پی ایم ڈی سی نے 10 میڈیکل، ڈینٹل کالجز کی سند غیر قانونی قرار دے دی

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم سی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم سی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے 10 میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی سند غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں مزید داخلے کرنے سے روک دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کونسل نے فیصلہ کیا کہ پہلے سے داخل طالب علموں کو دیگر کالجز میں ڈالا جائے گا تاکہ ان کی تعلیم میں کوئی خلل نہ آئے۔

ان 10 کالجز کو پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے دور میں رجسٹر کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرڈیننس، جس کے تحت پی ایم سی کا قیام عمل میں آیا تھا، کو ختم کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: پی ایم ڈی سی بحال، پاکستان میڈیکل کمیشن تحلیل کرنے کا حکم

پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن (پامی) کے جنرل سیکریٹری خاقان وحید خواجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پی ایم ڈی سی کے صدر سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ انسپیکشن کا مرحلہ ایک ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا۔

کونسل کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق جہاں پی ایم سی کے تمام اقدامات غیر قانونی قرار دے دیے گئے ہیں وہیں ان کو دیے گئے سند اور رجسٹریشن کو بھی غیر قانونی سمجھا جارہا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ 10 کالجز کو نئے طالب علموں کا داخلہ کرنے سے روکا گیا ہے اور 20-2019 کے لیے داخل طالب علموں کو دیگر کالجز میں ایڈجسٹ کیا جائے گا جو پی ایم ڈی سی سے منظور شدہ ہیں۔

پنجاب کے دو کالجز راولپنڈی کے وطیم میڈیکل کالج اور لاہور کے ناہید ڈینٹل کالج اور اسلام آباد کے شفا کالج آف ڈینٹسٹری، شفا تعمیر ملت اور راول انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے ڈینٹل سیکشن کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے پی ایم ڈی سی کو چلانے کیلئے 11 رکنی ایڈہاک کونسل قائم کردی

کراچی کے فضائیہ رتھ فاؤ میڈیکل کالج اور ڈاؤ ڈینٹل کالج سمیت میر پور خاص کے محمد ڈینٹل کالج اور خیرپور میڈیکل کالج کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے اہبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج اور سوات میڈیکل کالج کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

ان اداروں میں پڑھنے والے تمام طالب علموں کو دیگر کالجز میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ بریگیڈیئر حافظ الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ ’تمام کالجز کو طالب علموں سے اکٹھا کی گئی تمام رقم ان کو بھیجے گئے دوسرے کالجز میں ایک ماہ کے اندر اندر منتقل کی جانی چاہیے‘۔