جسٹس عیسیٰ کیس:فروغ نسیم سے تند و تیز سوالات،ریفرنس کی تجویز دینے والے کا نام بتانے پر زور

اپ ڈیٹ جون 04 2020

ای میل

سپریم کورٹ میں 10 رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
سپریم کورٹ میں 10 رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے کا معاملہ زیر سماعت ہے اور آج مسلسل تیسرے روز کیس کی سماعت کے دوران فل کورٹ نے حکومتی وکیل فروغ نسیم سے تندو تیز سوالات کیے اور ان پر زور دیا کہ وہ اُس حکومتی شخصیت کا نام بتائیں جس نے تعین کیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔

ساتھ ہی بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے سابق وزیر اطلاعات کی بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے یہ ریفرنس صرف کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگانے پر بنا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔

خیال رہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجا گیا تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کیس: 'قانون دکھادیں کہ جج کو اپنی اور اہلخانہ کی جائیداد ظاہر کرنا ضروری ہے'

اس معاملے پر اب تک طویل سماعتیں ہوچکی ہیں جبکہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان اس کیس میں پہلے وفاق کی نمائندگی کر رہے تھے تاہم ان کے مستعفی ہونے کے بعد نئے اٹارنی جنرل نے مذکورہ معاملے میں حکومتی نمائندگی سے انکار کردیا تھا۔

بعد ازاں مذکورہ معاملے کی 24 فروری کو ہونے والی آخری سماعت میں عدالت نے حکومت کو اس معاملے کے ایک کُل وقتی وکیل مقرر کرنے کا کہا تھا، جس کے بعد مذکورہ معاملے میں وفاق کی نمائندگی کے لیے فروغ نسیم نے وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اب وہ اس کیس میں پیش ہورہے ہیں۔

آج مسلسل تیسرے روز کیس کی سماعت ہوئی تو فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دینا شروع کیے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ اس کیس کی دو روز قبل سماعت میں عدالت نے حکومتی وکیل سے 4 سوالوں پر جواب طلب کیے تھے جبکہ فروغ نسیم نے ساتھ ہی ایک 'گمشدہ' دستاویز پیش کرکے سپریم کورٹ کو بھی حیران کردیا تھا کیونکہ اسی کی بنیاد پر جسٹس عیسیٰ کے خلاف بدعنوانی پر مبنی پورا صدارتی ریفرنس بھیجا گیا تھا لیکن یہ دستاویز نہ تو ریفرنس اور نہ ہی عدالت عظمیٰ کے پاس موجود تھی۔

آج (جمعرات) کو سماعت کے دوران فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت نے سوالات سے مجھے بہت معاونت فراہم کی، 27 ایسے قانونی نکات ہیں جن پر دلائل دوں گا۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کے سوالات ریفرنس کی مبینہ بدنیتی پر ہیں، عدالت نے اثاثہ جات وصولی یونٹ (اے آر یو)، اس کے کردار اور قانون سے متعلق سوال کیے ہیں۔

شکایت صدر کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو کو پذیرائی کیوں دی گئی، عدالت

جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ شکایت صدر مملکت کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو کو پذیرائی کیوں دی گئی جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ میں عدالت کے سوالوں پر بھی آؤں گا، پہلے مجھے حقائق بیان کرنے دیں اس میں مقدمے کو سمجھانے میں آسانی ہو گی۔

اسی دوران جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی وکالت کون کر رہا ہے، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت کی وکالت ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود اور وزیراعظم کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن کریں گے۔

حکومتی وکیل کی بات پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فروغ نسیم آپ اپنے انداز سے دلائل دیں اور آگے بڑھیں، ساتھ ہی جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے مواد پر اپنی رائے کیسے بنائی؟

یہ بھی پڑھیں: وزیر قانون فروغ نسیم ایک مرتبہ پھر اپنے عہدے سے مستعفی

اس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ صدر مملکت پیشے کے اعتبار سے دندان ساز ہیں، وزیر اعظم کرکٹر رہے ہیں اور سیاست کی ہے، صدر مملکت، وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہیں۔

