اسمارٹ ٹیسٹنگ کے بغیر اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی تصور نہیں

30 مئ 2020

ای میل

لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔
لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔

ملک میں ہونے والے کورونا ٹیسٹ اور مثبت کیسوں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ اگر ہر ایک صوبے میں کیے جانے والے ٹیسٹ کے بعد مثبت کیسوں کا جائزہ لیں تو آپ صوبوں کے درمیان تناسب کو مختلف پائیں گے۔

زیادہ واضح انداز میں کہیں تو پنجاب میں سب سے کم مثبت ٹیسٹ دیکھنے کو مل رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں کم و بیش ایک ہی سطح پر دکھائی دیتے ہیں۔

یہ ایک معنی خیز بات ہے کیونکہ ملک میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت محدود ہے جبکہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھنے سے ٹیسٹنگ کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور خاص طور پر اگر ہم 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' کو اپنانے کی باتیں کر رہے ہیں تو یاد رکھیے کہ پھر ہمیں بہت منظم انداز میں ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اسمارٹ ٹیسٹنگ کے بغیر آپ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جاسکتے۔

25 مئی کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ سیچوئیشن رپورٹ فار پاکستان کی بنیاد پر یہاں صوبوں میں مثبت آنے والے ٹیسٹوں کا فیصد کے اعتبار سے تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں جن لوگوں کا ٹیسٹ کیا گیا ان میں سے 9.9 فیصد افراد کے نتائج مثبت آئے۔ سندھ میں یہ تناسب 14.4 فیصد، خیبرپختونخوا میں 15.3 فیصد اور بلوچستان میں 16 فیصد رہا۔ اسلام آباد نے الگ سے اپنے اعداد و شمار جاری کیے تھے، جس کے مطابق وہاں یہ تناسب 4.9 فیصد رہا۔ ملکی سطح پر دیکھیں تو یہ تناسب 11.75 فیصد رہا۔

یہ تناسب واضح کرتا ہے کہ صوبے اپنے ہاں دستیاب محدود ٹیسٹنگ صلاحیت کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔ زیادہ مثبت نتائج آنے کا مطلب یہ ہوا کہ معیار میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جا رہی ہے اور اس بات کا خیال رکھا جارہا ہے کہ کسے ٹیسٹ کی ضرورت ہے اور کسے نہیں۔ جبکہ کم فیصد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو معیار خود بہت کمزور ہے یا پھر اس پر مناسب انداز میں عمل نہیں کیا جارہا۔

اگر ہم 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں تو 2 چیزوں کا لازمی خیال رکھنا ہوگا۔

پہلی، روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ٹیسٹنگ شرح کچھ یوں ہے کہ ہر 10 لاکھ افراد میں سے 2 ہزار 227 افراد کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اور یہاں ہر 10 لاکھ افراد میں سے 262 افراد کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ شرح اگرچہ میکسیکو، مصر اور انڈونیشیا سے تو معمولی فرق کے ساتھ کچھ بہتر ہے لیکن برازیل اور ارجنٹینا سے معقول حد تک کم ہے کیونکہ برازیل میں اس وقت ہر 10 لاکھ افراد میں سے 3 ہزار 461 اور ارجنٹینا میں 2 ہزار 956 افراد کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

دوسری چیز یہ کہ 10 لاکھ افراد کے حساب سے ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بعد اس معیار کو بہتر انداز میں اپنانے کی ضرورت ہوگی کہ کس کا ٹیسٹ ہوا ہے اور کس کا نہیں ہوا۔

مثلاً یہ غور کیجیے کہ اسلام آباد میں ٹیسٹنگ کے عمل کا تناسب ملکی اوسط سے اس قدر نیچے 4.9 فیصد کیسے رہ گیا حالانکہ وفاقی دارالحکومت میں ٹیسٹنگ کٹس پر پیسے بہائے جا رہے ہیں لیکن کسی کو یہ خیال ہی نہیں کہ اس صلاحیت کا معقول انداز میں کس طرح عملی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پنجاب میں بھی تناسب کم دیکھا گیا ہے کیونکہ یہ وہ صوبہ ہے جہاں پیسوں کے عوض نجی ٹیسٹنگ عمل کی شروعات ہوئی تھی، اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ وہاں ٹیسٹ کرنے کے لیے کسی قسم کے معیار کو نہیں اپنایا جا رہا ہے۔ دراصل ابتدائی دنوں میں پنجاب سے متعلق صوبائی اور وفاقی اعداد وشمار میں تضاد کے پیچھے یہی وجوہات کارفرما تھیں اور جب قومی ادارہ صحت (جو اس وقت کورونا وائرس سے متعلق اعداد وشمار کی فراہمی کا ذمہ دار ادارہ تھا) نے پنجاب سے ٹیسٹوں کی کُل تعداد فراہم کی تو اس میں انہوں سرکاری اور نجی حیثیت میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کی الگ الگ تعداد درج کی۔

