افغانستان: جنگ بندی کے آخری روز مزید سیکڑوں طالبان قیدی رہا

اپ ڈیٹ 27 مئ 2020

ای میل

رہائی پانے والے ایک قیدی نے امریکا، طالبان معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں۔ فوٹو:اے ایف پی
رہائی پانے والے ایک قیدی نے امریکا، طالبان معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں۔ فوٹو:اے ایف پی

بگرام: طالبان سے جنگ بندی کے تیسرے اور آخری روز اس میں توسیع کے مطالبے کے ساتھ افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کشیدگی میں یہ وقفہ تقریبا 19 سال کی جنگ میں دوسری مرتبہ سامنے آیا ہے جو پورے افغانستان میں عمل میں آیا اور اس کی وجہ سے کشیدگی کی زد میں آنے والوں کو کچھ مہلت ملی ہے۔

حکام نے بتایا کہ افغانستان بھر سے تقریباً 900 قیدیوں کو رہا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، ان میں سے تقریباً 600 قیدیوں کا تعلق کابل کے قریب بدنام زمانہ بگرام جیل سے ہے۔

مزید پڑھیں: افغان صدر کا مزید 2 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان

افغان حکومت کی طرف سے یہ اقدام طالبان کی تین روزہ جنگ بندی کی پیش کش کے جواب میں 2 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کا حصہ ہے۔

جنگ بندی کا آغاز اتوار کے روز عید الفطر کے موقع پر ہوا تھا۔

طالبان کے زیر اثر صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ عبد الوصی نے کہا کہ جب وہ 8 سال قبل حراست میں لیے گئے تھے تو وہ ’دین کے لیے لڑنے والے جنگجو‘ تھے۔

آزادی حاصل کرنے کے بعد لمبی داڑھی روایتی شلوار قمیز پہنے عبدالوصی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کہا گیا تھا کہ غیر ملکی فوجیوں کو اپنے ملک سے نکالنے تک جہاد کرو‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکا طالبان معاہدے پر خوش ہیں جس سے تمام غیر ملکی افواج کا آئندہ سال مئی کے مہینے تک انخلا ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں۔

جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ

قیدیوں نے تحریری طور پر لکھا ہے کہ وہ میدان جنگ میں لوٹ کر نہیں آئیں گے تاہم آزادی پانے والے ایک اور قیدی قاری محمد اللہ کا کہنا تھا کہ جب تک افغانستان میں غیر ملکی افواج ہیں تب تک وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی غیر ملکی کو اپنی زمین پر رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے، انہیں فوری طور پر یہاں سے جانا ہوگا‘۔

رہائی پانے والے ہر قیدی کو تقریباً 65 ڈالر کی رقم افغان کرنسی میں دی گئی۔

افغانستان کے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ رہائی پانے والے قیدیوں کی اصل تعداد قانونی کارروائی کیے جانے کے بعد جاری کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکام کو اُمید ہے کہ طالبان جنگ بندی میں توسیع کریں گے تاکہ امن مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اگر طالبان جنگ بندی میں توسیع کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی اس کے لیے تیار ہیں‘۔

دوسری جانب طالبان کے سینئر رہنما نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے 200 افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو رہا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس پر کب عمل ہوگا۔

خیال رہے کہ جنگ بندی سے معاہدے کی راہیں ہموار ہوگئی ہیں جس کے لیے طالبان اور افغان حکومت مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایک اور سینئر طالبان ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی تنظیم جنگ بندی میں 7 روز کی توسیع کرسکتی ہے اگر افغان حکومت نے قیدیوں کی رہائی کے عمل کو تیز کیا۔

تاہم ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس توسیع کی ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان معاہدے کے تحت افغان حکومت کو طالبان کے 5 ہزار قیدی اور طالبان کو افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرنے تھے۔