سُپر اسٹار: بہت محنت سے بنائی گئی ایک بُری فلم

اپ ڈیٹ 13 اگست 2019

ای میل

اچھی اور بُری دونوں طرح کی فلموں میں ایک بات یکساں ہوتی ہے، جس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور وہ بات ہے ’محنت‘، کیونکہ دونوں طرح کی فلموں پر ایک جیسی ہی محنت کی جاتی ہے۔ اب یہ فلم کی قسمت، وہ اچھی بنی ہوئی ہو اور باکس آفس پر ناکام ہوجائے یا پھر بہت ہی عامیانہ سی فلم ہو لیکن باکس آفس اس کے قدموں میں آن پڑے، زیرِ نظر فلم کے بارے میں یک سطری تبصرہ یہی ہے کہ ’یہ بہت محنت سے بنائی گئی ایک بُری فلم ہے۔‘

فلم سازی

اس فلم کو پروڈیوس کرنے والا ادارہ پاکستانی انٹرٹینمنٹ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس ادارے نے ٹیلی وژن ڈرامے کے نجی شعبے میں ملک گیر شہرت حاصل کی۔ اس چینل کی سب سے بڑی کامیابی کی وجہ اپنی پروڈکشنز کا بنانا تھا۔ انہوں نے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھا اور نت نئے موضوعات پر ڈرامے بنائے، لیکن ڈرامے کے شعبے میں انہیں جو مہارت حاصل رہی، وہ فلم کے شعبے میں کام نہ آسکی، جس کی کئی ایک مثالیں ان کی بنائی اور تقسیم کی جانے والی فلمیں ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس فلم ساز ادارے کی اکثر فلمیں باکس آفس پر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور چونکہ یہ صرف کمرشل فلموں میں دلچسپی لیتے ہیں اس لیے ناکامی کی صورت میں مالی خسارے کے علاوہ ان کی فلموں میں کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا، جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ آیا کوئی موضوعاتی یا تخلیقی پہلو بھی ہے، جن کی وجہ سے ان کے تحت نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلموں کو پرکھا جاسکے۔

ڈرامے کی گہری چھاپ ان کی بنائی ہوئی فلموں پر ہے۔ اس فلم میں بھی نامور کاسٹ، اعلیٰ کاسٹیوم، بہترین لوکیشنز اور شوٹنگ کی جدید سہولتوں سے مزین فلم کا مستقبل باکس آفس پر روشن دکھائی نہیں دے رہا، کیونکہ یہ صرف پرانے منجن کی نئی پیکنگ کی حد تک کی گئی خالص کمرشل کوشش ہے۔

کہانی و ہدایت کاری

اس فلم کے ہدایت کار محمد احتشام الدین ہیں، جنہوں نے تھیٹر اور ٹیلی وژن سے ہوتے ہوئے فلم تک اپنی صلاحیتوں کے اظہار کی راہ ہموار کی۔ تھیٹر اور ٹیلی وژن ڈرامے کے لیے ان کا نام معیار کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ان کی پہلی فلم ہے، جس میں انہوں نے بطورِ ہدایت کار اپنے فرائض انجام دیے ہیں اور سچ بات تو یہ ہے کہ وہ زیادہ متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ فلم کی کہانی کا بوسیدہ اور پرانا ہونا ہے۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

لیکن یہ بھی ٹھیک ہے کہ اب ایسی پرانی کہانی میں بھلا کون جادو جگا سکتا ہے؟ مگر اس کے باوجود کئی ایک مناظر میں انہوں نے اپنی ہدایت کارانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا، لیکن بے شمار مناظر اور گیتوں کی فلمبندی پر بھارتی انداز کی چھاپ نے ان کے اصل کام کو کہیں چھپا دیا، جو قابلِ افسوس ہے۔

پھر اس ناکامی سے ایک اور بات بھی ثابت ہوگئی کہ اتنے منجھے ہوئے اور ایوارڈ یافتہ ڈراموں کے ہدایت کار کسی فلم کے بھی اچھے ہدایت کار ثابت ہوں، یہ ضروری نہیں ہے، کم ازکم یہ فلم تو یہی بتا رہی ہے ۔

کہانی نویس کے طور پر اذان سمیع کا نام سامنے آیا ہے، جبکہ کہا یہ جارہا ہے کہ اس فلم کی کہانی کئی لوگوں سے لکھوائی گئی، پھر اسے اذان سمیع کے نام سے ریلیز کر دیا گیا۔ ان کئی لکھنے والوں میں سے ایک معروف فلم ساز اور کہانی نویس سید عاطف علی بھی ہیں، جنہوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی۔ تمام تر پہلوؤں کو نظر انداز کر بھی دیا جائے، لیکن اس کے باوجود فلم طوالت سے لت پت، یکسانیت اور بغیر کسی کلائمکس کے لکھی گئی ہے۔ انڈیا پاکستان کے ثقافتی تعلقات کی تلخی کو بھی بہت ہی بھونڈے انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔

