کورونا وائرس سے 8 کروڑ 60 لاکھ بچوں کے غربت کا شکار ہونے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 29 مئ 2020

ای میل

ایگزیکٹو ڈائریکٹر یونیسیف نے کہا کہ فیصلہ کن اقدامات سے ہم غریب ترین ممالک کو وبا سے درپیش خطرات سے بچاسکتے ہیں— فائل فوٹو : اے ایف پی
ایگزیکٹو ڈائریکٹر یونیسیف نے کہا کہ فیصلہ کن اقدامات سے ہم غریب ترین ممالک کو وبا سے درپیش خطرات سے بچاسکتے ہیں— فائل فوٹو : اے ایف پی

سیو دی چلڈرن اور اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) کی مشترکہ تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے معاشی اثرات کے باعث 2020 کے اواخر تک 8 کروڑ 60 لاکھ بچے غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ وبا سے دنیا بھر میں غربت سے متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 67 کروڑ 20 لاکھ ہوجائے گی جو گزشتہ برس سے 15 فیصد زیادہ ہوگی۔

بیان کے مطابق اس مجموعی تعداد پر مشتمل تقریباً دو تہائی بچے ذیلی صحارائی افریقہ (سب صحارن افریقہ) اور جنوبی ایشیا میں مقیم ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: 6 کروڑ افراد کے انتہائی غریب ہونے کا خطرہ ہے، عالمی بینک کا انتباہ

عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے تخمینے اور 100 ممالک کی آبادی کے اعداد و شمار پر مبنی تحقیق کے مطابق عالمی وبا سے ہونے والا یہ اضافہ بنیادی طور پر یورپ اور وسطی ایشیا میں ہوگا۔

اس حوالے سے یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خاندانوں میں مالی مشکلات کی سطح اور گہرائی سے بچوں میں غربت اور بنیادی ضروریات سے محرومی میں کمی لانے سے متعلق کئی برسوں کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔

علاوہ ازیں سیو دی چلڈرن کی سربراہ اینگر ایشنگ نے کہا کہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے ہم غریب ترین ممالک اور انتہائی کمزور بچوں کو عالمی وبا سے درپیش خطرات کو روک سکتے ہیں اور انہیں بچا سکتے ہیں۔

انہوں نے تنبیہ کی کہ وہ مختصر عرصے کے قحط اور غذائی قلت کے شدید خطرے سے بھی دوچار ہیں جو ممکنہ طور پر ان کی پوری زندگی کو متاثر کرے گا۔

دونوں اداروں نے عالمی وبا کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے حکومتوں سے فوری طور پر سماجی تحفظ کے نظام اور اسکول فیڈنگ میں تیزی سے توسیع کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے خاندانوں سے تعاون کے لیے حکومتوں پر سماجی تحفظ، مالی پالیسیوں، روزگار اور لیبر مارکیٹ میں مداخلت سے متعلق سرمایہ کاری پر زور دیا۔

اس میں معیاری علاج اور دیگر سہولیات تک رسائی میں توسیع اور خاندان دوست پالیسیوں میں سرمایہ کاری جیسا کہ تنخواہ کی ادائیگی کے ساتھ چھٹیاں اور چائلڈ کیئر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک: کورونا وائرس سے متاثر پاکستان کیلئے 20 کروڑ ڈالر کا امدادی پیکج منظور

خیال رہے کہ چند روز قبل عالمی بینک کے صدر نے خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے 6 کروڑ افراد 'انتہائی غربت' کی سطح پر پہنچ جائیں گے۔

اپنے بیان میں عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس نے کہا تھا کہ چونکہ تمام ممالک اس وبا سے لڑ رہے ہیں اس لیے رواں سال عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 5 فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وائرس کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں اور کاروبار بند ہورہے ہیں۔

عالمی بینک کے صدر نے کہا تھا کہ 'ہمارا اندازہ ہے کہ وبا کی وجہ سے 6 کروڑ لوگ انتہائی غریب ہوجائیں گے جس کی وجہ سے غربت ختم کرنے کے لیے گزشتہ تین برسوں میں ہونے والی پیشرفت ختم ہوجائے گی'۔