امریکا، طالبان کا قیدیوں کی رہائی سے متعلق افغان حکومت کے ’اعلان‘ کا خیر مقدم

اپ ڈیٹ مئ 26 2020

ای میل

ترجمان افغان قومی سلامتی کونسل کے مطابق افغان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کیا — فائل فوٹو بشکریہ افغان سیکیورٹی کونسل
ترجمان افغان قومی سلامتی کونسل کے مطابق افغان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کیا — فائل فوٹو بشکریہ افغان سیکیورٹی کونسل

امریکا اور طالبان نے افغان حکومت کی جانب سے 2 ہزار طالبان قیدیوں کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر رہا کرنے کے وعدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

افغان خبر رساں ادارے طلوع کی رپورٹ کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے انہیں اور قومی مفاہمت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو فون کیا اور ’2 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کے فیصلے پر افغان حکومت کا شکریہ ادا کیا‘۔

مزید پڑھیں: معاہدے کو حتمی شکل دینے میں فریقین کا کردار قابل تعریف ہے، قطری وزیر خارجہ

اشرف غنی نے کہا کہ مائیک پومپیو نے طویل جنگ کے خاتمے اور براہ راست مذاکرات کے آغاز پر زور دیا۔

واضح رہے کہ طالبان نے ہفتے کے روز عید الفطر کے موقع پر ملک میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے نہ صرف افغان حکومت بلکہ اس کے پڑوسی ممالک اور افغان جنگ میں اہم ترین حریف امریکا نے بھی سراہا تھا۔

بعد ازاں طالبان کی جانب سے 3 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر افغان حکومت، 2 ہزار طالبان قیدیو کو رہا کردے گی۔

افغانستان میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کے مطابق افغان حکومت نے آج 100 طالبان قیدیوں کو رہا کیا جبکہ 2 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کو بگرام جیل سے رہا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'بھارت طالبان سے مذاکرات کو امن عمل میں مددگار سمجھتا ہے تو اسے ایسا کرنا چاہیے'

جاوید فیصل نے مزید کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ اس کے ساتھ جنگ بندی بھی جاری رہے گی اور براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے افغان حکومت کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ 2 ہزار قیدیوں کی رہائی کا وعدہ افغان حکومت کی جانب سے ایک اچھا اقدام ہے لیکن انہوں نے کہا کہ مناسب ماحول پیدا کرنے کے لیے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا عمل مکمل کیا جائے۔

بین الاقوامی بحران کے ایک گروپ سائنس و عالمی امور کے سابق ڈائریکٹر خلیل صافی نے کہا کہ جلد ہی قیدیوں کی رہائی کے باعث تشدد میں کمی آئے گی اور افغانستان میں ہونے والے مذاکرات کا موقع پیدا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: گردیز میں دھماکے سے 5 افراد ہلاک، طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی

ایک صحافی سمیع یوسف نے کہا کہ اگر طالبان نے اپنے حملے جاری رکھے تو افغان حکومت 2 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کے وعدے کی پابند نہیں رہے گی۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ قیدیوں کی رہائی کے بعد وہ میدان جنگ میں واپس نہیں آئیں گے۔

خیال رہے کہ 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت کو 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا تھا تاہم اب تک حکومت نے ایک ہزار طالبان قیدیو کو رہا کیا ہے۔

امریکا-طالبان امن معاہدہ

واضح رہے کہ 29 فروری کو سال 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

چار صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے جس میں طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا، افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا، طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے اور انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

قیدیوں کے تبادلے کا عمل 10 مارچ سے قبل مکمل ہونا تھا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا تاہم متعدد مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی سے آگے بڑھا۔

مزید پڑھیں: بھارت کے حوالے سے زیر گردش خبروں کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں، ترجمان

تاہم افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا تھا، جن میں سے کچھ حملوں بشمول 12 مئی کو میٹرنٹی ہسپتال میں کیے گئے حملے کو داعش سے منسوب کیا گیا۔

جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے خلاف جارحانہ کارروائی کے دوبارہ آغاز کا حکم دیا تھا، افغان حکومت کے اعلان کے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان فورسز کے حملوں کے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

طالبان نے کہا تھا کہ اب سے مزید کشیدگی کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے کاندھوں پر ہوگی۔

18 مئی کو قبل طالبان نے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ دہرایا۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل دوحہ معاہدے پر عمل میں ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے چاہیے۔