استعفیٰ کسی نے نہیں مانگا اور نہ ہی ایسی کوئی پیشکش کی، وزیر ایوی ایشن

اپ ڈیٹ جون 04 2020

ای میل

وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فوٹو:ڈان نیوز
وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فوٹو:ڈان نیوز

وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے کے بعد ان سے کسی نے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ایسی پیشکش کی گئی ہے۔

لاہور میں پریس کانفرس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’جہاز میں کل 99 افراد تھے جن میں جہاز کے عملے کے 8 افراد بھی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاز کے عملے کے تمام افراد کا تعلق لاہور سے تھا اور وزیر اعظم کی ہدایت پر ان تمام کے اہلخانہ سے ملاقات کرنے کے لیے لاہور آئے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ بتایا کہ حادثے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ 22 جون کو عوام کے سامنے پیش کردیں گے۔

مزید پڑھیں: طیارہ حادثہ: ورثا کو فی کس 50 لاکھ روپے ملیں گے، ترجمان پی آئی اے

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئندہ روز سے قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز ہورہا ہے جس کے ایجنڈے میں طیارہ حادثہ بھی شامل ہے اور ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد منصفانہ انکوائری مکمل کرلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنے محکمے کو ہدایت دی ہیں کہ ماضی قریب میں ہونے والے تمام حادثات کی مکمل انکوائری رپورٹ بھی پیش کریں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ 10، 10 لاکھ روپے کے معاوضے تمام وارثین کو پہنچا دیے گئے صرف 3 یا 4 کے رہ گئے ہیں اور اس کام کو بھی جلد مکمل کرلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عملے کے افراد کے ادارے سے وابسطہ واجبات کو بھی متاثرہ خاندانوں تک فوری پہنچانے کی ہدایت کردی ہے۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے میں گھروں میں کام کرنے والی 3 بچیاں بھی جھلس گئی تھیں جن میں سے ایک جاں بحق ہوگئی تھی جسے ہم نے 10 لاکھ کا معاوضہ ادا کیا جبکہ زخمی کو 5، 5 لاکھ روپے ادا کیے ہیں۔

حکومت نے لوگوں کے املاک کے نقصان پر بھی معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا جائزہ لیا جارہا تاکہ منصفانہ طور پر انہیں ان کی املاک کے بدلے رقم دی جاسکے۔

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے کسی نے استعفیٰ نہیں مانگا، نہ ہی میں نے ایسی کوئی پیشکش کی تھی اور نہ ہی ایسا کوئی مطالبہ تھا‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے کی کسی پر ابھی تک کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ کے حوالے سے کچھ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، پائلٹ کا 25 سالہ کیریئر ریکارڈ ہے کہ اس سے کبھی کوئی کوتاہی نہیں ہوئی، مگر جب تک انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آتی کوئی رائے نہیں دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثے کی تحقیقات: ماہرین اپنی ٹیموں کے لیے ایک دوسرے سے الجھ پڑے

ان کا کہنا تھا کہ ’وقت سے پہلے ایسی کوئی بھی بات کرکے کسی کا دل نہ دکھایا جائے ماہرانہ رائے جب تک سامنے نہیں آتی ذمہ داروں کا تعین سے گریز کیا جائے‘۔

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پی آئی اے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو خصوصی طیارے سے واپس لے کر آرہا ہے اور اس کے لیے ہم نے افریقہ جیسے خصوصی مقامات جہاں پی آئی اے کی پرواز نہیں جاتی تھی، کے لیے بھی انتظامات کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن 10 مئی تک جاری رہے گا اور پی آئی کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تارکین وطن پاکستانیوں کو واپس لایا جاسکے۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