چینی بحران رپورٹ شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی کے خلاف چارج شیٹ ہے، شہزاد اکبر

اپ ڈیٹ 01 جون 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں شہباز شریف کے کارناموں کا تفصیل سے تذکرہ موجود ہے—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں شہباز شریف کے کارناموں کا تفصیل سے تذکرہ موجود ہے—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف چینی بحران کمیشن کی رپورٹ چارج شیٹ ہے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ شاہد خان عباسی نے چینی کی پیداوار کا صحیح تعین کیے بغیر 24 گھنٹے کے نوٹس پر چینی پر 20 ارب روپے کی سبسڈی شوگر ملز کو دی تاکہ وہ برآمد کرسکیں۔

شہزاد اکبر نے کمیشن رپورٹ کے پیراگراف 209 کا حوالہ دے کر کہا کہ ’شاہد خاقان عباسی سبسڈی کے حق میں کوئی جواب نہ دے سکے اور نہ ہی کوئی دستاویز پیش کیں۔'

مزید پڑھیں: چینی بحران: کمیشن نے وزیر اعظم عمران خان کو ’مجرم‘ قرار دیا ہے، مریم اورنگزیب

معاون خصوصی نے کہا کہ ’شاہد خاقان عباسی اپنے مالک (شہباز شریف) کے اتنے وفادار ہیں کہ ان کے بھتیجے (سلیمان یا حمزہ شہباز) کے کہنے پر 20 ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔'

انہوں نے طنزیہ کہا کہ ’یہ ہوتا ہے لائق شخص، یہ ہوتا ہے وفادار شخص‘۔

علاوہ ازیں شہزاد اکبر نے کہا کہ سندھ والوں نے بھی حصہ ڈالا لیکن میں آج اس پر محدود رہوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری کے بعد چینی کو برآمد کرنے کی اجازت دی تھی نا کہ سبسڈی کی۔

انہوں نے کمیشن رپورٹ کا پیرا پڑھ کر سنایا کہ ’یہ درست ہے کہ ملک کو زرمبادلہ کی ضرورت تھی اور وافر مقدار میں شوگر موجود تھی جسے برآمد کیا جاسکتا تھا‘۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ کمیشن نے چینی بحران کی اصل وجہ مارکیٹ اور شوگر ملز کے گٹھ جوڑ کو قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی بحران کا اصل ذمہ دار کون؟ کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے تحریری طور پر دو مرتبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کو طلب کیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، ای سی سی کے رکن اسد عمر نے بھی پیش ہو کر تمام سوالات کے جواب دیے۔

معاون خصوصی نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر بھی کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں شہباز شریف کے کارناموں کا تفصیل سے تذکرہ موجود ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، ان کی نگرانی میں العریبیہ شوگر ملز نے کسانوں کو تقریباً سوا ارب روپے کی کم ادائیگی کی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی بحران رپورٹ: 'جہانگیر ترین، مونس الہٰی،شہباز شریف فیملی کی ملز نے ہیر پھیر کی

انہوں نے چینی بحران کمیشن کی رپورٹ کے پیرا 422 صفحہ 119 کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کسانوں کو سپورٹ پرائز کی شفاف ادائیگی کے لیے اسپیشل برانچ کو رپورٹ جمع کرانے کا کہا اور بعد ازاں اس رپورٹ میں انکشاف کیا کہ شہباز شریف خاندان کی العریبیہ شوگر ملز نے کسانوں کا حق مارا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف کا پورا خاندان العریبیہ شوگر ملز کا شیئر ہولڈر ہے، کسان اور صارف بدحال ہے لیکن شوگر ملز خوش ہیں۔

معاون خصوصی نے شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ اس سے بڑا کیا ثبوت چاہیے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ العربییہ شوگر ملز میں دو لیجر بکس تھیں جس پر ’این اور آر‘ درج تھا۔

انہوں نے مزید تفصیلات بتائیں کہ جس لیجر بک پر 'این' درج تھا اس کا مطلب تھا کہ گنا خریدا گیا اور چینی بھی بنائی گئی لیکن ایسے ظاہر نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: 'وزیراعظم نے چینی کے بعد آٹا بحران کی رپورٹ بھی طلب کرلی'

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے خلاف ریفرنس دائر ہونے والا ہے جس کے خوف سےانہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ’شہباز شریف کے لیے بھاگنے کے تمام راستے بند ہیں، شاید وہ لندن بھی نہ جا سکیں‘۔