پی سی بی میں ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ شروع

اپ ڈیٹ 11 جون 2020

ای میل

مختلف شعبوں سے چند ملازمین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں— فوٹو بشکریہ پی سی بی
مختلف شعبوں سے چند ملازمین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں— فوٹو بشکریہ پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے ملازمین کی چھٹی کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور مختلف شعبوں سے چند ملازمین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

پی سی بی کے ترجمان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ کورونا وائرس کے سبب مرتب ہونے والے معاشی اثرات کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ یہ کارپوریٹ اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ عملہ پہلے ہی اضافی تھا۔

جن ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں نچلے درجے کے ملازمین جیسے کہ آفس بوائے وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان کو فارغ کیا جانا انتہائی حیران کن ہے کیونکہ ان کی معمولی تنخواہوں کسی بھی بورڈ پر بوجھ نہیں بن سکتیں لہٰذا ایسے مشکل وقت میں ان افراد کو نوکری سے فارغ کرنا انتہائی زیادتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے غریب طبقہ پہلے ہی کافی مشکلات سے دوچار ہے۔

جب پی سی بی کے ترجمان سے سوال پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس مشکل وقت میں ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ نیا مالی سال شروع ہونے والا ہے اور چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

جب ان سے کہا گیا کہ اگر برطرف ملازمین کو تین ماہ کی توسیع دی جائے تو انہیں اس مشکل وقت سے نبردآما ہونے میں مدد مل سکتی ہے لیکن ترجمان نے جواب دیا کہ یہ انتظامیہ کا فیصلہ ہے اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈان کو پتہ چلا ہے کہ پی سی بی نے اپنے سروسز ایکٹ میں 15مئی کو توسیع کی تھی جس کے لیے بورڈ آف گورنرز سے منظوری لی گئی تھی اور ترمیم کے بعد ہی عملے کو فارغ کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

پی سی بی کے ترجمان نے کہا کہ انہیں نوکری سے برطرف کیے جان والے افراد کی تعداد کا علم نہیں لیکن ان افراد کا تعلق مختل شعبہ جات سے ہے۔

ذراع کے مطابق پی سی بی نے لاہور سے آٹھ اور راولپنڈی سے تین افراد کو برطرف کر کے ایک ماہ کا نوٹس جاری کردیا ہے جس کی مدت 30جون کو ختم ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں تمام کرکٹ بورڈز کے مقابلے میں پی سی بی کا عملہ سب سے زیادہ ہے اور تقریباً 800 اراد بورڈ میں کام کرتے ہیں۔