مساجد، بازاروں، دوران سفر ماسک پہننا لازمی قرار

اپ ڈیٹ مئ 30 2020

ای میل

—فوٹو:ڈان نیوز
—فوٹو:ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزا نے کہا ہے کہ مساجد، بازاروں اور دیگر پرہجوم مقامات پر ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں معاون خصوصی معید یوسف کے ہمزاہ پریس کانفرنس کرتےہوئے ظفر مرزا نے کہا کہ 'جیسے کیسز اور اموات بڑھ رہی ہیں تو جو احتیاطی تدابیر دی گئی ہیں ان پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے اور خاص کرماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آپ دفتر یا باہر کہیں بھی ہوں اور سمجھتے ہوں کہ سماجی فاصلہ رکھنا ہے تو وہاں ماسک پہننا لازمی ہے، پرہجوم جگہوں پر ماسک پہننا ہم نے لازمی قرار دیا ہے'۔

مزید پڑھیں:کورونا وبا: پاکستان میں ایک روز میں مزید 69 اموات، سندھ سب سے زیادہ متاثر صوبہ

معاون خصوصی نے کہا کہ 'مساجد، بازاروں، شاپنگ مالز، ذرائع آؐمد رفت چاہے جہاز، ریل، بس یا ویگن ہو یہاں ماسک پہننا لازم ہے'۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا کہ 'ہم اب تک 5 لاکھ 32 ہزار کے قریب ٹیسٹ کرچکے ہیں اور مصدقہ کیسز کی شرح 12.4 فیصد ہے'۔

ان کا کہناتھا کہ 'ہم پچھلے 24 گھنٹوں میں 12 ہزار20 ٹیسٹ کیے جسکے نتیجے میں 2 ہزار 429 ٹیسٹ مثبت آئے اور اگر صرف پچھلے 24 گھنٹوں کا جائزہ لیں تو اس کی شرح تقریباً20.4 فیصد بنتی ہے'۔

ڈاکٹر ظر مرزا کا کہنا تھا کہ 'جب سے کورونا آیا ہے مثبت ٹیسٹ کی تعداد بتدریج بڑھتی گئی اور اب یہ 20 فیصد سے زائد تک پہنچ چکی ہے، پاکستان میں 36 فیصد لوگ صحت یاب ہوئے'۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان میں اب تک ایک ہزار 395 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ پچھلے 24 گھنٹوں میں یہ نمبر 78 تھا، اب تک کسی بھی ایک دن کا یہ سب سے بڑا نمبر تھا اور اس سے قبل 68 سب سے بڑا نمبر تھا'۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ان اموات کی نشان دہی ہم کافی عرصے سے کررہے تھے کیونکہ جس طرح پاکستان میں وبا پھیل رہی ہے اورمقامی سطح پرمنتقلی کے کیسز کی تعداد92 فیصد ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ امکان تھا، ہے اور ابھی مستقبل میں کچھ عرصے رہنے کا امکان بھی ہے کہ ہمارے کیسز بھی بڑھیں گے اور بدقسمتی سے اموات بھی بڑھیں گی'۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان میں 4 ڈاکٹراور طبی عملے کے افراد بھی شامل تھے اور وی کیئر پروگرام کے تحت ڈاکٹر ہماری اولین ترجیح ہیں جو قوم کی خدمت کررہے ہیں، اس حوالے سے کئی اقدامات بھی کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سول ہسپتال میں کورونا کے مشتبہ مریض کی لاش نہ دینے پر لواحقین کی ہنگامہ آرائی

ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا کہ سوشل میڈیا میں بعض اوقات بڑے ذمہ دار افراد بھی غلط معلومات دیتے ہیں یا ان کا مقصد کی سمت صحیح نہیں ہوتی، 'کل ایک بڑے عالم کے حوالے سے پیغام آیا کہ وہ منع کررہے تھے کہ اگر آپ کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت ہے تو ہسپتال نہ جائیں یا ہسپتال میں صحیح سلوک نہیں ہوگا، اس طرح کے پیغامات مناسب نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'میں تمام افراد سے درخوست کرتا ہوں کہ وہ قوم اور لوگوں کو صحیح معلومات پہنچائیں، صحیح رہنمائی کریں اور درست معلومات فراہم کریں'۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا واقعات بھی دیکھنے کو ملے کہ کسی مریض کو صحیح علاج نہیں ملا تو لواحقین نے ان کے مطابق صحیح نگہداشت نہ ملی تو ہنگامہ آرائی بھی کی، یہ ایسی صورت حال ہے کہ پورا نظام دباؤ کے زیر اثر ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ 'ہمارے ڈاکٹر بہترین خدمات کی کوشش کررہے ہیں لیکن یقیناً کہیں کوتاہی بھی ہوسکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہاں پر ہنگامہ آرائی کی جائے اورلوگوں کو نشانہ بنایا جائے، اس سے مجموعی صورت حال خراب ہوگی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میڈیا اور دیگر جگہوں میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں صحت کا نظام بیٹھ گیا ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان کے نئے نظام ریسورس منیجمنٹ سسٹم سے کل تفصیل سے آگاہ کریں گے اور پاکستان میں بستروں، آئی سی یو اور وینٹی لیٹرز اور دیگر سہولیات کی کیفیت پر بریفنگ دیں گے'۔

ظفر مرزا نے کہا کہ 'پاکستان میں صحت کے مجموعی سہولیات کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ کورونا وائرس کے حوالے سے مصروف نہیں ہے تاہم بڑے شہروں کے اندر چند ہسپتالوں میں مسائل ہوتے ہیں اس کے لیے ہم نے نظام بنایا ہے'۔

یکم جون سے 10جون تک 20 ہزار پاکستانی واپس لائیں گے، معد یوسف

مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی جو واپس آنا چاہتے ہیں ان میں سے دنیا کے 55 ممالک سے 33 ہزار پاکستانیوں کو واپس لاچکے ہیں۔

مزیدپڑھیں:اسمارٹ ٹیسٹنگ کے بغیر اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی تصور نہیں

ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت لگ بھگ ایک ہزار پاکستانی روزانہ واپس آرہےہیں اور یکم جون سے 10 جون تک لگ بھگ 20 ہزار لوگ واپس آئیں گے یعنی روزانہ دو ہزار لوگ آئیں گے جو ہماری گزشتہ پالیسی کا دوگنا ہے'۔

معید یوسف نے کہا کہ 'ہمارا اصل مسئلہ خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی ہے، یکم جون سے 10 جون کے دوران متحدہ عرب امارات سے 8 ہزار، 4 ہزار سعودی عرب سے واپس لائیں گے کیونکہ اس دو ممالک میں بہت زیادہ دباؤ آرہا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'بہت جلد ہم ایک نئی پالیسی لا رہے ہیں جس کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خوش خبری ہے کہ واپس لانے کی تعداد بڑھا رہے ہیں اورجو مسائل ہیں وہ بھی جلدختم ہوجائیں گے، اس حوالے سے تفصیلات چند روز میں جاری کریں گے'۔

پاکستان کی فضائی حدود پروازوں کے لیے کھولنے سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'سول ایوی ایشن نے صرف بیرونی ملک جانے والی پروازوں پر عائد پابندی ختم کردی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ کل سےیہ تاثر دیا جارہا تھا کہ مکمل پابندی ہٹادی گئی ہے جو ہمارے لیےممکن نہیں ہے لیکن یہاں سے بھی جانے کے لیے پابندی تھی لیکن اب جو پرواز آنا چاہے گی وہ خالی آئے گی اور یہاں سے جو باہر جانا چاہتےہیں ان کو اجازت ہوگی۔