فروغ نسیم کے مطابق اس قسم کی سمری پر اسٹڈیز اور متعلقہ وزارتوں سے رائے لی جاتی ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے اختیارات بڑے منفرد ہیں، صدر مملکت کا کردار جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوانے پر بڑا اہم ہے۔

عدالتی بینچ کے رکن کی جانب سے اس بات کے ساتھ ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ کہا کہ آرٹیکل 209 محض ایک آرٹیکل نہیں ہے بلکہ یہ عدلیہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہے۔

ریفرنس فائل کرنا کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے، جسٹس عمر عطا

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ریفرنس کے مواد پر صدر کو اپنا ذہن استعمال کرنا ہوتا ہے، ریفرنس فائل کرنا کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے، صدر مملکت آرٹیکل 48 کے تحت ریفرنس نا مکمل ہونے پر واپس بھیج سکتے ہیں، صدر مملکت ریفرنس بھجوانے کے مشورے پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ صدر مملکت مشورے پر ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل بھجوانے کے پابند ہیں یہ غلط دلیل ہے۔

سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے بیرون ملک اثاثے ہونے کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ بیرون ملک سے اثاثے لانے کا معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے غیر ملکی اثاثے واپس لانے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی جبکہ اس وقت شہزاد اکبر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب ہیں۔

شہزاد اکبر کی اہلیت و صلاحیت باقی جگہ پر بھی نظر آنی چاہیے تھی، جسٹس مقبول

اسی دوران جسٹس مقبول باقر نے یہ ریمارکس دیے کہ شہزاد اکبر کی اہلیت اور صلاحیت باقی جگہوں پر بھی نظر آنی چاہیے تھی۔

ساتھ ہی جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ اب تک اے آر یو کی کارکردگی کیا ہے؟ جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ٹاسک فورس بنانے کے فیصلے کے نتیجے میں اے آر یو کا قیام عمل میں آیا، کابینہ نے ہی ٹاسک فورس کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی۔

عدالت میں طویل سماعت کے موقع پر بینچ کے ایک اور رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ 28 اگست کو شہزاد اکبر معاون خصوصی بنے اور اسی دن ہی ٹاسک فورس کے قواعد و ضوابط بھی بن گئے، ایک ہی تاریخ میں سارا کام کیسے ہوگیا؟

اس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ شہزاد اکبر کو اثاثہ جات کے معاملے پر مکمل عبور ہے، تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے یہ کہا کہ فروغ نسیم اے آر یو کے بارے میں ہمیں کچھ بتادیں، اے آر یو کی انکوائری پر مواد صدر مملکت کے سامنے رکھا گیا۔

مزید پڑھیں: پی بی سی کا انور منصور، فروغ نسیم کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی پر زور دینے کا عندیہ

ساتھ ہی بینچ کے ایک اور رکن جسٹس منیب اختر نے یہ بات کہی کہ فروغ نسیم آپ کے پاس سوالوں کی قطار ہے جن کے جواب دینے ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ صدر مملکت کی رائے آزاد ہوتی ہے یا کسی پر منحصر ہوتی ہے، یہ بڑا اہم سوال ہے پہلے دیگر اہم چیزوں کو مکمل کریں۔

ساتھ ہی جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ یہ بتا دیں کہ عدالت عظمیٰ نے اے آر یو بنانے کا حکم کہاں دیا؟ جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ اے آر یو رولز آف بزنس کے تحت بنایا گیا، میری یہ دلیل نہیں کہ عدالت کے حکم پر اے آر یو کو بنایا گیا۔

لُوٹے گئے اثاثے بیرون ملک سے واپس لانا اے آر یو کے قیام کی وجہ بنی، فروغ نسیم

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اے آر یو کا قانون کے تحت بنے اداروں پر تھرڈ پارٹی اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟

جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اثاثوں کو غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر لے جانا عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

ساتھ ہی فروغ نسیم نے کہا کہ بیرون ملک سے لوٹے گئے اثاثے واپس لانا اے آر یو کے قیام کی وجہ بنی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ وزیراعظم کو معاون خصوصی لگانے کا اختیار ہے، شہزاد اکبر کو اے آر یو کا سربراہ کیسے لگادیا؟ اس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ وزیر اعظم رولز آف بزنس کے تحت اے آر یو جیسا ادارہ یا آفس بنا سکتے ہیں، اے آر یو کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے، اس کے قیام میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا، اس کا کام مختلف ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنا ہے۔

جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اے آر یو کو قانون کا تحفظ نہیں ہے، اس صورت میں اے آر یو کسی بندے کو چھیڑ نہیں سکتا، ساتھ ہی جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اے آر یو انکوائری کے لیے نجی ایجنسی کی خدمات کیسے حاصل کر سکتا ہے۔

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ ریمارکس دیے کہ ایف بی آر اور ایف آئی اے قانون کے تحت بنے ادارے ہیں، اے آر یو قانون کے تحت بنا ادارہ نہیں ہے تو پھر کسی معاملے کی انکوائری کیسے کر سکتا ہے۔

بینچ کے ایک اور رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے یہ کہا کہ ایف آئی اے کے پاس کرپشن تحقیقات کا اختیار ہے جبکہ اے آر یو کو وزارت داخلہ کے ماتحت ہونا چاہیے تھا۔

اس پر فروغ نسیم نے یہ کہا کہ کیا ایف آئی اے کو ججز کی تحقیقات کا اختیار ہے، جس کے جواب میں جسٹس مقبول باقر بولے کہ کیا پھر اے آر یو کو ججز کی تحقیقات کا اختیار ہے؟

وزیراعظم ریاستی اداروں کو کرپشن کی تحقیقات کا نہیں کہہ سکتے، جسٹس یحییٰ

اسی بات پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم ریاستی اداروں کو کرپشن کی تحقیقات کا نہیں کہہ سکتے، وزیر اعظم ایک نجی شخص کو بلا کر ذمہ داری دے دیتے ہیں۔

ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے یہ کہا کہ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ جج احتساب سے بالاتر ہے، ایف بی آر قانون کے تحت اپنی کارروائی کا مجاز تھا، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ایک سوال ہو تو میں جواب دوں۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کیس: حکومتی وکیل نے 'گمشدہ' دستاویز عدالت میں پیش کردی

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اصل میں آپ کی دلیل سے دلچسپی ہوتی ہے۔

سنگین نتائج کا عندیہ

دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اے آر یو کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کرسکتا، پھر یہ کس کے دماغ میں بات آئی کہ یہ کیس جج کے مس کنڈکٹ کا بنتا ہے، اس پر فروغ نسیم بولے کہ اے آر یو نے جج کے خلاف آرٹیکل 209 کی کارروائی کا نہیں کہا، جس پر ان سے سوال کیا گیا کہ پھر حکومت پاکستان کی جانب سے کس نے کہا کہ یہ معاملہ مس کنڈکٹ کا ہے۔

اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اس معاملے کے نتائج بھی ہوں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے میرے خیال سے اس معاملے پر مس کنڈکٹ کا ریفرنس بنانے کا فیصلہ درست نہیں تھا، صدر مملکت کو اپنی رائے بنانے میں بھی قانون کا حوالہ یا قانون کی سپورٹ ہونی چاہیے، صدر مملکت کو کسی مشورے پر اتفاق کرنے یا نہ کرنے پر وجوہات بتانی ہوتی ہیں۔

بینچ کے رکن کے ریمارکس کے بعد سربراہ بینچ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ روشن آئیڈیا کس نے دیا کہ معاملہ نیب اور ایف بی آر کو بھیجنے کے بجائے ریفرنس بنایا جائے، پہلے دن سے آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں جو اچھی بات ہے، آپ کے مطابق کارروائی کے لیے جواز مناسب ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اے آر یو کی ایف بی آر اور ایف آئی اے کو خط و کتابت ہورہی ہے، احتساب کی بات کی جارہی ہے۔

ساتھ ہی جسٹس منصور بولے کے ہم آپ کے حقائق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، آپ بھی ہمارے سوالوں کو انجوائے کرتے اور ان کی تعریف بھی کرتے ہیں۔

