کورونا وائرس پابندیوں سے 14 لاکھ روزگار ختم ہونے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 12 جون 2020
اقتصادی سروے 2019۔20 کے مطابق اگر محدود پابندیاں عائد کردی گئیں تو نوکری پیشہ 2.2 فیصد ملازمت کھودیں گے۔ فائل فوٹو:ڈان
اقتصادی سروے 2019۔20 کے مطابق اگر محدود پابندیاں عائد کردی گئیں تو نوکری پیشہ 2.2 فیصد ملازمت کھودیں گے۔ فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عائد پابندیوں کی وجہ سے توقع کی جارہی ہے کہ ملک میں تقریباً 14 لاکھ سے ایک کروڑ 85 لاکھ روزگار ختم ہوجائیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی سروے 2019۔20 کے مطابق اگر محدود پابندیاں عائد کردی گئیں تو 14 لاکھ ملازمتیں ضائع ہوجائیں گی جو ملازمت پر موجود افرادی قوت کا 2.2 فیصد ہے۔

مالیاتی لحاظ سے اجرت میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 23 ارب 6 کروڑ روپے ہوگا۔

ہلکے پھلکے لاک ڈاؤن سے ایک کروڑ 23 لاکھ تک روزگار کا نقصان ہوسکتا ہے جو ملازمت پر موجود افرادی قوت کا 20 فیصد حصہ ہے جبکہ اجرت میں 209 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔

اس کے علاوہ اگر مکمل شٹ ڈاؤن کیا جاتا ہے تو توقع ہے کہ کل ملازمت پر موجود افراد میں سے 30 فیصد یعنی ایک کروڑ 85 لاکھ افراد روزگار ہوجائیں گے، جس کی مالیت 315 ارب روپے ہوگی۔

مزید پڑھیں: اقتصادی سروے: کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73فیصد کمی کی گئی، عبدالحفیظ شیخ

عالمی معاشی رکاوٹ کی موجودہ صورتحال میں غیر ملکی آجروں کی جانب سے پاکستانی ورکرز کی ملازمت چھوٹنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

حکومت نے مزدور اور روزگار پر کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سروے کے مطابق وفاقی کابینہ نے پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے 12 کھرب 40 ارب روپے کے وزیر اعظم کے اقتصادی ریلیف پیکیج کی منظوری دی ہے۔

امدادی پیکیج کا مقصد معاشی سست روی سے متاثرہ معیشت کے مختلف شعبوں کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

حکومت نے مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے ہیں جو وائرس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

صنعتی شعبے خصوصاً برآمدی شعبے کی مدد کے لیے ان کی لیکویڈیٹی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے 100 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت اور زراعت کے شعبے کے لیے سود کی ادائیگی میں تاخیر کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ کسانوں کو مراعاتی قرضوں میں توسیع دی جائے گی تاکہ کاشتکار برادری کی لاگت کو کم کیا جاسکے۔

حکومت نے تعمیراتی صنعت کے لیے 100 ارب روپے کے پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے جسے کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدوروں کو روزگار کے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔

سروے کا کہنا ہے کہ صوبوں کے ساتھ مل کر حکومت معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کے ساتھ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپناتے ہوئے ملک میں معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی

اس کے علاوہ وائرس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں نے بھی امدادی پیکیجز کا اعلان کیا ہے۔

حکومت پنجاب نے روزانہ اجرت حاصل کرنے والے 25 لاکھ خاندانوں کی مالی امداد کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے عوام اور تاجر برادری کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے 32 ارب روپے کے محرک معاشی پیکیج کی منظوری دی۔ اس میں 11 ارب 04 کروڑ روپے 19 لاکھ مستحق خاندانوں کے لیے شامل ہیں جبکہ کاروباری برادری کو ٹیکسز میں چھوٹ کے لیے 5 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

حکومت سندھ نے کورونا ایمرجنسی راشن پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے لیے صوبے کے ہر ضلع کے لیے روزانہ اجرت حاصل کرنے والوں کو اشیائے خوردونوش تقسیم کرنے کے لیے 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلنے سے پوری دنیا میں اس کے منفی معاشرتی اور معاشی اثرات سامنے آئے ہیں۔

وبائی مرض نہ صرف سامان اور خدمات کی پیداوار بلکہ اس کی کھپت اور سرمایہ کاری کو بھی متاثر کررہا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں