سنیما اسکرین خاموش اور کہانیاں اُداس ہیں

اپ ڈیٹ 27 مئ 2020

ای میل

پاکستان میں 'عید الفطر' اور 'عیدالاضحی' بھی 2 ایسے ہی تہوار ہیں، جن پر فلموں کی نمائش ہونا سماجی ثقافت کی روایت کا تسلسل ہے — سمیعہ بلال
پاکستان میں 'عید الفطر' اور 'عیدالاضحی' بھی 2 ایسے ہی تہوار ہیں، جن پر فلموں کی نمائش ہونا سماجی ثقافت کی روایت کا تسلسل ہے — سمیعہ بلال

لمحہءِ حاضر میں دنیا پر واضح طور پر 2 موسم چھائے ہوئے ہیں، ایک وہ موسم جو کورونا کی عالمی وبا کی آمد سے پہلے کا تھا، یعنی دیدارِ یار کا موسم اور ایک یہ موسم، جب پوری دنیا ایک وبا کی لپیٹ میں ہے، یعنی فراموشئ بہار کا موسم، جس سے اب ہم سب تنگ بھی آچکے ہیں۔

اس ماحول میں جب انسانی زندگی ہی محفوظ نہیں تو کیسے ممکن ہے کہ انسانوں کو تفریح فراہم کرنے والے ذرائع متاثر نہ ہوں، خاص طور پر ایسی تفریح جس کے لیے گھر سے نکل کر کسی مخصوص جگہ جانا پڑے، انہی ذرائع میں سے ایک سنیما بینی بھی ہے۔

سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلموں کو ناظرین اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں اور مخصوص تہواروں کو خاص بنانے کے لیے سنیما گھروں میں جاکر ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ خوشی کو منانے کی غرض سے سنیما جانا بھی ایک اندازِ دلربائی رہا ہے، لیکن موجودہ منظرنامہ کچھ اور ہے، پوری دنیا بشمول پاکستان سنیماؤں میں تاریکی راج کر رہی ہے، اسکرین خاموش اور کہانیاں اُداس ہیں۔

پاکستان میں 'عید الفطر' اور 'عیدالاضحی' بھی 2 ایسے ہی تہوار ہیں، جن پر فلموں کی نمائش ہونا سماجی ثقافت کی روایت کا تسلسل ہے۔ عید پر فلمیں ریلیز کرنے کے لیے جن سرگرمیوں کا پیشگی انعقاد کیا جاتا ہے، ان کا سلسلہ بھی تکونی ہے، یعنی اس کی 3 جہتیں ہوتی ہیں۔

پہلی جہت میں فلم ساز اپنی فلموں کو اس طرح شوٹ کرتے ہیں کہ ان کو مکمل کرکے کسی ایک عید پر ریلیز کیا جاسکے، اور پھر اس کی بھرپور تشہیری مہم بھی چلتی ہے۔

دوسری جہت وہ ناظرین ہوتے ہیں، جن کی نگاہ ان فلموں کی مشہوری پر ہوتی ہے، وہ ان فلموں کے بارے میں بات چیت کو بہت غور سے سنتے اور دیکھتے ہیں، تاکہ اپنی من پسند فلم کا انتخاب کرکے اس کو بروقت دیکھ سکیں۔

تیسرے پہلو کا تعلق میڈیا سے ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں صحافی بھی باقاعدگی سے ان فلموں کی تشہیر کو فروغ دیتے ہیں، خبروں اور تجزیوں کی صورت میں فنی مہارت کے ساتھ پیش پیش ہوتے ہیں، یہ پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں میں عام رواج ہے۔ کانٹے دار مقابلہ ہوتا ہے، باکس آفس سے پہلے ہی ایک میدان سجتا ہے، جہاں پتا چلتا ہے کہ کون سی فلم کس پر بھاری ہوسکتی ہے۔

ایک صحافی ہونے سے پہلے بطور ناظر میں نے بھی ہر عید پر اپنی من پسند فلمیں دیکھیں، کمسنی کے حسین زمانے کو سنہری بنانے میں فلمی یادوں کا بڑا ہاتھ ہے، پھر جب روزگار سے لگے تو پیشہ بھی صحافت ٹھہرا اور فلم ایک پیشہ ورانہ فرض کے طور پر کام کا حصہ بنی۔ یوں تو پورا سال ہی مجھے فلموں کی باتیں اخبارات کے لیے لکھنی اور چینلوں کے لیے بولنی پڑتی ہیں، یوں سمجھ لیں اس کے بغیر عیدیں ادھوری ہوتی ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے میرا معمول رہا ہے کہ جو فلمیں ریلیز ہونے والی ہوتی ہیں تو میں پرنٹ میڈیا یا ویب سائٹس کے لیے ان فلموں میں کام کرنے والے اداکاروں اور ہدایت کاروں سے انٹرویو کرتا ہوں تاکہ جب تک فلم ریلیز نہیں ہوتی، قارئین اس کے بارے باخبر رہیں۔

اسی طرح فلم کا ٹیزر اور ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد بطور فلمی نقاد ٹیلی وژن پر تبصرہ کرتا ہوں تاکہ ناظرین کو اندازہ ہوسکے کہ یہ فلم ان کے مطلب کی ہے بھی یا نہیں، یہ برسوں کا معمول رہا ہے اور گزشتہ چند برسوں سے میں ڈان ٹی وی اور ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کے لیے یہ کام باقاعدگی سے کرتا آرہا ہوں، یعنی میری عید کی خاص سرگرمی یہ کام کرنا ہوتا ہے۔ مگر ستم دیکھیے، میرے اور مجھ جیسے بہت سارے صحافیوں اور فلمی ناقدین کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب عید پر کوئی فلم ریلیز نہیں ہو رہی کیونکہ سنیما ہی بند پڑے ہیں۔ یہ بھی ایک تاریخی موقع ہے کہ جس کے ہم سب عینی شاہد ہیں۔

مجھے یاد ہے، گزشتہ برس عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں میں میری پسندیدہ فلم 'رانگ نمبر 2' جس کا ٹریلر ابھی ریلیز نہیں ہوا تھا بلکہ ابھی ٹیزر ہی دیکھا تھا کہ اس فلم کے پروڈیوسر جو ہمارے بہت نفیس دوست بھی ہیں، انہوں نے ہمیں اپنے دفتر میں بلا کر وہ ٹریلر دکھایا، اسی کا پھر تبصرہ بھی ڈان نیوز کے لیے کیا تھا۔

اسی طرح عیدالاضحی پر 3 فلمیں ریلیز ہوئیں، جن میں سے فلم 'سپر اسٹار' کو دیکھا اور پھر اس کا تبصرہ بھی کیا تھا۔ کئی برسوں سے میں عید کے پہلے دن صبح کا وقت تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بسر کرتا لیکن شام سنیما میں گزرتی رہی ہے۔ پہلے شو کا پہلا ٹکٹ اور ہماری عید مکمل ہوجاتی ہے، کیونکہ آپ قارئین کے لیے فلم کا تبصرہ جلد از جلد کرنا ہوتا ہے تاکہ آپ کی بچت ہوسکے اور آپ جان سکیں کہ کون سی فلم آپ کو زیادہ پسند آسکتی ہے۔

بعض اوقات فلم ساز دوست اس وقت ناراض بھی ہوجاتے ہیں جب کوئی تبصرہ ان کی فلم کے خلاف چلا جائے، لیکن ایمانداری کا تقاضا یہی ہے کہ جو فلم جیسی ہوتی ہے، میں اس کو ویسا ہی لکھتا ہوں۔

لہٰذا اس بار مارچ کے مہینے میں مجھے اس بات کا احساس تب ہوا کہ کورونا کی وبا نے سنیما کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے، جب ایک فلم 'انتظار' نمائش کے لیے پیش ہونے والی تھی۔ اس فلم کی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر، ماضی کی مقبول اداکارہ 'سکینہ سموں' ہیں اور اس فلم کی کاسٹ کہنہ مشق فنکاروں سے مزین ہے۔

فلم 'انتظار' کا ٹریلر

میں اور سکینہ صاحبہ یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کاسٹ کے ساتھ بیٹھ جائیں اور ایک مکالمہ کرلیا جائے، کئی دن بعد آخری بات وہی ہوئی، جس کا ڈر تھا، اس فلم کی نمائش مؤخر کردی گئی اور اس کے بعد بہت زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ عید پر ریلیز ہونے والی 3 فلموں کی نمائش مؤخر ہونے کی خبر بھی آگئی، ان میں سے ایک فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' بھی ہے، بس اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے منظر ویران ہوگیا۔

فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' کا ٹریلر

لاہور اور کراچی کے فلم سازوں کی فلموں کو ملا کر مجموعی طور پر 40 سے 50 فلموں میں سے متعدد کی نمائش اس سال متوقع تھی، مگر اب تاخیر ہوگی۔

ہالی وڈ اور بولی وڈ بھی اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔ ویسے گھر بیٹھے ہوئے ناظرین مختلف ذرائع سے پرانی فلمیں یا نئی ویب سیریز دیکھ رہے ہیں لیکن سنیما جاکر اور اس کی نمائش سے پہلے اس سارے مراحل سے گزر کر فلم دیکھنے کا جو لطف ہے، وہ گھر بیٹھے موبائل یا لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دستیاب نہیں ہوسکتا، اس کے لیے سنیما گھر ہی جانا پڑے گا۔ ہمارے سنیما کی سانس کچھ بحال ہونا شروع ہوئی تھی کہ یہ سلسلہ پھر دم توڑ گیا۔

ایک صحافی کے طور پر میں اپنے دل کی آخری بات کہوں تو وہ تمام صحافی جو فلم کے موضوع پر کام کرتے ہیں، چاہے اس کی صورت کیسی بھی ہو، ان سب کی عید اس بار ادھوری اور اداس رہے گی، کیونکہ برسوں سے ہماری زندگی میں رچی بسی ایک روایت اس عید کا حصہ نہیں ہوگی۔

جس طرح ہم اپنی عیدوں کو میٹھی اور نمکین عید کے ذائقوں سے بھی یاد رکھتے ہیں، اسی طرح یہ عید خوشی کے موسم کا ذائقہ لیے ہوئے ہوتی ہے، فلمیں اور ان سے متعلق نہ ہونے والی سرگرمیوں سے دل میں اداسی بھرے گی اور ناصر کاظمی کے بقول، اس کی کیفیت کچھ یوں ہوگی، جو میں اپنے تمام فلم کے صحافیوں اور نقادوں کی نذر کرنا چاہوں گا کہ

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر

اُداسی بال کھولے سو رہی ہے