دوران سماعت شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر کا معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ اے آر یو نے وحید ڈوگر کی درخواست پر لندن سے معلومات لینا شروع کر دیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اے آر یو نے نتیجہ کیسے اخذ کیا کہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ روزہ نہ رکھنا بھی غلط کام ہے تو کیا اس پر بھی اے آر یو کارروائی کا کہہ سکتا ہے؟

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ ذہن میں رکھیں کہ اس اقدام کے نتائج بہت سنجیدہ ہوں گے۔

اس پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جسٹس یحییٰ بولے کہ اے آر یو کے قوائد کے مطابق ٹیکس کے معاملات ایف بی آر کو جانے تھے، ساتھ ہی جسٹس منصور نے کہا کہ اے آر یو عام لوگوں کے بارے میں خفیہ معلومات کیسے اکٹھا کر سکتا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کا مقدمہ ٹیکس قانون، غیرملکی زرمبادلہ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا ہے، اے آر یو نے معاملہ کی تحقیقات کی، اے آر یو نے ایف بی آر اور ایف آئی اے سے مدد لی، اے آر یو اپنے قوائد کے مطابق یہ مقدمہ نیب یا ایف بی آر کو بھیجنے کا مجاز تھا۔

اے آر یو نے جج کے مس کنڈکٹ کا تعین کیسے کر لیا؟ جسٹس منیب

انہوں نے کہا کہ 2013 میں لندن فلیٹس کی ٹرانزیکشن ہوئیں، اس وقت کے قانون کے تحت یہ منی لانڈرنگ نہیں تھی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے جج کے مس کنڈکٹ کا تعین کیسے کر لیا؟ اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے جج کے مس کنڈکٹ کی بات نہیں کی، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اُس حکومتی شخصیت کا نام بتائیں جس نے تعین کیا کہ جسٹس فائز عیسی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔

ساتھ ہی جسٹس سجاد علی شاہ بولے کے لندن کی جائیداد پر متعلقہ حکام نے نوٹس لے کر کارروائی کیوں نہیں کی۔

سماعت کے دوران جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اس وقت کی وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں ریفرنس پر تبصرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ جج صاحب نے کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگائی، لگتا ہے ریفرنس صرف کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگانے پر بنا۔

مزید پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کا وزیراعظم سمیت نامور ملکی شخصیات پر آف شور کمپنیز بنانے کا الزام

اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراطلاعات کی اس بات کو زیر بحث نہ لائیں، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی ٹیکس یا منی لانڈرنگ کی نہیں۔

حکومتی وکیل کے مطابق جوڈیشل کونسل نے جانچ پڑتال کرنے کے بعد شوکاز نوٹس جاری کیا، صدر مملکت کو جو معلومات ملیں انہوں نے جوڈیشل کونسل کو بھیج دیں۔

جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ ریفرنس کی تیاری میں بدنیتی ہوئی یا نہیں، کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ ریفرنس کی تیاری میں نقائص ہیں، اس پر فروغ نسیم نے کہ ریفرنس کی تیاری میں کوئی نقص نہیں۔

اس پر پھر جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ بتا دیں کہ معاملہ ٹیکس اتھارٹی کو بھیجنے کے بجائے ریفرنس بنانے کی تجویز کس نے دی، آپ یہ بتا دیں کہ ریفرنس میں جرم آپ نے کونسا بتایا ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 10 ہزار ٹیکس کی عدم ادائیگی پر ریفرنس نہیں بن جاتا، ایسا جرم بتائیں جس سے جج پر اعتماد مجروح ہوا ہو، جو سوالات اٹھائے ہیں ان کے جواب دیں۔

بعد ازاں مذکورہ کیس کی سماعت کو پیر تک ملتوی کردیا گیا۔

شہزاد اکبر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔

مذکورہ درخواست وکیل عالمگریز خان کی جانب سے اکرام چوہدری نے دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اپنایا کہ شہزاد اکبر نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف بیان دیا۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ شہزاد اکبر کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق بیان توہین عدالت ہے، شہزاد اکبر نے اپنے بیان میں جسٹس عیسیٰ کیلئے ملزم کا لفظ استعمال کیا تھا، لہٰذا ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کیس میں حکومت کو کُل وقتی وکیل مقرر کرنے کا حکم

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردار کشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ سماعت کررہا ہے۔