قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی

ای میل

صوبوں کا ترقیاتی منصوبہ 674 ارب روپے پر مشتمل ہوگا —فوٹو: پی آئی ڈی
صوبوں کا ترقیاتی منصوبہ 674 ارب روپے پر مشتمل ہوگا —فوٹو: پی آئی ڈی

وزیرا عظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی۔

اسلام آباد میں منعقد ہونے والے این ای سی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے اقتصادی اہداف بھی طے کر لیے گئے۔

مزید پڑھیں: وبا کے اثرات ترقیاتی بجٹ پر بھی پڑنے لگے

بیان میں کہا گیا کہ آئندہ مالی سال میں ملک کے ترقیاتی منصوبے 1324 ارب روپے پر مشتمل ہوں گے جبکہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں اعلامیے میں بتایا گیا کہ صوبوں کے ترقیاتی منصوبے 674 ارب روپے پر مشتمل ہوں گے۔

اجلاس میں رواں مالی سال 20-2019 کے دوران معیشت کی حالت اور مالی سال 21-2020 کے آؤٹ لک کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت کی کوششوں کے بعد معیشت کی بہتری کو کووڈ 19 کی وجہ سے دھچکا لگا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں معاشی نظام کی بحالی اور خاص طور پر غریب طبقات کو لاک ڈاؤن کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حکومت کے اقدامات کو سراہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سے اخراجات منجمد کرنے، 49 کھرب کے ریونیو ہدف پر اتفاق

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق این ای سی اجلاس کو بریف کیا گیا کہ اگر لاک ڈاؤن کو مکمل طور پر ختم کرلیا جاتا ہے تب بھی کورونا وائرس کے اثرات کے دوسرے مرحلے سے ملک کی نمو کی کارکردگی زیر نگرانی رہنے کا امکان ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ترقی کے اہداف میں موسم کی موافق صورتحال، کورونا کے بعد معاشی ریکوری، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نمٹنا، مستقل معاشی اور مالی پالیسیاں شامل ہیں۔

اجلاس میں مالی سال 21-2020 کے لیے زراعت ، صنعت اور خدمات کی سیکٹرل گروتھ پروجیکشن کے ساتھ شرح نمو کے ہدف کو بھی منظور کرلیا گیا۔

اجلاس میں مالی سال 21-2020 کے لیے شرح نمو کے 2.1 فیصد ہدف کی منظوری دی گئی جس میں آئندہ سال میں زراعت میں 2.8 فیصد، صنعت 0.1 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 2.6 فیصد شرح ترقی شامل ہیں۔

ین ای سی کے اجلاس میں معاشی اقتصادی فریم ورک کے مجوزہ سالانہ منصوبے 21-2020 کو منظور کرلیا گیا۔

این ای سی نے مالی سال 20-2019 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام اور مالی سال 21-2020 کے مجوزہ ترقیاتی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اعلامیے کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پی ایس ڈی پی میں صرف وہی منصوبے شامل ہیں جن کو متعلقہ فورمز کی جانب سے پہلے ہی منظوری مل چکی ہے۔

بیان کے مطابق اس سے پی ایس ڈی پی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی ہوگا۔

مزید پڑھیں: قومی ترقیاتی کونسل کا بلوچستان کی ترقی، سیکیورٹی پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ

پی ایس ڈی پی 20-2019 کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی حکومت کے مختلف اقدامات سے ترقیاتی اسکیموں پر بروقت عمل درآمد سے ترقیاتی عمل کی رفتار بہتر رہی۔

ان اقدامات میں ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی)، سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) اور ایکنیک کے منظوری سے متعلق اختیارات میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا۔

اس ضمن میں اجلاس کو بتایا گیا کہ 827 ارب روپے کے 149 منصوبے 30 جون 2020 تک مکمل ہوجائیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 21-2020 کے پی ایس ڈی پی منصوبوں میں خاص طور پر بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں سمیت ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ سے 2 روز قبل قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس، 3 وزراء اعلیٰ کا واک آوٹ

علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کے نتیجے میں حکومت ان شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے جنہوں نے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، زراعت کے شعبے اور ملک میں صحت عامہ کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کا اعادہ کیا تھا۔

وزیر اعظم نے جاری منصوبوں کی پیشرفت پر نظر رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا۔

این ای سی نے قومی ترقیاتی منصوبے 21-2020 اور فیڈرل پی ایس ڈی پی کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن کے عہدیدار نے کہا کہ صوبوں نے رضا کارانہ طور پر اپنے ترقیاتی منصوبوں میں کمی کی ہے انہوں نے پہلے 783 ارب روپے کی مجموعی رقم مختص کرنے کا عندیہ تھا لیکن بعد میں 674 ارب روپے مختص کیے۔

پنجاب کا ترقیاتی بجٹ موجودہ برس کے 350 ارب روپے کے مقابلے میں آئندہ برس کے لیے 337 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی ہے۔

سندھ نے رواں برس کے 279 ارب روپے کے مقابلے میں 41 فیصد کمی کے ساتھ آئندہ برس کی ترقیاتی اسکیمز کے لیے 165 ارب روپے مختص کیے۔

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا نے ترقیاتی بجٹ میں 58 فیصد کمی کرتے ہوئے رواں برس کے 236 ارب روپے کے مقابلے میں 100 ارب روپے مختص کیے جبکہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے کا تخمینہ 31 فیصد کمی کے ساتھ رواں برس کے 109 ارب روپے کے مقابلے میں 75 ارب روپے ہے۔

دوسری جانب اس حوالے سے آزاد کشمیر کے 24.5 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے 15 ارب روپے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

عہدیدار نے بتایا کہ قبائلی علاقے کے 10سالہ ترقیاتی منصوبے کے تحت اسے مرکزی دھارے میں شامل کرنے اور ترقیاتی اسکیمز کے لیے 48 ارب روپے الگ رکھے گئے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ معیشت میں تیزی سے ریکوری کا امکان ہے جبکہ صنعتی اور خدمات کے شعبے ترقی کے امکانات کو فروغ دیں گے

علاوہ ازیں مالیاتی آسانی اور قرضوں میں ریلیف سے مالی پوزیشن بھی بہتر ہوگی جبکہ مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

اس کے ساتھ ہی صنعتی شعبے میں 0.1 فیصد ترقی کا ہدف طے کیا گا، مینوفیکچرنگ سیکٹر 0.7 فیصد سکڑنے کا امکان ہے جو بڑے پیمانے پر پیداوار میں 2.5 فیصد کمی پر مبنی ہوگی۔