کراچی طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو سامنے لے آئیں گے، وزیر ہوا بازی

اپ ڈیٹ مئ 28 2020

ای میل

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان—فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
وزیر ہوا بازی غلام سرور خان—فائل فوٹو: اسکرین شاٹ

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والے طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 22 جون کو پیش کردی جائے گی جبکہ ملک میں اب تک جتنے حادثات ہوئے ہیں اور ان کی جو انکوائریز ہوئی ہیں اگر وہ رپورٹ پبلک نہیں کی گئی تو ہم کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں طیارہ حادثے میں 97 لوگ جاں بحق ہوئے جبکہ 2 معجزانہ طور پر محفوظ رہے اور ان کی حالت کافی بہتر ہے اور حالت خطرے سے باہر ہے۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کا طیارہ 99 مسافروں کو لے کر لاہور سے کراچی پہنچا تھا جو لینڈنگ سے کچھ منٹ پہلے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گرکر تباہ ہوگیا تھا، جس میں 97 افراد (89 مسافر اور 8 عملے کے اراکین) جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔

وزیر ہوا بازی نے کہا کہ اس واقعے کے پیش آنے کے بعد ایک ٹیلی کانفرنس ہوئی، جس میں پی آئی اے اتھارٹی اور باقی ذمہ داران شریک ہوئی اور ہم نے وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری سے اس ایکسیڈنٹ کا ایک بورڈ نوٹیفائی کروایا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں تباہ ہونے والے طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گیا

غلام سرور کا کہنا تھا کہ اس بورڈ کو انکوائری کا حکم دیا اور اس کی سربراہی پاک فضائیہ کے ایک سینئر افسر کر رہے ہیں جبکہ دیگر 3 افسران میں ایک ایوی ایشن اور 2 پاک فضائیہ کے افسر ہیں، مزید یہ کہ اس کے ٹی او آرز میں یہ شامل ہے کہ وہ ضرورت محسوس کرتے ہوئے کسی اور کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طیارہ اے 320 کو تیار کرنے والی کمپنی ایئربس اور حکومت فرانس کی 11 رکنی ٹیم 26 تاریخ کو پاکستان پہنچی اور اس ٹیم نے بھی اپنی انکوائری اور تحقیقات شروع کردی۔

انہوں نے کہا کہ میں خود جائے حادثہ پر گیا اور طیارے کا ملبہ بھی دیکھا جبکہ جاں بحق افراد کے لواحقین سے بھی ملا، یہیں نہیں بلکہ طیارہ جس آبادی پر گرا وہاں 12 سے 15 گھر متاثر ہوئے اور لوگوں کے مکانوں کی اوپری منازل تباہ ہوئیں کیونکہ طیارے کے پر اور انجن ان مکانات پر گرے، اس کے علاوہ گلی اور اطراف میں کھڑی گاڑیاں بھی تباہ و برباد ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب چیزیں میں نے خود دیکھی ہیں جبکہ ہمارے اور سی ای او پی آئی اے کے جانے سے پہلے کورکمانڈر کراچی، رینجرز کے سدرن کمانڈ کے سربراہ، مقامی انتظامیہ کے لوگ اور رضا کار ریسکیو کے لیے وہاں پہنچے جبکہ میں نے ویڈیوز دیکھیں کہ سویلین کا جذبہ قابل دید تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بچنے والوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن لوگوں نے اپنی کوششیں نہ چھوڑیں اور اب تک کی اعداد و شمار کے مطابق 51 لاشیں شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کی جاچکی ہیں جبکہ باقی لاشیں سرد خانے میں موجود ہیں اور ڈی این اے کی ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے لیکن اس ٹیسٹ میں جو وقت درکار ہے وہ تو لگنا ہے، اس سلسلے میں سندھ کے صحت کے حکام کام کر رہے ہیں جبکہ پنجاب سے بھی کچھ ماہرین ہم نے بھجوائے ہیں اور این ڈی ایم اے کا تعاون ہے۔

وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر 5 لاکھ روپے ہیں جبکہ باقی کے معاوضے کا عمل مراحل میں ہے اور یہ انشورنس کمپنی کی جانب سے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حادثہ کیوں ہوا، کیسے ہوا، اس کے ذمہ دار کون ہیں یہ پوری قوم کے تحفظات ہیں، تاہم یہ بتاتے ہوئے افسوس ہوتا ہے اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد 12 ایسے حادثات ہوئے ہیں، جس میں سے 10 میں پی آئی اے جبکہ ایک میں بوجھا اور ایک میں ایئربلیو کا طیارہ تباہ ہوا۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ رپورٹس بروقت نہیں آتیں، اس پر ابھی وزیراعظم نے مکمل بریفنگ لی اور ہم پر بھی غصے کا اظہار کیا جبکہ لواحقین سے بھی تعزیت کی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آج تک یہ کیوں نہیں ہوا کہ بروقت رپورٹ آئے۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ حادثہ ہمارے دور میں ہوا لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ باقی تمام واقعات کو بھی پارلیمنٹ سیشن کے ذریعے قوم کے سامنے رکھیں گے۔

وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ یہ 22 مئی کا واقعہ ہے اور ہم کم وقت میں ابتدائی رپورٹ 22 جون کو پارلیمنٹ میں عوام کے سامنے رکھ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مکمل صاف اور شفاف تحقیقات ہوں گی، اس میں کسی کو پھنسانے یا بچانے کی کوئی رائے ہونی ہی نہیں چاہیے، ہم سب نے مرنا ہے اور اس خدا کے آگے حاضر ہونا ہے اور میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور کسی کو ریلیف دیا جائے۔

وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری اور عزم ہے کہ کم سے کم وقت میں تحقیقات اور ساری معمولات قوم کے سامنے رکھیں، ساتھ ہی ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جن لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا پائلٹ ہمارا بھائی تھا اور قابل احترام تھا، اللہ ان کے والدین کو صبر دے، تاہم میں وزیراعظم کی طرف سے انہیں یقین دلاتا ہوں کہ مکمل صاف و شفاف انکوائری ہوگی اور اس پر کسی کے اثر انداز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سندھ حکومت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہر معاملے کو سیاست کی نذر کیا جارہا ہے، اگر کوئی بیماری یا حادثہ ہے تو اسے بھی سیاست کی نذر کرنا چاہیے؟ لیکن میں پوچھنا چاہوں گا کہ 2010 میں بھی ایک حادثہ ہوا تھا اسے تو کسی نے سیاست زدہ نہیں کیا تھا تو کیا وہ اس کی انکوائری رپورٹ جمع کرواسکے جو آج اعتراض کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والے حادثے کی ذمہ داری تو ہم پر ہے لیکن ہم تو یہاں تک جارہے ہیں کہ جتنے حادثات ہوئے ہیں اور ان کی جتنی انکوائریز ہوئی ہیں ان کی اگر رپورٹ پبلک نہیں کی تو ہم کریں گے، اس کے علاوہ ان رپورٹس پر اگر سابق حکومتوں نے عمل درآمد نہیں کیا تو ذمہ داروں کے خلاف ہم ایکشن لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہے وزیر ہوا بازی ہوں لیکن میں کوئی ماہر نہیں ہوں لہٰذا اس معاملے پر کم سے کم تبصرہ کیا جائے اور اپنے اس ادارے اور تحقیقاتی بورڈ پر اعتماد کیا جائے جبکہ جو بھی ذمہ دار ہوگا اسے انجام تک پہنچایا جائے گا۔

دوران گفتگو وزیر ہوا بازی نے یہ بھی کہا کہ ہر چیز کے دستاویز ہیں اور ریکارڈ ہے، اگر طیارے میں کوئی تکنیکی خامی تھی تو اس کو ٹھیک کرنے کے بعد ریکارڈ میں کلیئرنس سرٹیفکیٹ موجود ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوال کہ طیارہ ایک مرتبہ لینڈ کرگیا اور تین مرتبہ سطح کو چھوا تو پھر کیوں اٹھایا گیا، اس بات کی بھی انکوائری ہورہی ہے، یہی تو اصل بات ہے، یہ غلطی کس کی تھی، کیا انہوں نے اجازت کے ساتھ لینڈنگ کی ہے یا نہیں اور کیا انہیں کسی نے طیارہ اوپر اٹھانے کا کہا یا اس نے خود طیارے کو اٹھایا۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ سب چیزیں مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آجائیں گی۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وائس اور ڈیٹا ریکارڈ طیارے کے اندر موجود ہوتے ہیں اور یہ دونوں باکسز مل چکے ہیں، فرانسیسی حکام اسے اپنے ملک لے جاکر ڈی کوڈ کریں گے اور اس کی رپورٹ دیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت ساری چیزیں مجھے بھی پتہ ہیں لیکن میں ایک ذمہ دار شخص ہونے کے ناطے اس پر اپنا اظہار نہیں کر رہا کیونکہ میں کوئی ماہر نہیں ہوں، لہٰذا جو لوگ تحقیقات کر رہے ہیں ان کی رائے قابل اعتماد ہوگی اور ہمارا ان پر عمل کرنا مقصود ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

انہوں نے کہا کہ میں اپنے اداروں کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔

ساتھ ہی انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک اجلاس میں اصولی فیصلہ کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو الگ الگ کیا جائے، جس میں ایک ریگولیٹری فنکشن ہے اور ایک کمرشل اور دونوں کو علیحدہ کیا جائے جبکہ یہ معاملہ مراحل میں ہے ابھی اور 30 جون تک یہ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں کے آزاد اے ڈی جی ہوں گے جبکہ ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی بھی ہوگا۔

پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی صداقت نہیں کہ ملبہ بغیر کسی کی اجازت کے ہٹایا گیا۔

غلام سرور کا کہنا تھا کہ ملک میں مقامی پروازوں کا محدود آپریشن نہ منسوخ ہوا ہے نہ ہوگا کیونکہ اس کی منظوری بڑے غور کے بعد دی گئی لیکن یہ سوچ ہے کہ پروازوں کی تعداد بڑھائی جائے.

انہوں نے کہا کہ باہر جانے والے پروازوں کی بھی اجازت ہے تاہم وہاں سے آنے والی پروازوں پر صوبوں کو بھی تحفظات ہیں کیونکہ وہاں سے کورونا کے مریضوں کے آنے پر تحفظات ہیں اور اسی سلسلے میں ملک کی قرنطینہ اور ہسپتال کی سہولیات کو دیکھا جارہا ہے.