 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 82 ہزار سے زائد ہلاکتیں اور 3 لاکھ صحتیاب ہوچکے تھے۔

زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ پہلے ایک لاکھ کیسز 7 مارچ کو مکمل ہوئے اور باقی 17 لاکھ کیسز محض 30 دن میں رپورٹ ہوئے۔

معروف شخصیات

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

اس وبا سے متعدد معروف شخصیات بھی متاثر ہوئیں۔ اسٹار وارز کے اسٹار اینڈریو جیک، امریکی شیف فلوئیڈ کارڈوز، امریکی رائٹر ٹیرنس میک نیلے، کانگو کے موسیقی کے لیجنڈ اورلوس مابیلی، افریقی سیکسو فون لیجنڈ منودیبانگو، امریکی گلوکار ایلن میرل، امریکی اداکارہ لی فیرو اس بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

ہولی وڈ اداکار ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ ریٹا ولسن، برطانوی ولی عہد پرنس چارلس، موناکوو کے پرنس البرٹ، برازیل کے وزیر توانائی بینٹو البیکیوس، برازیلین قومی سلامتی کے مشیر آگستو ہیلینو ،برطانوی وزیراعظم بورس جونسن، ایران کے متعدد سیاستدان، امریکی گلوکارہ پنک، فرنچ اداکارہ اولگا کیورلینکو، اداکار ادریس البا، اداکار کرسٹوفر ہیویجو اور میامی کے میئر فرانسس سوریز سمیت کئی معروف شخصیات اس وبا سے لڑ رہے ہیں۔

سفری پابندیاں

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

سب سے پہلے چین نے ووہان سمیت ملک گیر سطح پر سفری پابندیوں کا اطلاق کیا، پھر دیگر ممالک میں بھی ایسا دیکھنے میں آیا۔

جاپان نے پہلے چین اور جنوبی کوریا کے مخصوص حصوں سے آنے والے افراد کی آمد پر پابندی عائد کی، جس کو بعد میں 21 یورپی مماللک اور ایران تک پھیلا دیا گیا جبکہ امریکا سے آنے والوں کو 14 دن تک قرنطینہ کی ہدایت کی گئی۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے تمام غیرملکیوں کی آمد پر پابندی عائد کی جبکہ بیرون ملک سے آنے والے آسٹریلین شہریوں کو 2 ہفتے قرنطینہ میں گزارنے کا پابند کیا گیا۔

سنگاپور میں بھی ایسا ہورہا ہے اور غیرملکیوں کی آمد پر پابندی ک ساتھ تمام شہریوں کو گھر میں 14 دن تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی۔

جنوبی کوریا میں بیرون ملک سے آنے والے تمام افراد کو 2 ہفتے کے لازمی قرنطینہ کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

کینیڈا، امریکا اور یورپی ممالک میں بھی پابندیوں کا اطلاق ہورہا ہے جبکہ بھارت میں اپریل کے وسط تک کے لیے تمام غیرملکیوں کے ویزے معطل کردیئے گئے ہیں۔

پاکستان میں بھی ایسے ہی اقدامات دیکھنے میں آرہے ہیں۔

لتھوانیا، لٹویا، مالدیپ، شمالی کوریا، قطر، سعودی عرب، سلواکیہ، یوکرائن، کروشیا سمیت متعدد ممالک نے اپنی سرحدوں کو غیرملکی سیاحوں کے لیے بند کردیا ہے۔

لاک ڈائون

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، ارجنٹائن، بیلجیئم، چین، کولمبیا، چیک ریپبلک، ڈنمارک ایل سلواڈور، فرانس، جرمنی، اسرائیل، اٹلی، اردن، کینیا، کویت، ملایشیا، مراکش، نیوزی لینڈ، ناروے، پولینڈ، آئرلینڈ، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، اسپین، برطانیہ اور ہنگری میں جزوی یا مکمل لاک ڈائون ہے۔

چین میں اب لاک ڈائون کو بتدریج ختم کیا جارہا ہے مگر بھارت، چین، فرانس، اٹلی، نیوزی لینڈ، پولینڈ اور برطانیہ میں انتہائی سخت قسم کے لاک ڈائون اقدامات کیے گئے ہیں، مجموعی طور پر ڈھائی ارب سے زائد افراد اس وقت کسی نہ کسی شکل میں ان پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں۔

کھیلوں کے اہم مقابلے

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

اس وبا سے کھیلوں کی دنیا بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور متعدد ایونٹس منسوخ یا التوا کا شکار ہوئے ہیں، جن میں سب سے اہم اولمپکس گیمز ہیں جو رواں سال جولائی کی بجائے اب اگلے سال جولائی میں منعقد ہوں گے۔

