مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کردی، وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 26 جون 2020

ای میل

عمران خان نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ تک کا علاج مفت ہوسکے گا—فوٹو: ڈان نیوز
عمران خان نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ تک کا علاج مفت ہوسکے گا—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کردی ہے۔

لائن آف کنٹرول کے رہائشیوں کے لئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'بھارتی فوجیوں کی ایل او سی پر بلا امیتاز و بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نیتجے میں پیدا ہونے والے حالات کا ادراک ہے'۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کو ایشیائی تنظیم کا خط، سوشل میڈیا قواعد پر انتباہ

احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت کے علاوہ پورے آزاد کشمیر اور انضمام شدہ اضلاع میں تمام لوگوں کو صحت کارڈز بھی فراہم کئے جائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں ایل او سی پر رہنے والے شہریوں کی مشکلات کا علم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی کی سوچ ہٹلر کی سوچ ہے کیونکہ وہ ایک نارمل انسان نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ایک لاکھ 38 ہزار خاندانوں کو امداد دی جائے گی جبکہ آزاد کشمیر میں 12 لاکھ خاندانوں کو صحت انصاف کارڈز فراہم کئے جائیں گے اور اس طرح پورے آزاد کشمیر میں تقریباً تمام لوگوں کو یہ سہولت میسر آئے گی جس کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک علاج کرایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے مستحقین میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کئے، آزاد جموں و کشمیر کے صدر، وزیراعظم، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر اور وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر بھی تقریب میں موجود تھیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کشمیریوں کو شہید کیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی طاقت کشمیریوں کے جذبے کو ختم نہیں کرسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کو دکھانے والے فوٹوگرافرز نے ایوارڈ جیت لیا

وزیراعظم نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر بھی مسلمان ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں، آر ایس ایس ہٹلر کی نازی سوچ کی پیروکار ہے اور ہندو بالادستی کے نظریئے کے ساتھ مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں، سکھوں اور دیگراقلیتوں کو بھی دوسرے درجے کے شہری بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کشمیریوں کا وکیل بن کر پوری دنیا میں ان کا مقدمہ پیش کیا جبکہ دنیا کو ہندوستان پر قابض خطرناک سوچ کے بارے میں بھی آگاہی دی۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہاں آزاد مارچ کے نام پر ہماری اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، ہم نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ بنائیں۔

بعد ازاں سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں تشدد کے شکار متاثرین کی حمایت میں عالمی دن کے موقع پر انہوں نے کہا کہ 'مقبوضہ کشمیر میں خواتین، مردوں اور بچوں کو پیلٹ گنوں، جنسی زیادتیوں اور جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے'۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا میں ہندوتوا مودی حکومت کے مظالم کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانیت سوز قوانین کے منافی ہے اور یہ ناقابل قبول ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مودی جماعت آر ایس ایس کی پیداوار ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے کریلا سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے خاتون زخمی ہوگئیں تھیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 'بھارتی فوج نے ایل او سی سے ملحق کریلا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا'۔

خیال رہے کہ 16 جون کو بھارتی فوج نے ایل او سی سے ملحق بگسر سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس میں ایک شہری زخمی ہو گیا تھا۔

بھارتی فوج نے 12 جون کو بھی آزاد جموں و کشمیر کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں بزرگ خاتون جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