صحت عامہ کے سارے مسائل کو ایک طرف رکھ کر امیروں کے سُکھ چین کی پرواہ کرنا اس ملک کی پرانی بیماری ہے اور مجھے اسی بات کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ امیر لوگ پیسوں کے بل پر غیر معیاری پانی یا خراب سرکاری تعلیم کے متبادل ذرائع سے مستفیض ہوتے ہیں، اور اس معاملے میں بھی ان کی یہی عادت رہی۔ یہ لوگ نجی کمپنیوں سے پانی خرید لیتے ہیں اور اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔ یوں ایک کے بعد ایک تمام اہم عوامی مسائل سے منہ پھیر لیا جاتا ہے۔

اب اگر یہ رویہ کورونا وائرس کی اس ہنگامی صورتحال سے نمٹتے وقت برتا گیا تو اس طرح امراء اپنی دیواریں مزید اونچی کردیں گے اور ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو اپنے اور اپنے کارندوں کے لیے ذخیرہ کرلیں گے اور نجی ہسپتالوں میں ترجیحی بنیادوں پر علاج معالجہ کی سہولیات حاصل کریں گے جبکہ دوسری طرف عوام کو کہا جائے گا کہ جاؤ بھیڑ بھری بسوں میں سوار ہوکر کام کی جگہوں پر جلدی پہنچو۔

اگر ٹیسٹ کے نتیجے میں مثبت آنے والے کیسوں کو فیصد کے اعتبار یا تناسب کے طور پر استعمال کیا جانے لگے تو یہ ایک بڑا ہی انکشافی اشاریہ ثابت ہوگا۔ کسی بھی ٹیسٹنگ کے نظام کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ایک بہتر معیار کو ترتیب دے کر اس کی شرح فیصد میں اضافہ لایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ مثبت آنے والے کیسوں کا مطلب یہ ہوگا کہ ملکی نظامِ صحت وائرس کی کھوج لگانے میں اعلیٰ پائے کا کام انجام دے رہا ہے۔ لیکن اگر معاملہ اس کے الٹ ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کے باوجود زیادہ تر ٹیسٹ اپنے حسبِ توقع نتائج حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

ایک خبر کے مطابق اسد عمر نے کہا ہے کہ ان کی رائے میں ایک دن میں 30 ہزار افراد کا ٹیسٹ وائرس کی روک تھام کے لیے کافی ہونے چاہئیں، اور اسی خبر میں انہوں نے وعدہ کیا کہ مئی کے آخر یا جون کی ابتدا میں وہ اس عدد تک پہنچ جائیں گے۔ موجودہ وقت کی بات کریں تو 21 مئی کو سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس دن 16 ہزار 387 ٹیسٹ ہوئے۔ عید کے موقعے پر ٹیسٹوں کی تعداد میں گراوٹ دیکھنے کو ملی لیکن اب جبکہ عید کی چھٹیاں ختم ہوچکی ہیں اس لیے اس تعداد میں ایک بار پھر اٹھان متوقع ہے۔

اگر یہ 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں تو انہیں تیزی سے اعداد میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ٹیسٹوں کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایک اور بھی مسئلہ ہے، جس کی طرف بدھ کے روز ڈان اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں حارث گزدار نے بھی توجہ دلائی ہے، اور وہ یہ ہے کہ نجی سطح پر ہونے والے مہنگے ٹیسٹوں کی وجہ سے ٹیسٹوں کی ڈیمانڈ میں کمی ہوئی ہے۔ اب جس چیز کو ریاست 'اسمارٹ' اقدامات پکار رہی ہے وہ ان لوگوں کے لیے کسی سزا سے کم نہیں ہوں گے جو نشانے پر ہیں کیونکہ ان اقدامات سے ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہونے پر ٹیسٹ کروانے کی وجہ محدود ہوجائے گی۔

اگر ہم ٹیسٹنگ کے نظام میں کوئی بہتری نہیں دیکھتے تو پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت بنیادی طور پر صحت عامہ کے تحفظ کے فرض سے دبے پاؤں بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ اپنے کاموں کو درست قرار دینے کے لیے پُرکشش الفاظ استعمال کر رہی ہے۔

لاک ڈاؤن کے پیچھے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس عرصے میں ریاست کو صحتِ عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا وقت مل جائے۔ اب اس قربانی کا صلہ ملنے کا وقت آ پہنچا ہے۔


یہ مضمون 28 مئی 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