مشرقی افغانستان میں طالبان کے حملے میں 14 افغان فوجی ہلاک

اپ ڈیٹ 30 مئ 2020

ای میل

افغان شہری طالبان کے حملے میں ہلاک سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کے جسد خاکی کو تدفین کے لیے لے جا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
افغان شہری طالبان کے حملے میں ہلاک سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کے جسد خاکی کو تدفین کے لیے لے جا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

مشرقی افغانستان میں طالبان کے حملے میں 14 افغان فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی سیز فائر کے سلسلے میں طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔

طالبان نے پکتیا صوبے میں کیے گئے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور اسے ایک دفاعی حملہ قرار دیا البتہ انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان: جنگ بندی کے آخری روز مزید سیکڑوں طالبان قیدی رہا

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گزشتہ رات جنگجوؤں نے حال ہی میں صوبہ پکتیا کے ضلع داندے پتن میں تعمیر دشمنوں کی چوکیوں پر حملے کیے، دشمن ان دنوں اپنی حکمرانی کو جنگجوؤں کے علاقے میں توسیع دینے کے لیے کوشاں ہے۔

افغان حکام نے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن ضلع داندے پتن کے گورنر عید محمد احمدزئی نے خبر رساں 'اے ایف پی' سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکار اور 20 طالبان مارے گئے۔

افغانستان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر آفس کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا کہ بے ترتیب جھڑپوں کے علاوہ عید کے تین دن سیز فائر کا احترام کیا گیا جہاں اس سیز فائر کا خاتمہ منگل کو ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت اور طالبان کا عیدالفطر پر 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان

انہوں نے کہا کہ سیز فائر ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے بہترین تعاون درکار ہوتا ہے اور ہم نے یہ کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

طالبان نے بدھ کو حکومت پر فضائی حملے کا الزام عائد کیا تھا جس میں کئی شہری ہلاک ہو گئے تھے البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف طالبان جنگجو تھے۔

دونوں فریقین ہی مکمل طور پر جنگ پر آمادہ نظر نہیں آتے اور چند اکا دکا جھڑپوں کے باوجود عیدالفطر پر شروع ہونے والا سیز فائر اب بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، طالبان کا قیدیوں کی رہائی سے متعلق افغان حکومت کے ’اعلان‘ کا خیر مقدم

ادھر طالبان اور افغان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے گفتگو کے لیے طالبان کا 5 رکنی وفد کابل میں موجود ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان افغان امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کابل انتظامیہ اب تک 2 ہزار طالبان قیدی رہا کر چکی ہے جبکہ طالبان نے 347 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا ہے جبکہ طالبان ایک ہزار افغان فوجی اور پولیس اہلکاروں کو رہا کرنے کے پابند ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان صدر کا مزید 2 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان

اس معاہدے کے تحت امریکی فوجی واپس اپنے وطن لوٹ جائیں گے اور امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ اختتام کو پہنچے گی۔

اس معاہدے میں طالبان اور افغان حکومت سے مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ پرامن انداز میں مستقبل کے کا فیصلہ کیا جا سکے لیکن افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان جاری تنازع کے سبب مذاکراتی عمل تعطل کا شکار تھا۔