اس کے علاوہ پی ایس ایل کا اختتامی مرحلہ، سری لنکا کے خلاف انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز، پاکستان بنگلہ دیش سیریز منسوخ جبکہ آئی پی ایل فی الحال التوا کا شکار ہے۔

ومبلڈن کا ٹورنامنٹ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار منسوخ کیا گیا، جبکہ پروفیشنل ٹینس ٹور 7 جون تک معطل کیا جاچکا ہے، جس کے دوران خواتین اور مردوں کی رینکنگ بھی منجمد رہے گی۔

ورلڈ باکسنگ ہیوی ویٹ ٹائٹل فائٹ کو 20 جون تک معطل کردیا گیا یوئیفا چیممپئنز لیگ اور ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچز منسوخ کردیئے گئے ہیں، لندن، بوسٹن، پیرس، بارسلونا، ایمسٹرڈیم اور ٹوکیو میراتھون بھی التوا کا شکار ہوئے۔

ورلڈ ایتھلیٹک انڈور چیمپئن شپس اگلے سال تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

علاج

فی الحال اس عالمی وبا کا کوئی علاج یا ویکسین موجود نہیں بلکہ علامات کا علاج کیا جاتا ہے اور 80 فیصد سے زیادہ مریض صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں۔

تاہم دنیا بھر میں اس کے علاج کے لیے سائنسدانوں کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔

کلوروکوئن

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

فرانس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا کہ ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی ایک دوا کلوروکوئن کے استعمال سے انہوں نے مریضوں کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس تحقیق میں شامل 36 میں سے 20 مریضوں کو یہ دوا استعمال کرائی اور 6 دن بعد کلوروکوئن استعمال کرنے والے 70 فیصد مریض صحت یاب ہوگئے کیونکہ وائرس ان کے خون نمونوں سے غائب ہوگیا۔

تاہم ابھی اس پر بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائل کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا بھی مانا جارہا ہے کہ یہ مضر اثرات کا باعث بھی بن سکتی ہے، ٹرائل کے بعد ہی اس کی ریگولیٹری منظوری دی جاسکے گی۔

فلو کے لیے استعمال ہونے والی دوا فیویپیراویر

فوٹو بشکریہ ہیلتھ لائن
فوٹو بشکریہ ہیلتھ لائن

جاپان میں فلو کے لیے تیار ہونے والی اس دوا کو چین میں 340 مریضوں پر آزمایا گیا اور ٹرائل کے پہلے مرحلے کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔

جن مریضوں کو یہ دوا استعمال کرائی گئی ان میں ٹیسٹ مثبت آنے کے 4 دن بعد وائرس ختم ہوگیا، جبکہ اس دوا کے بغیر مرض کی علامات کے لیے دیگر ادویات کے استعمال سے صحت یابی میں اوسطاً 11 دن درکار ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایکسرے سے بھی اس نئی دوا کے استعمال سے 91 فیصد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری کی تصدیق ہوئی، جبکہ دیگر ادویات میں یہ شرح 62 فیصد کے قریب ہوتی ہے۔

ایبولا کے لیے تیار ہونے والی ریمڈیسیویر

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

اس دوا کو بنیادی طورر پر ایبولا کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا مگر یہ نئے نوول کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اہم ترین دوا کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

سارس اور مرس جیسے کورونا وائرسز کے خلاف اسے موثر پایا گیا اور یہی وجہ ہے کہ پہلے چین اور اس کے بعد امریکا اور ایشیا کے مختلف ممالک میں اس دوا کے استعمال پر متعدد ٹرائلز ہورہے ہیں، جن کے نتائج اپریل میں آنا شروع ہوں گے۔

ایچ آئی وی کے لیے تیار ہونے والی کالیٹرا

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

یہ بنیادی طور پر دو اینٹی وائرل ادویات لوپیناویر اور ریٹوناویر کا امتزاج ہے جو ایچ آئی وی کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں، مختلف رپورٹس میں اسے کووڈ 19 کے علاج کے لیے بھی حوصلہ افزا انتخاب قرار دیا گیا۔

تاہم گزشتہ دنوں یہ توقعات اس وقت ماند پڑگئیں جب 200 سنگین حد تک بیمار مریضوں میں اس کے استعمال سے کوئی فائدہ دریافت نہیں ہوسکا، تاہم یہ تحقیق اس دوا کی آزمائش کے لیے حتمی نہیں، بلکہ ہوسکتا ہے کہ یہ دوا معتدل علامات والے مریضوں میں زیادہ مؤثر ہو۔

