ہم کورونا کو ڈراما اور ارطغرل کو حقیقت سمجھتے ہیں، فیصل قریشی

اپ ڈیٹ جون 06 2020

ای میل

اداکار نے کورونا کے حوالے سے قوم کی بے احتیاطی پر افسوس کا اظہار بھی کیا—فوٹو: انسٹاگرام
اداکار نے کورونا کے حوالے سے قوم کی بے احتیاطی پر افسوس کا اظہار بھی کیا—فوٹو: انسٹاگرام

پاکستان میں کورونا کے کیسز میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور 4 جون کو ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریض چین سے زیادہ ہوگئے تھے۔

کورونا وائرس کا آغاز دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا اور وہاں پر اب تک متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 84 ہزار 200 تک ہے جب کہ پاکستان میں 4 جون کی شام تک متاثرہ افراد کی تعداد 85 ہزار 264 تک جا پہنچی تھی۔

کورونا کے کیسز میں اضافے کے بعد جہاں حکومتی شخصیات لوگوں کو زیادہ سے زیادہ احتیاط کرنے کی ہدایات کرتی دکھائی دیتی ہیں، وہیں شوبز شخصیات بھی لوگوں کو احتیاط اختیار کرنے کی ہدایات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا کیسز چین سے زیادہ

اداکار فیصل قریشی نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں عوام کی جانب سے کورونا وائرس کو مذاق جب کہ ترک ڈرامے ارطغرل غازی کو حقیقت سمجھنے کا موازنہ کرتے ہوئے لوگوں کو وبا سے متعلق احتیاط کرنے کی اپیل کی۔

فیصل قریشی نے اپنی متعدد اسٹوریز میں لکھا کہ پاکستانیوں کی جانب سے کورونا کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی ملک میں گزشتہ ماہ یعنی صرف مئی مہینے میں 53 ہزار 908 مریضوں کا اضافہ ہوا۔

فیصل قریشی نے عوام کو طنزیہ انداز میں یاد دہانی کرائی کے ملک میں مارچ میں 1983 افراد کورونا سے متاثر ہوئے تھے جب کہ اپریل میں 14 ہزار 435 اور مئی میں 53 ہزار 908 افراد متاثر ہوئے تھے۔

انہوں نے اپنی ایک اور اسٹوری میں لکھا کہ ہم وہ قوم ہیں جو کورونا کو ڈراما اور ارطغرل کو حقیقت سمجھتے ہیں۔

اداکار نے اسی اسٹوری کے حوالے سے وضاحت بھی کہ وہ ارطغرل غازی کے کرداروں کی بات کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ترک ڈراما ارطغرل غازی 24 اپریل سے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر نشر کیا جا رہا ہے، مذکورہ ڈرامے نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے اور وہ پاکستان میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ڈراما بھی بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: جب تک لوگ کورونا کو سنجیدہ نہیں لیں گے، پاکستان نہیں آؤں گی، بشریٰ انصاری

اس ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں مسلمانوں کی فتوحات کے گرد گھومتی ہے، اس کی کہانی مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ کے قیام سے قبل کی ہے اور ڈرامے کی کہانی کو بہت سراہا جا رہا ہے۔

جہاں ارطغرل غازی کی کہانی کو سراہا جا رہا ہے، وہیں پاکستان میں اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کے حوالے سے بھی سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

بعض افراد کا ماننا ہے کہ غیر ملکی ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا جانا چاہیے تھا، تاہم کئی افراد کا کہنا ہے کہ جب کہ پی ٹی وی پر انگریزی فلمیں چلائی جا سکتی ہیں تو ترک ڈراما کیوں نہیں؟

ارطغرل غازی کو سرکاری ٹی وی پر اپریل سے نشر کیا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ
ارطغرل غازی کو سرکاری ٹی وی پر اپریل سے نشر کیا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