پاکستانی نژاد خاتون برطانیہ کی پہلی باحجاب ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج تعینات

اپ ڈیٹ مئ 29 2020

ای میل

رفیعہ ارشد کے مطابق وہ اسے صرف ذاتی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھتیں  یہ اس سے کہیں زیادہ ہے— فوٹو: سینٹ میری فیملی لا چیمبرز
رفیعہ ارشد کے مطابق وہ اسے صرف ذاتی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھتیں یہ اس سے کہیں زیادہ ہے— فوٹو: سینٹ میری فیملی لا چیمبرز

پاکستانی نژاد برطانوی خاتون رفیعہ ارشد برطانیہ کی پہلی باحجاب ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج بن گئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 40 سالہ رفیعہ ارشد کو وکالت کے 17 سالہ کیریئر کے بعد گزشتہ ہفتے مڈلینڈز میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج تعینات کیا گیا۔

اس حوالے سے مسلم کونسل آف بریٹین سے جاری بیان کے مطابق رفیعہ ارشد مغربی ملک میں باحجاب جج بننے والی پہلی خاتون ہیں اور دنیا کی چند خاتون مسلمان ججز میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے ویسٹ نیویارک شائر میں گرامر اسکول سے تعلیم حاصل کی اور وہ اپنے خاندان میں سے یونیورسٹی جانے والی پہلی خاتون ہیں۔

مزید پڑھیں: پہلی بار باحجاب مسلم خاتون اسرائیل کی رکن پارلیمنٹ منتخب

رفیعہ ارشد نے اسلامک فیملی لا کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف خواتین بلکہ مسلمان خواتین کی کامیابی بھی ہے، اگر کبھی کھڑے ہونے اور اپنی پیشہ وارانہ خواہشات کو پورا کرنے کا وقت آتا تو وہ وقت اب آگیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ رفیعہ ارشد شادی شدہ ہیں اور ان کے 3 بچے ہیں۔

علاوہ ازیں برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی'کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں اسے صرف ذاتی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2 مسلمان خواتین رکنِ پارلیمنٹ منتخب

رفیعہ ارشد نے کہا کہ عدالتی دفتر اور تعیناتی کمیشن اپنی زیادہ سے زیادہ کوشش کررہے ہیں لیکن عدلیہ ابھی بھی اتنی مختلف نہیں ہے۔

علاوہ ازیں سینٹ میری چیمبرز کے مشترکہ سربراہان نے کہا کہ انہوں نے قانون میں مسلمان خواتین کی کامیابی کی قیادت کی ہے۔

وکی ہوجز اور جیوڈی کلاکزٹن سینٹ میری چیمبرز کے مشترکہ سربراہان نے کہا کہ وہ اس تقرر سے بہت خوش ہیں جو مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہے اور رفیعہ ارشد اس کی مستحق تھیں۔