انٹرفیرون بیٹا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

برطانیہ کی بائیوٹیک کمپنی Synairgen کو کووڈ 19 کے شکار افراد کے لیے پھیپھڑوں کے امراض کی دوا کی منظوری دی گئی۔،

اس دوا میں موجود مرکب انٹرفیرون بیٹا پھیپھڑوں کے وائرس کے خلاف قدرتی دفاعی نظام سے تشکیل دیا گیا ہے اور بنیادی طور پر اسے پھیپھڑوں کے مرض سی او پی ڈی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مگر ماہرین کو توقع ہے کہ یہ دوا جسم کی وائرس کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی، خصوصاً ایسے افراد کے لیے مفید ہوگی جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوگا۔

اینٹی باڈی تھراپیز

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

چین میں ڈاکٹروں نے کچھ سنگین حد تک بیمار مریضوں کا علاج صحت مند مریضوں کے بلڈپلازما سے کیا اور یہ وہ طریقہ کار ہے جس کی تاریخ اسپینش فلو کی عالمی وبا سے جاملتی ہے، جو 1918 میں سامنے آئی تھی۔

اس کے پیچھے یہ خیال ہے کہ وائرس کے شکار افراد کے خون میں ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں جو اس انفیکشن کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی یونیورسٹی کے ماہرین نے زور دیا کہ اس طریقہ کار کو اپنانے کے لیے کوئی تحقیق یا پیشرفت کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے چند ہفتوں میں اپنایا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں روایتی طریقہ کار انحصار کرنا ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق اس مقصد کے لیے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو صحت یابی کے بعد خون کا عطیہ دینا ہوگا، اگرچہ یہ بحالی صحت کا مرحلہ ہوتا ہے مگر اس دوران بلڈ سیرم (خون کا پلازما) میں بڑی مقدار میں ایسی اینٹی باڈیز ہوسکتی ہیں جو اس نئے کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہیں۔

ایک بار جب جسم وائرس کے خلاف ردعمل کے قابل ہوجائے گا تو ایسی اینٹی باڈیز کئی ماہ تک خون میں گردش کرتی رہیں گی اور ہوسکتا ہے کہ یہ دورانیہ انفیکشن کے بعد کئی برسوں کا ہو۔

محققین کے خیال میں یہ طریقہ کار صرف صحت یاب ہونے والے افراد کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ ان اینٹی باڈیز کو ایکسرٹ اور پراسیس کرنے کے بعد دیگر افراد کے جسموں میں انجیکٹ کرکے انہیں مختصر المدت تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے، جیسے کسی سنگین بیماری کے شکار افراد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، متاثرہ فرد کے صحت مند گھروالوں کے لیے یا طبی عملے کی قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ٹی بی ویکسین پر تحقیق اور اثرات

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن ممالک میں تپ دق (ٹی بی) کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی ویکسین بیسیلس کالمیٹی گیورن (بی سی جی) استعمال کرایا جارہا ہے، وہاں لوگوں کو کووڈ 19 کے خلاف کسی حد تک تحفظ ملا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کے کیسز اور اموات کی شرح ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں یہ ویکسین اب استعمال نہیں ہوتی، جیسے امریکا، اٹلی، اسپین اور فرانس۔

پاکستان، بھارت، چین اور کئی ممالک میں یہ ویکسین اب بھی عام استعمال ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج medRxiv میں شائع ہوئے اور محققین کا دعویٰ تھا کہ جن ممالک میں اس ویکسین کا استعمال ہورہا ہے وہاں کووڈ 19 سے اموات کی شرح نمایاں حد تک کم ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے ممالک جہاں اس ویکسین کا استعمال تاخیر سے ہوا جیسے ایران جہاں 1984 میں اسے اپنایا گیا، وہاں بھی اموات کی شرح زیادہ ہے، جس سے اس خیال کو توقیت ملتی ہے کہ بی سی جی ایسے بزرگ افراد کو تحفظ فراہم کررہی ہے، جن کو بچپن میں یہ ویکسین استعمال کرائی گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس ویکسین کے استعمال کرنے والے ممالک میں کووڈ 19 کے مصدقہ کیسز کی تعداد بھی کم رہنے میں ممکنہ مدد ملی ہے۔