اداکاری و موسیقی

گزشتہ دنوں ماہرہ خان کے حوالے سے بہت باتیں ہوئیں، اور ان کی گزشتہ فلموں ’سات دن محبت اِن‘، ’بول‘، ’ورنہ‘ اور بھارتی فلم ’رئیس‘ کی ناکامیوں نے اس کے حق میں کسی حد تک دلائل بھی دیے، لہٰذا یہ فلم ان کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوچکی ہے۔

ڈراموں میں تو ان کی کامیابی نے سب کے منہ بند کردیے ہیں، لیکن فلموں کے حوالے سے ابھی کچھ سوالات باقی ہے، اور عین ممکن ہے کہ اس فلم کے نتائج کے بعد ان کے جوابات مل جائیں۔

بلال اشرف قدرے نئے اداکار ہیں، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ان کی اداکاری میچور ہو رہی ہے، اس فلم میں بھی یہ اپنے کردار سے انصاف کرتے دکھائی دیے۔ پاکستانی فلمی صنعت کے 2 بڑے اداکار ندیم بیگ اور جاوید شیخ کے کردار انتہائی کمزور تھے، لہٰذا ان سے بہتر پرفارمنس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کرداروں میں ڈراما انڈسٹری کے بہت سارے چہرے دکھائی دیے، جن کی قطعی طور پر فلم میں ضرورت نہیں تھی لیکن وہ شامل کیے گئے۔ اس طرز کی کہانی، جس میں ایک فنکار کی جدوجہد دکھائی گئی ہے، وہ احساس پوری فلم میں کسی موڑ پر پیدا ہی نہیں ہوسکا۔ ایک بُری کہانی بڑی کاسٹ اور پروڈکشن کی ناکامی کی وجہ بن جائے گی۔

موسیقی کے شعبے میں اذان سمیع خان نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا عمدہ ثبوت دیا، پس منظر کی موسیقی بھی کانوں کو بھلی محسوس ہوئی، جس میں اذان کے ساتھ سعد سلطان نے شراکت داری کی۔ پاکستانی اور بھارتی گلوکاروں کی آوازوں کو شامل کیا گیا جن میں ہندوستان سے سنیدھی چوہان، رکتیما مکھرجی جبکہ پاکستان سے عاطف اسلم، علی سیٹھی، زیب بنگش، جبار عباس، عاصم اظہر اور دیگر شامل ہیں، لیکن فلم کے گیتوں کا کہانی سے کوئی تعلق بنتا ہوا دکھائی دیا اور نہ ہی فلم میں کوئی ایسا گیت ہے جو فلم کی تھیم کو لے کر آگے چل سکے، البتہ انفرادی طور پر سننے میں یہ گیت کانوں کو اچھے لگتے ہیں۔

نتیجہ

پاکستان میں ایک طبقے کا یہ خیال ہے کہ کچھ نہ بننے سے بہتر ہے، جس طرح کی فلمیں بھی بن رہی ہیں، ان کو قبول کیا جائے، مگر سینما کی بحالی کے نام پر دوسری دہائی اپنے نصف کو آن پہنچی لیکن ابھی تک نہ پاکستانی سینما بحال ہوکر دیا اور نہ ہی فلموں کے معیار میں کوئی بہت زیادہ بہتری آئی، اس کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے اور وہ کہانی کا نہ ہونا ہے۔

اس فلم میں بھی سب سے اہم مسئلہ کہانی کا تھا۔ نئی چیزوں کے ساتھ پرانی کہانیوں پر جتنا مرضی کام کرلیں، سینما کی بحالی ممکن نہیں، اس کے لیے نئی کہانیوں اور نئے انداز پر کام کرنا پڑے گا، جس میں کمرشل اور کریٹیو دونوں پہلوؤں کے رنگ شامل کرنا پڑیں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ فلم باکس آفس پر کتنے دن ٹک سکتی ہے۔ آج کا فلم بین بہت ذہین ہے، اس کو آپ بہت زیادہ دیر تک اندھیرے میں نہیں رکھ سکتے، یہ فلم بھی اسی صورتحال کو بیان کررہی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہی نہیں بلکہ ابھی تک دال کالی ہی کالی ہے۔