کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کی منگنی کی تصاویر وائرل

اپ ڈیٹ مئ 29 2020

ای میل

دونوں ڈاکٹرز ہیں اور دونوں کے درمیان پہلے سے ہی تعلقات تھے—فوٹو: فیس بک
دونوں ڈاکٹرز ہیں اور دونوں کے درمیان پہلے سے ہی تعلقات تھے—فوٹو: فیس بک

دنیا بھر میں پھیلی کورونا وائرس کی وبا کے باعث اگرچہ شادی کی تقریبات ملتوی کردی گئی ہیں، تاہم اس باوجود دنیا بھر میں لوگ محدود افراد کی موجودگی میں شادی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی آن لائن شادیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تاہم مشرق وسطیٰ کے ملک مصر میں کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے دو ڈاکٹرز نے وبا کے دنوں میں منگنی کرکے نہ صرف مریضوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیریں بلکہ ان کی منگنی کی تصاویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصر کی لیڈی ڈاکٹر کورونا کے مرد مریض کا علاج کرتے کرتے ان کی محبت میں نہ صرف گرفتار ہوئیں بلکہ ان سے منگنی بھی کر ڈالی۔

منگنی کو یادگار بنانے کے لیے انہوں نے فوٹوگرافی کروائی—فوٹو: فیس بک
منگنی کو یادگار بنانے کے لیے انہوں نے فوٹوگرافی کروائی—فوٹو: فیس بک

تاہم حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ وہ دونوں ہی ڈاکٹرز ہیں اور کافی عرصے سے ایک ہی ہسپتال میں ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے رہے تھے اور دونوں کے درمیان پہلے سے ہی تعلقات تھے۔

مصر کے عرب نشریاتی ادارے الخبر الجدید کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر لیڈی ڈاکٹر اور کورونا کے مریض کی نہیں بلکہ ایک ہی ہسپتال کے ڈاکٹرز کی ہیں، جنہوں نے منفرد انداز میں نہ صرف منگنی کی بلکہ اپنی منگنی کو یادگار بنانے کے لیے انہوں نے فوٹوگرافی بھی کروائی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کے بعد جب معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ منگنی کرنے والے دونوں افراد ایک ہی ہسپتال کے ڈاکٹرز ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لیڈی ڈاکٹر آیا المصباح اور محمد فہمی مصر کے شہر منصورہ کے دارالشفا ہسپتال میں ایک ساتھ خدمات سر انجام دیتے تھے اور دونوں کے درمیان پہلے سے ہی تعلقات تھے۔

دونوں کی تصاویر پوری دنیا میں وائرل ہوگئیں—فوٹو:فیس بک
دونوں کی تصاویر پوری دنیا میں وائرل ہوگئیں—فوٹو:فیس بک

دونوں نے اپنی منگنی کو یادگار بنانے کے لیے فوٹوگرافر محمد سلیم کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے ان کے حفاظتی لباس اور کورونا کے مریضوں کے علاج کے طریقہ کار کے انداز میں ہسپتالوں میں ہی تصاویر بنائیں۔

محمد سلیم نے دونوں کی منگنی کی تصاویر کو فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے ان سے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا، صرف اپنی فوٹوگرافی کے حوالے سے لوگوں کو بتایا، تاہم انہوں نے تصاویر میں دونوں کو مینشن کیا تھا۔

دونوں کافی عرصے سے ایک ہی پستال میں خدمات سر انجام دے رہے تھے—فوٹو: فیس بک
دونوں کافی عرصے سے ایک ہی پستال میں خدمات سر انجام دے رہے تھے—فوٹو: فیس بک

فوٹوگرافر کی پوسٹ سے اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ دونوں ڈاکٹرز ہیں، تاہم ان کی تصاویر کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کی ملاقات ہسپتال میں ہوئی اور پھر ان کی ملاقاتیں محبت میں تبدیل ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے منگنی کرلی۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی دونوں کی تصاویر خوب وائرل ہوئیں—فوٹو: فیس بک
پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی دونوں کی تصاویر خوب وائرل ہوئیں—فوٹو: فیس بک

لیکن جب مصر کے مقامی خبر رساں اور ویب سائٹس نے معاملے کی تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ دراصل دونوں ڈاکٹرز ہیں اور انہوں نے کورونا سے احتیاط کا شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنی منگنی کی منفرد فوٹوگرافی کروائی۔

مصر کی ویب سائٹ فالسو کے مطابق دونوں نے فوٹوگرافر کے مشورے کے بعد ہسپتال میں ہی فوٹوگرافی کروائی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور دونوں کو مریض اور ڈاکٹر کی محبت کا نام دیا گیا۔

دونوں ڈاکٹرز کے درمیان پہلے سے ہی تعلقات تھے—فوٹو: فیس بک
دونوں ڈاکٹرز کے درمیان پہلے سے ہی تعلقات تھے—فوٹو: فیس بک