سو سال پہلے تیار ہونے والی یہ ویکسین اب آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک میں اس بیماری کے خلاف آزمائی جارہی ہے اور سائنسدان طبی عملے کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کو اس کی مدد سے فوری تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

مارچ کے آخر میں آسٹریلین سائنسدانوں نے اس ٹرائل کا آغاز کیا جس میں اس ویکسین یا ایک دوا کا استعمال ہزاروں ڈاکٹروں، نرسز اور دیگر طبی ورکرز کو استعمال کرایا جارہا ہے۔

یہ تحقیق 6 ماہ تک جاری رہے گی اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ویکسین ٹی بی کے خلاف تیار کی گئی تھی مگر اب بھی اسے دنیا بھر میں سالانہ 13 کروڑ بچوں کو دی جاتی ہے، جس سے انسانی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، اور اسے جراثیموں کے خلاف پوری شدت سے لڑنے کی تربیت ملتی ہے۔

نیدرلینڈ میں ایک ہزار طبی ورکرز پر اس کا ٹرائل 10 دن پہلے شروع ہوا تھا اور راڈبوڈ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر میہائی جی نیٹیا کے مطابق 800 افراد اس کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہوچکے ہیں۔

میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کی امیونوبائیولوجی ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈینس فوسٹمین بھی امریکا میں اس ویکسین کے ٹرائل کے لیے فنڈنگ کی خواہشمند ہیں ، جس کے ابتدائی نتائج 4 ماہ میں دستیاب ہوسکیں گے۔

دیگر ویکسینز کی طرح بی سی کا بھی ایک مخصوص ہدف ہوتا ہے یعنی ٹی بی، مگر گزشتہ دہائی کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ویکسین دیگر مثبت اثرات بھی مرتب کرتی ہے، یعنی وائرل، نظام تنفس کے انفیکشن اور عفونت کی شدت میں کمی آتی ہے جبکہ جسمانی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔

کیا گرم موسم اس کو روک سکے گا؟

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یورپ اور امریکا میں بھی گرم موسم اور وائرس کے پھیلنے کی رفتار کے درمیان تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قدرتی وبا کی رفتار میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

امریکا کے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ابتدائی تحقیق میں بتایا گیا کہ گرم علاقوں میں رہنے والی برادریوں میں بظاہر اس کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر مقامات کے مقابلے میں نسبتاً سست ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ کورونا وائرس کے زیادہ پھیلاؤ والے علاقے وہ ہیں، جہاں درجہ حرارت کم تھا یعنی 3 سے 17 ڈگری سینٹی گریڈ۔

اگرچہ وہ ممالک جہاں اس وقت موسم گرما چل رہا ہے، وہاں بھی کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، مگر 18 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد والے مقامات میں ان کی تعداد عالمی کیسز کے 6 فیصد سے بھی کم ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ان دنوں گرمیوں کا آغاز ہو رہا ہے، اور عموماً درجہ حرارت 25 اور 30 سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے جب کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ جائے گی جو اس حوالے سے خوش آئند بھی ہے۔

اس سے قبل چین میں ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گرم اور مرطوب موسم اس نئے وائرس کی لوگوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔

امریکا کے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ عناصر جیسے سفری پابندیاں، سماجی فاصلے کے اقدامات، ٹیسٹوں کی دستیابی اور ہسپتالوں کا بوجھ ممکنہ طور پر مختلف ممالک میں کیسز کی تعداد پر اثرانداز ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ موسم اور کورونا وائرس کے درمیان تعلق پالیسی سازوں اور عوام کے لیے اطمینان کا باعث نہیں ہونا چاہیے 'ہمیں اب بھی ٹھوس احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، گرم موسم ہوسکتا ہے کہ وائرس کو کچھ حد تک غیرفعال کردے، مگر کم مؤثر پھیلاؤ کا مطلب اس کا خاتمہ نہیں ہوتا'۔

انہوں نے مزید کہا کہ گرم موسم ہوسکتا ہے کہ ہوا یا سطح پر کورونا وائرس کی بقا کو طویل دورانیے کے لیے مشکل بنادے مگر وہ پھر بھی گھنٹوں تک متعدی رہ سکتا ہے۔

درحقیقت سیزنل وائرسز جیسے انفلوائنزا اور موسمی زنزلہ زکام بھی گرمیوں کے دوران مکمل طور پر غائب نہیں ہوتے، بلکہ کسی نہ کسی حد تک لوگوں کے جسموں اور دنیا کے دیگر حصوں میں موجود رہتے ہیں، جہاں وہ دوبارہ پھیلنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرتے ہیں۔